My Article For Published

13 views
Skip to first unread message

Javed Jamaluddin Javed

unread,
Jan 10, 2026, 2:20:04 AM (4 days ago) Jan 10
to aaj ki khabar daily, Siraj Aarzu, Urdu Lucknow Aman Abbas, Abdul Haleem Siddiqui, Alam Gir, Anware Qaum, Abdul Majid Nizami, ekqaum.u...@gmail.com, BEBAAK Urdu News paper Malegaon, Buland Kashmir, kashmakash beed, Bombay Meraj, urdu daily alhilal times beed, BAZMe...@googlegroups.com, The Siasat Daily, editor Chattan, Hamariweb. com, Daily Roshni, Waraqu-e-Taza TV, Roznama Rashtriya Sahara, Zahoor Shora, inquilab-e- Deccan, qasid daily, The Editor Etemaad daily, Qaumi_...@rediffmail.com, Kashmir Rays, Farooqui Tanzeem, Fajr Nama, a majid nizami, Halat-e-Watan Varansi, Halaat E Nau, Sada-e-Hussaini (Daily), Al Ittehad Publications, inqui...@rediffmail.com, inqalabehind, siyasat jadeed, jamhoor...@gmail.com, Ameen Nawaz Journalist, Sadae Watan Jadeed, Jadeed Mail, Ahmed Khan, shoeb khusro, kas...@urdustan.com, lazawa...@gmail.com, lohi...@gmail.com, QAUMI TANZEEM LUCKNOW, awaje mulk varanasi, mashriq92, Maqsood Yamani, mashriq786, NANDED TIMES, Neshat Urdu, oo...@yahoo.com, pasbane hind, The Pyari Urdu Patna, qaumitanzeem patna, qaumitanzeem patna, TAASIR PATNA, Roznama Patna, qaumi....@gmail.com, MAQDOOM QUAZI, Akhbar Mashriq, Tameer Urdu, wadoo...@gmail.com, waraquetazadaily, yaqeen sadiq
بنگال میں ای ڈی چھاپہ، ممتا کی مزاحمت اور مرکز–ریاست تصادم کا نیا باب
جاوید جمال الدین 
مغربی بنگال میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی حالیہ کارروائی نے ایک بار پھر مرکز اور ریاست کے درمیان جاری کشمکش کو شدت بخش دی ہے۔ کولکاتہ میں سیاسی مشاورتی ادارے انڈین پولیٹیکل ایکشن کمیٹی (آئی-پیک) سے وابستہ مقامات پر ای ڈی کی چھاپہ ماری اور اس کے دوران وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی اچانک آمد نے اس واقعے کو محض تفتیشی عمل کے بجائے ایک بڑے سیاسی منظرنامے میں تبدیل کر دیا۔ اس پوری پیش رفت نے نہ صرف ریاستی سیاست کو گرما دیا بلکہ قومی سطح پر تفتیشی اداروں کے کردار، وفاقی حدود اور انتخابی سیاست پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ای ڈی کا دعویٰ ہے کہ اس کی کارروائی منی لانڈرنگ اور کوئلہ بدعنوانی سے متعلق تحقیقات کا حصہ ہے، جس کے تحت مغربی بنگال اور دہلی میں متعدد مقامات پر تلاشی لی گئی۔ تاہم سیاسی حلقوں میں سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ برسوں پرانے معاملات میں اچانک سرگرمی، وہ بھی ایسے وقت میں جب ریاست میں انتخابی ماحول بن رہا ہو، محض اتفاق ہے یا کسی منظم سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ مرکزی تفتیشی ایجنسیاں جب بھی اپوزیشن کے زیرِ اقتدار مضبوط ریاستوں میں متحرک ہوتی ہیں تو ان کی نیت اور وقت بندی پر شکوک کا اظہار فطری ہو جاتا ہے۔
اس معاملے کو مزید حساس اس حقیقت نے بنا دیا کہ جس ادارے پر چھاپہ مارا گیا، وہ ایک سیاسی کنسلٹنسی فرم ہے جو انتخابی حکمت عملی، رائے عامہ کے تجزیے اور سیاسی منصوبہ بندی میں مہارت رکھتی ہے۔ ترنمول کانگریس کا الزام ہے کہ ای ڈی کی اصل دلچسپی مالی تفتیش سے زیادہ پارٹی کی اندرونی انتخابی تیاری، امیدواروں کی فہرست اور سیاسی منصوبوں تک رسائی میں تھی۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اسی بنیاد پر ای ڈی پر ’’سیاسی سرقہ‘‘ کا سنگین الزام عائد کیا اور مرکزی حکومت کو براہ راست کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔
ممتا بنرجی کا خود موقع پر پہنچنا ایک غیر معمولی اور علامتی قدم تھا۔ انہوں نے نہ صرف ای ڈی افسران کے سامنے سوالات اٹھائے بلکہ وہیں پریس کانفرنس کر کے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور بی جے پی حکومت پر سخت حملہ کیا۔ ان کا یہ کہنا کہ ’’اگر بی جے پی میں ہمت ہے تو وہ جمہوری طریقے سے ہم سے جیت کر دکھائے‘‘ دراصل بنگال کی سیاست میں ایک پرانا مگر مؤثر بیانیہ دہرانا ہے، جس میں مرکز کو ریاستی خود مختاری کے لیے خطرہ اور خود کو مزاحمت کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ممتا بنرجی اس پورے واقعے کو محض دفاعی ردِعمل تک محدود نہیں رکھنا چاہتیں بلکہ اسے ایک جارحانہ سیاسی موقع میں بدلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ بنگال میں مرکزی مداخلت کے خلاف عوامی حساسیت کو دیکھتے ہوئے یہ حکمتِ عملی ترنمول کانگریس کے لیے انتخابی فائدہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ ماضی میں بھی جب مرکز اور ریاست آمنے سامنے آئے، ممتا بنرجی نے خود کو عوامی حقوق اور وفاقی وقار کی محافظ کے طور پر پیش کر کے سیاسی فائدہ حاصل کیا ہے۔
دوسری جانب ای ڈی نے وزیر اعلیٰ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تفتیش مکمل طور پر قانونی دائرے میں کی جا رہی ہے اور ریاستی حکومت کی جانب سے کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ ای ڈی کا کولکاتہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنا اس بات کی علامت ہے کہ یہ تنازعہ اب سڑک اور میڈیا سے نکل کر عدالتی میدان میں داخل ہو چکا ہے۔ تاہم اس قانونی جنگ کے دوران اداروں کی ساکھ اور عوامی اعتماد سب سے زیادہ آزمائش میں ہیں۔
یہ واقعہ محض بنگال تک محدود نہیں بلکہ اسے ہندوستان میں مرکز اور اپوزیشن کی زیرِ اقتدار ریاستوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم کے تسلسل میں دیکھا جا رہا ہے۔ دہلی، مہاراشٹر، جھارکھنڈ اور تمل ناڈو جیسے ریاستوں میں بھی مرکزی ایجنسیوں کی کارروائیوں پر سیاسی انتقام کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ اس پس منظر میں یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ آیا ہندوستان کا وفاقی ڈھانچہ طاقت کے بڑھتے ہوئے ارتکاز کے باعث دباؤ میں آ رہا ہے۔
انتخابی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ تنازعہ دونوں فریقوں کے لیے دو دھاری تلوار ثابت ہو سکتا ہے۔ بی جے پی اسے بدعنوانی کے خلاف اپنی سخت پالیسی کے ثبوت کے طور پر پیش کر سکتی ہے، مگر اگر عوام میں یہ تاثر مضبوط ہو گیا کہ ای ڈی سیاسی آلہ بن چکی ہے تو اس کا فائدہ ترنمول کانگریس کو مل سکتا ہے۔ دوسری جانب ممتا بنرجی کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ خود کو ایک ایسی رہنما کے طور پر پیش کریں جو مرکزی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے کھل کر مزاحمت کرتی ہے۔
آخرکار، بنگال میں ای ڈی کی کارروائی اور اس پر پیدا ہونے والا سیاسی طوفان ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتا ہے: کیا تفتیشی ادارے سیاست سے بالاتر رہ پائیں گے، یا وہ آنے والے دنوں میں انتخابی سیاست کا مستقل حصہ بن جائیں گے؟ اس سوال کا جواب نہ صرف مغربی بنگال بلکہ پورے ملک کی جمہوری صحت اور وفاقی توازن کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

Javed Jamaluddin,
 Editor In Chief ./HOD

Contact :9867647741.
02224167741


Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages