حشر? مشرقی تہذیب کے دل دادہ تھے۔ مغربی تہذیب سے انھیں سخت نفرت تھی۔ملک کی سیاسی اور قوم کی زبوں حالی پر ان کا حسّاس دل تڑپ اٹھتا تھا۔ حب الوطنی اور حصولِ آزادی کا جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ مغربی تہذیب ومعاشرت کی کورانہ تقلید انھیں انتہائی نا پسند تھی۔ ان کے کئی ڈرامے ان نظریات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ حشر ایک طرف مشرقی اقدار کے پرستار اور دوسری طرف جذب? اسلام سے سرشار تھے۔”شکری? یورپ’‘ اور ”موجِ زمزم’‘ ان کی وہ بے مثال نظمیں ہیں جن کا ایک ایک لفظ اسلام سے محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے۔ یہ نظمیں زبان وبیان ، فنّی کاریگری ، ادبی لطافت اور ابلتے ہوئے جذبات کا حسین امتزاج اور شاہکار ہیں۔ان نظموں میں علامہ اقبال کا رنگ غالب ہے۔
آغا حشرکے زورِ خطابت اور تقریر کا اعتراف ان کے دوست تو کرتے ہی تھے مگر حریف بھی ان کی قابلیت کا لوہا مانتے تھے۔ ”انجمن حمایتِ اسلام’‘ لاہور کے جلسوں اور بمبئی کی مجالسِ مناظرہ میں روح پرور تقریروں کی بدولت حشر سامعین کے دلوں پر چھا جاتے۔ مناظروں میں مبلغین اور آریہ سماجیوں کے چھکّے چھڑا دیتے۔ ان مناظروں میں حشرکے ساتھ مولانا ابو الکلام آزاد ، سجّاددہلوی، خوا جہ حسن نظامی، مولانا ابوالنصری اور نذیرحسین سخا ہوتے جن کے سامنے مخالفین گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتے۔اسلام کی تبلیغ اور اس کے تحفظ کے لیے آغا حشرنے ہمیشہ مذہبی جوش اورسرگرمی کا ثبوت دیا۔’انجمنِ حمایتِ اسلام‘ لاہور کے جلسے میں جس وقت انھوں نے ’ شکریہ یورپ‘ کے مناجات والے بند کا پہلا شعر پڑھا
آہ جاتی ہے فلک پر رحم لا نے کے لیے
بادلو ! ہٹ جاؤ دے دو راہ جانے کے لیے
تو سامعین کے ہاتھ بے اختیار دعا کے لیے اٹھ گئے اور آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب جاری ہو گیا۔
آغا حشر خلیق اور با مروت ، وسیع القلب اور وسیع الذہن انسان تھے غرور و تکبّر سے انھیں سخت نفرت تھی۔ سخن فہموں کے قدر دان تھے۔ لطیفہ گوئی اور بذلہ سنجی میں ان کا کوئی ہمسر نہ تھا۔ ان کا کما ل یہ تھا کہ لطیفوں اور چٹکلوں میں خشک سے خشک بحث بھی اس طرح کرتے کہ سننے والا متاثر ہو جاتا۔ دوسروں کی مدد کرنا ان کا شیوہ تھا۔ ان کے غصے میں بھی پیار تھا۔ حشر? گالیاں دینے میں بڑے ماہر تھے۔ حتیٰ کہ مشہور فن کارہ اور گلو کارہ مختار بیگم کو جنھیں وہ اپنی جان سے زیادہ چاہتے تھے گا‘لیاں دینے سے نہ چوکتے۔ اس فن کارہ نے ان کی زندگی اور ڈراما نگاری میں بڑا اہم رول ادا کیا تھا۔ حشرنے ان سے شادی کر کے اپنی بے پناہ محبت کا ثبوت دیا۔ بقول مختار بیگم مرحومہ ”میں جب ان کی زندگی میں داخل ہو گئی تو انھوں نے بتایا کہ میں ساری زندگی اپنے آپ کو مصرع سمجھتا رہا۔ تمھارے ملنے سے شعر بن گیا ہوں، میری نا مکمل زندگی کے ساتھ ساتھ تم نے میری شاعری کو بھی مکمل کر دیا ہے۔ اب میری تحریر اس قدر بلندی پر جا پہنچی ہے کہ مجھے کوئی دوسرا نظر ہی نہیں آتا “۔
حشر شراب کے عادی تھے لیکن آخری عمر میں انھوں نے منہ سے لگی ہوئی اس کافر کو چھوڑ دیا تھا اور پھر کبھی نہ پی۔
حشرکی آخری عمر لاہور میں گزری۔وہ زندگی کے اخیر دنوں میں بیمار تھے اور حکیم فقیر محمد چشتی کے زیرِ علاج رہے جو ان کے عزیز ترین دوستوں میں سے تھے۔ وہ اپنے ڈرامے بھیشم پر تگیا (بھیشم پتاما) “ کو فلمانے کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ28اپریل1935کو پیغامِ اجل آ پہنچا۔ لاہور میں قبرستان میانی صاحب میں سپردِخاک کیے گئے۔ یہیں آغا حشرکی بیوی بھی دفن ہیں۔
حشرکے انتقال پر ابوالاثر حفیظ جالندھری،حکیم محمدیونس،پنڈت نرائن پرشاد بیتاب بنارسی اور فرحت اللہ بیگ نے قطعات اور تاریخِ وفات کہی۔ بیتاب نے حشرکے فن کی عظمت کا اعتراف اور ان کی وفات پر اپنے جذبات کا اظہار اس طرح کیا ہے۔
اے حشرکہ تو رقیبِ فن تھا میرا
آخر مجھے تو نے جیت کر ہی چھوڑا
لکھنے میں تو تھا ہی توہمیشہ آگے
مرنے میں بھی بیتاب سے پیچھے نہ رہا
ناٹک جو لکھا ملک میں مقبول ہوا
فقرہ جو تراشا وہی منقول ہوا
تھا رنگِ زباں بھی اس قدر معنی خیز
اسٹیج پہ تھوکا بھی تو اک پھول ہوا
حکیم محمد یونس کی کہی ہوئی تاریخِ وفات یہ ہے
ہر زباں پر مصرعِ تاریخ ہے
ہائے اے آغا محمد شاہ حشر
1354ھ مطابق1935
آغا حشر کا فن تمثیل نگاری
آغا حشرکو ڈرامے سے ذہنی لگاؤ اور طبعی مناسبت تھی۔ان کے دورانِ تعلیم بنارس میں الفریڈ کمپنی پہنچی۔ اس زمانے میں ڈرامے کی دنیا میں میر حسن احسن لکھنوی کا بڑا شہرہ تھا۔ اس کمپنی کے دکھائے گئے کھیلوں میں سب سے زیادہ کامیابی احسن? کے ’چندراؤلی‘ کو ملی۔حشربھی کھیل دیکھنے جاتے تھے، چنانچہ ان کی سوئی ہوئی صلاحیتیں جاگ اٹھیں اور انھوں نے ” آفتابِ محبت’‘ کے نام سے اپنا پہلا ڈراما لکھا۔گویا ان کی ڈراما نگاری کے سفرکا یہ آغاز تھا۔حشرنے کمپنی کے مالک کو جب اپنا یہ ڈراما دکھا یا تو اس نے اسے اسٹیج کرنے سے انکار کر دیا۔ مالک کے رویے اور اس کے انکار کا ردِ عمل حشرپر یہ ہوا کہ انھوں نے اپنی پوری زندگی ڈراما نگاری کے لیے وقف کر دی اور کچھ ہی عرصے بعد وہ اسٹیج کی دنیا پر چھا گئے۔ حشر کا یہ پہلا ڈراما ، اسٹیج تو نہ ہو سکا لیکن ” بنارس کے جواہراکسیر کے مالک عبد الکریم خاں عرف بسم اللہ خاں نے ساٹھ روپے میں خرید لیا اور اپنے پریس میں چھاپ ڈالا۔ سال طباعت1897ہے “۔متعدد وجوہ ایسی تھیں کہ حشر بنارس میں رہ کر نہ تو فنِ تمثیل نگاری کی خدمت کر سکتے تھے اور نہ اپنے طبعی رجحان اور جذبے کی تکمیل کر سکتے تھے۔دوسرے اس زمانے میں شرفا ڈراما دیکھنا پسند کرتے تھے نہ اس کے فن کو سراہتے تھے بلکہ اس میں شریک ہونا بھی باعثِ عار سمجھتے تھے۔ تیسرے ڈرامے کو ادبی اور علمی کام نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے حشر اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے کے لیے بنارس چھوڑ کر بمبئی چلے گئے۔ ” بمبئی میں کاؤس جی کھٹاؤ نے 53روپے ماہانہ پر آغا صاحب کو اپنی کمپنی میں ملازم رکھ لیا۔ یہ آغا حشرکی تمثیل نگاری کا سنگِ بنیاد تھا “۔اس کے بعد انھوں نے اردشیردادا بھائی ٹھونٹی کی کمپنی میں ملازمت کی۔کچھ عرصہ ا لفریڈ ٹھیئٹریکل کمپنی سے وابستہ رہے۔ نیو الفریڈ تھیئٹریکل کمپنی کے تو وہ خاص ڈراما نگار تھے۔ حشرکے ڈرامے پارسی اسٹیج پر عرصہ دراز تک کھیلے جاتے رہے جس سے حشرکی شہرت میں چار چاند لگ گئے اور کمپنیوں کو بھی خوب مالی فائدہ ہوا۔ حشرنے اپنی ایک کمپنی حیدر آباد میں قائم کی لیکن یہ بند ہو گئی۔1912 یا 1913میں لاہو رمیں اپنی دوسری کمپنی’ ’انڈین شیکسپیرتھیئٹریکل کمپنی’‘ کے نام سے بنائی لیکن کچھ عرصے بعد یہ کمپنی بھی بند ہو گئی۔
۱۹۱۴ میں آغا حشر کی رفیق حیات کا انتقال لاہور میں ہو گیا۔ ناسازگاری? حالات کی وجہ سے وہ کلکتہ چلے گئے۔ علم الدین سالک لکھتے ہیں کہ” کلکتہ میں آغا صاحب جے۔ایف۔میڈن کے پاس گیارہ روپیہ ماہوار پر ملازم ہو گئے اور کئی برس وہاں مقیم رہے’‘۔ اس دوران حشر نے زیادہ تر ہندی ڈرامے لکھے۔ کلکتہ میں میڈن تھیٹرز میں حشر کے ڈراموں کی کامیابی کے بارے میں ممتاز فن کارہ مختار بیگم نے اپنے ایک انٹرویو میں اس طرح اظہارِ خیال کیا ہے ”آغا حشرکے اسٹیج ڈر اموں کی مقبولیت کی وجہ سے میڈن تھیٹرز بہت عروج پر جاچکا تھا۔ آغا صاحب اپنے ڈراموں کی موسیقی خود ہی ترتیب دیتے تھے۔ حالانکہ وہ گا نہیں سکتے تھے لیکن یہ ا ±ن کی بڑی خوبی تھی کہ وہ اپنے خیالات اشاروں کنایوں سے میوزک ڈا ئرکٹرکوسمجھاکراپنا مقصد پورا کر لیتے تھے اور بہترین طرزیں بنا لیتے تھے۔ ان سب خوبیوں کے باوصف ان میں اچھی آواز کی کمی تھی۔ ان کے ڈرامے جس قدر معیاری تھے اور جس طرح ان کی بر صغیر میں دھوم مچی تھی ،اس لحاظ سے میڈن والوں کے پاس فنِ موسیقی کی اعلیٰ درجہ کی کوئی فنکارہ نہیں تھی’‘۔
”1928میں جب یہ کمپنی امرتسرآئی تو آغا حشر کے ڈراموں ” آنکھ کا نشہ’‘ ”ترکی حور’‘ اور ”یہودی کی لڑکی’‘ نے ایک حشر برپا کر دیا’‘۔
علم الدین سالک کا یہ بھی بیان ہے کہ”1924میں آپ نے میڈن تھیئٹرسے قطع تعلق کر لیا اور اپنی کمپنی بنا کر آگرہ ، بنارس ، الہ آباد، اور دیگر مقامات کی سیرکی ، ہزہائینس چرکھاری نے آپ کا کھیل دیکھا۔ پچاس ہزار روپیہ دے کر کمپنی خرید لی اور خود آغا صاحب کی شاگردی اختیار کر لی۔ یہ کمپنی کچھ عرصے کے بعد پھر آغا صاحب کو عطا کر دی گئی جو بانس بریلی جا کر بند ہو گئی’‘۔چرکھاری سے جب دوبارہ کلکتہ پہونچے تو ڈراما کی دنیا ہی بدل چکی تھی۔ متکلم فلموں نے تھیٹرؤں کا بازار بالکل سرد کر دیا تھا۔ آغا صاحب نے ”شیریں فرہاد’‘ کے بعد” عور ت کا پیار’‘ لکھ کر ہندوستانی فلموں میں قابل قدر اضافہ کیا “۔(۱۷) کلکتہ سے آغا حشر? لاہور چلے گئے جہاں انھوں نے داعی اجل کو لبیک کہا۔
”شریں فرہاد’‘ اور ”عورت کا پیار “ کے علاوہ حشر نے ”یہودی کی لڑکی “ ”قسمت کا شکار’‘ ”چنڈی داس’‘ ”دل کی آگ’‘ ”شہیدِ فرض’‘ ”بلوا منگل “ ”لوکش’‘ ”رستم وسہراب’‘ او ر ”بھیشم پتاما’‘ فلمی ڈرامے لکھے’‘۔ دورانِ گفتگو ”عورت کا پیار’‘ کی مقبولیت کا ذکر کرتے ہوئے مختار بیگم نے راقمہ سے فرمایا تھا کہ یہ ڈراما بہت کامیاب رہا۔ سب سے زیادہ مشہور ہوا۔ ایک ایک شہر میں دس دس بار دکھا یا گیا۔ اس ڈرامے میں یہ غزل میں نے گائی تھی’‘
چوری کہیں کھلے نہ نسیمِ بہار کی
خوشبو اڑا کے لائی ہے گیسوئے یار کی
اللہ رکھے اس کا سلامت غرورِحسن
آنکھوں کو جس نے دی ہے سزا انتظار کی
گلشن میں دیکھ کر مرے مستِ شباب کو
شرمائی جا رہی ہے جوانی بہار کی
اے میرے دل کے چین مِرے دل کی روشنی
آ، اور صبح کر دے شبِ انتظار کی
اے حشر دیکھنا تو یہ ہے چودہویں کا چا ند
یا آسماں کے ہاتھ میں تصویر یار کی
آغا حشر? ۳۲ یا ۳۳ سال تک ڈرامے کی خدمت کرتے رہے۔ انھوں نے بیک وقت اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں ڈرامے لکھ کر اپنی فن کارانہ صلاحیت اور زبان دانی کا لوہا منوا لیا۔ آغا جمیل صاحب نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ اردو ہندی ڈراموں کے علاوہ 1922میں اسٹار تھیئٹر یکل کمپنی کلکتہ کے لیے دو ڈرامے ”اپرادھی کے “ اور ”مصر کماری’‘ بنگلہ زبان میں آغا صاحب نے لکھے تھے جو بہت مقبول ہوئے “۔ بیتاب بنارسی نے آغا حشرکو ہندی میں ڈرامالکھنے کا چیلنج دیا تھا جس کے جواب میں حشرنے ہندی میں ”بلوامنگل’‘ (سورداس) ”بن دیوی عرف بھارت رمنی’‘ لکھ کر بیتاب کا منہ بند کر دیا۔ ”مدھر مرلی’‘” آنکھ کا نشہ’‘ ”بھگیرت گنگا’‘ ”سیتا بن باس’‘ اور ”بھیشم پر تگیا’‘ کے سامنے تو بیتاب? کے ہندی ڈراموں کی شہرت ماند پڑ گئی۔
حشر? نے اپنے کئی ڈراموں کے پلاٹ شیکسپیر اور دوسرے مغربی مصنفین کے ڈراموں سے اخذ کیے ہیں۔ جیسے ”اسیرِحرص’‘ شیریڈن کے ”پزارو (Pizarro)’‘ سے، ”مریدِ شک’‘ شیکسپیر کے ”دی ونٹرس ٹیل’‘ (The Winter's Tale) “ سے ، ”صیدِ ہوس’‘ ”کنگ جان’‘ (King John)’‘ سے ، ”شہیدِ ناز’‘ ” میثر فار میثر (Measure For Measure)’‘ سے ، ”سفید خون’‘ ”کنگ لیئر (King Lear) “ سے ، ”خوابِ ہستی “ ”میکبتھ (Macbeth)’‘ سے ، ”سلورکنگ یا نیک پروین یا اچھوتا دامن یا پاک دامن’‘ ”ہنری آرتھر جونز اور ہنری ہیرمین (Henry Arthur Jones) اور
(Henry Herman) کے سلورکنگ “سے ، اور ”یہودی کی لڑکی “ ڈبلیو ، ٹی ، مانکریف (W.T.Moncriefe) کے ”دی جیوس’‘ (The Jewess)’‘ سے ماخوذ ہے۔
حشر? نے مندرجہ بالا ڈراموں کو اردو کا لباس اس طرح پہنایا ہے کہ کہیں ان کے کچھ اجزا بعینہ لے لیے ہیں،کہیں قدرے تبدیلی کے ساتھ انھیں پیش کیا ہے اور کہیں صرف مفہوم پر اکتفا کیا ہے۔ان ڈراموں کے پلاٹ انگریزی ڈراموں سے لیے تو ضرور گئے ہیں مگر حشرنے انھیں ہندوستانی تہذیب و معاشرت اور ماحول و روایت کا جامہ اس طرح پہنا یا ہے کہ وہ غیر زبان اور مغربی تہذیب کی دین نہیں معلوم ہوتے بلکہ ان میں مانوس کرداروں اور جانے پہچانے ماحول کی عکاسی ملتی ہے۔ اس کے علاوہ ان میں اپنے طرزِ معاشرت کے نمونے اور ملک و قوم کے ذہنی پس منظر کی ترجمانی بھی ہے اور مشرقی اقدار کی آئینہ داری بھی۔ برخلاف انگریزی ڈراموں کے حشر کے ڈراموں کا انجام طربیہ ہے۔
حشر کے چند ڈرامے ایسے ہیں جو قدیم ہندوستانی تہذیب و معاشرت اور ہندو دیو مالا یعنی رامائن اور مہا بھارت کے قصوں پر مبنی ہیں۔جیسے بلوا منگل عرف سورداس ،بن دیوی ،مدھر مرلی ، سیتا بن باس اور بھیشم پرتگیا وغیرہ۔ان ڈراموں کی زبان زیادہ تر ہندی ہے۔
ان کے علاوہ کچھ ڈرامے ایسے ہی معاشرتی ،اصلاحی اور سیاسی موضوعات سے متعلق ہیں۔جیسے ”خوبصورت بلا’‘ ”ترکی حور’‘ ”ٹھنڈی آگ’‘ ” آنکھ کا نشہ’‘ ” پہلا پیار’‘ ”بھارتی بالک عرف سماج کا شکار’‘ ”دل کی پیاس’‘ اور”رستم و سہراب’‘(فردوسی کے شاہنامہ سے ماخوذ)وغیرہ۔
فنِ تمثیل نگار ی میں حشر? کے تدریجی ارتقا ،ان کی فنّی بصیرت ،ادبی عظمت اور مقام و مرتبے کو سمجھنے اور متعین کرنے کے لیے ان کے ڈراموں کو عموماً چار ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔اس لیے کہ ہر اگلا دور حشر? کے فن کی بعض نئی خصوصیات کا حامل ہے۔حشرنے جب اپنی ڈراما نگاری کا آغاز کیا تو اس دور میں مالکانِ کمپنی اور عوام کی پسند کا لحاظ رکھا جاتا تھا۔ بدیہہ گوئی، فقرہ بازی اور برجستہ گوئی،اشعار کی بھرمار،مقفیٰ اورمسجّع عبارت،گانوں کی کثرت ، خطابت کا زور اور جذبات کا طوفان،ڈرامے کے لوازم اور اس کی کامیابی کی ضمانت سمجھے جاتے تھے۔اندر سبھا کی روایت کا اثر غالب تھا۔اسٹیج پر منشی رونق بنارسی ،حافظ عبداللہ ،نظیر بیگ اور حسینی میاں ظریف? اور ان کے بعد طالب، احسن اور بیتابکی دھوم مچی ہوئی تھی۔ابتدائی دور میں حشرنے ان تمام باتوں کو اپنایا۔”مریدِ شک “ ”مارِآستین “اور” ا سیرِحرص “اسی دور کی عکاسی کرتے ہیں۔دوسرے دور میں حشرنے ڈرامے کی چند روایات کو برقرار رکھا۔قافیے کا التزام، خطابت کے زور کے ساتھ ساتھ مکالموں میں بلند آہنگی ہے لیکن ا شعار اور گانوں میں کچھ کمی نظر آتی ہے۔حشراپنی خدا داد صلاحیت ،سماجی شعور اور فنّی کاریگری کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔چھوٹے چھوٹے فقروں سے ڈرامائی کیفیت پیدا کرنے میں بڑی حد تک کامیاب نظر آتے ہیں۔
آغا حشر? ایک اعلیٰ درجہ کے اداکار،موسیقاراور ڈائریکٹر ہونے کے ساتھ ہی اسٹیج کی تکنیک سے خوب واقف تھے۔ لہٰذا تکنیک کے اعتبار سے بھی حشر? نے ڈراموں میں ایک صحت مند تبدیلی کی۔انھوں نے سماں پیدا کرنے کی لیے بڑے بڑے سین لکھنے شروع کر دیے تھے۔
”سفید خون’‘(باب پہلا ،پردہ تیسرا)میں حشرنے قافیہ کے استعمال سے عمل میں زور ،کردار کی ذہنیت کو ابھا رنے اور ڈرامائی کیفیت پیدا کرنے کا کام لیا ہے۔شہنشاہِ خاقان اپنی بیٹی ماہ پارہ کی نا فر مانی اور بہیمانہ سلوک پر جس طرح لعن طعن کرتا ہے اس میں حشرنے قافیے کو بڑی چابکدستی سے استعمال کیا ہے۔اس عہدکے ڈراموں میں”صیدہوس’‘ ”سفیدخون’‘ا ور” شہیدِ ناز’‘ کامیاب ڈرامے ہیں۔ تیسرا دور حشر? کے فنّی ارتقاکا دور ہے۔حشر نے ا س عہد میں ڈرامے کی دیرینہ روایات سے ہٹ کر اسے نئے سلیقے سے آراستہ کیا اور اسے نئی پہچان دی۔ڈرامے کو تہذیب و معاشرت سے متعلق اصلاحی مقصد کا ترجمان بنایا۔جمیل? جالبی صاحب نے صحیح کہا ہے کہ ” آغا حشرنے ڈرامے کو بلند کیا۔ اس میں معاشرتی اور اصلاحی پہلو بھی اجاگر کیے اور ڈرامے کے ذریعہ سیاسی اور اصلاحی مقصد کا کام بھی لیا۔آغا حشر? کی اہمیت یہ ہے کہ انھوں نے ڈرامے کی روایت کو ہمارے مزاج میں شامل کیا۔ہمیں ڈرامے کے عملی معنی سمجھائے۔ہمیں ڈراما پیش کرنے اور دیکھنے کا سلیقہ دیا’‘۔
اس دور میں حشرنے مقفٰی نثر اور بے سروپا موضوعات کی جگہ دقیانوسی اسٹیج پر معاشرتی ،مذہبی اور اصلاحی موضوعات کو جگہ دی۔آغا حشرکے خیالات منصور احمد اس طرح بیان کرتے ہیں ”میں جب کوئی ڈرامہ لکھنے کا خیال کر تا ہوں تو پہلے اس کے موضوع پر تمام معلومات بہم کر لیتا ہوں اور اس وقت تک اس پر قلم نہیں اٹھاتا جب تک اس کی تمام تفصیلات پر حاوی نہ ہو جا و ¿ں۔میں وقت اور سوسائٹی کی حالت کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھتا ہوں اور اس کے مطابق اپنا اصلاحی پروگرام مرتب کرتا ہوں۔میں نے مقفیٰ اور بے سروپا ڈراموں کو جن کا آج سے بیس برس پہلے تک بہت رواج تھا،اسٹیج کو خیر باد کہنے پر مجبور کر دیا ہے لیکن مجھے پیلک کو ادبی ڈرامے کے لئے تیار کرنے کی خاطر کئی سالوں تک انتظار کرنا پڑا‘۔
اس دور کے ڈراموں میں نثر کا استعمال زیادہ ہے۔اشعار اور قافیے کا التزام صرف اس حد تک جائز رکھا ہے جو کرداروں کے مزاج اور ان کی شخصیت کا صحیح عکس معلوم ہو اور ناظرین میں عمل کی شدت اور جوش پیدا کر سکے۔ اس دور کے مشہور ڈرامے ”خوابِ ہستی’‘ ”خوبصورت بلا’‘ ”سلورکنگ’‘ ”ترکی حور’‘ ”یہودی کی لڑکی’‘ ”بلوا منگل’‘ اور ”آنکھ کا نشہ “ ہیں۔کہا جاتا ہے کہ ” آنکھ کا نشہ’‘ جب اسٹیج پر پیش کیا گیا تو ناظرین شراب کے تباہ کن اور عبرت انگیز نتائج سے اتنے متاثر ہوئے کہ ان میں سے بہت لوگوں نے شراب نوشی ترک کر دی۔
چوتھا دور حشرکی ڈراما نگاری کا آخری اور انتہائی اہم دور ہے۔ اس دور کو حشرکے فن کارانہ شعور کی پختگی اور ارتقائی عمل کا بہترین دور کہنا مناسب ہوگا۔ کرداروں کے مکالمے ان کی شخصیت کو ابھارنے ، واقعات میں تاثیر پیدا کرنے اور عمل کو پر اثر بنانے کا کام کرتے ہیں۔ اس دور کے ڈراموں میں نہ اشعار کی کثرت ہے نہ قافیہ کی جھنکار۔ گانوں کا استعمال بہت کم ہے یا بالکل نہیں ہے۔
حشر اپنے ڈراموں کے کردار اپنے دوستوں ، آشناو ¿ں اور ملاقاتیوں کے حلقے سے انتخاب کر لیتے تھے اور بعض اوقات ان کرداروں کو جنم دینے میں ان کے تخیل کی کارفرمائی ہوتی تھی۔ حشرنے چونکہ سماج کے کسی نہ کسی طبقے نیز زندگی کے اہم مسائل کو اپنا موضوع بنایا ہے اس لیے ان کے یہاں بادشاہ ، وزیر ، بیگم، خادمہ، باغی ، غدّارِ قوم ، محبِّ وطن ، عصمت مآب اور وفادار بیویاں، جانثار ملازم ، شرابی ، جواری، طوائف، ڈاکو اور قاتل ، غرض کہ ہر طرح کے کردار موجود ہیں۔ا ن کے کرداروں کی ایک نمایا ں خصوصیت یہ ہے کہ مصائب اور پریشانی ان میں احساسِ شکست پیدا کرنے کے بجائے ان میں ان مصائب سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ اور زندگی کی شمع روشن کرنے کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔
جس طرح حشرکے فن میں ایک تدریجی ارتقائی عمل ملتا ہے اسی طرح ان کے کرداروں میں ادوار کے لحاظ سے زیادہ پختگی ، گہرائی اور گیرائی نظر آتی ہے۔ چونکہ حشرنے اپنے کرداروں سے فرد اور معاشرے دونوں کی اصلاح کا کام لیا ہے اس لیے ان کے اندرون میں جھانک کر ان کی نفسیاتی کشمکش کا جائزہ لیتے ہوئے انھیں انسانی اقدار کا احترام بھی سکھایا۔
اردو ڈرامے جو اسٹیج پر پیش کیے جاتے تھے ان کی ایک روایت یہ بھی چلی آ رہی تھی کہ مزاحیہ حصّہ (کامِک) اصل کہانی سے الگ ہوتا تھا جس میں ظرافت کا معیار انتہائی پست ہوتا تھا۔ اس میں ابتذال ، رکاکت، گالی گلوج، دھول دھپّا اور پھکّڑ بازی، غرض کہ ساری وہ غیر معیاری حرکتیں ہوتی تھیں جو عوام کے گرے ہوئے تفریحی ذوق کی تسکین کا سامان مہیا کر سکیں۔ اپنے ابتدائی دور کے ڈراموں کے مزاحیہ حصوں میں حشرنے بھی اپنے یہاں اس عوامی بلکہ عامیانہ روش کو ملحوظ رکھا۔ لیکن بعد میں ان کے یہاں ایک صحت مند رجحان ابھرتا نظر آتا ہے۔ وہ کامِک کو بھی اصلاحِ معاشرے کے لیے ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ظرافت و طنز سے وہ محض عوامی ذوق کی تسکین سے آگے بڑھ کر سماجی برائیوں سے پردہ اٹھانے کا کام لیتے ہیں۔ ” خوبصورت بلا’‘ میں میم اور ” دل کی پیاس’‘ میں کملا کے کرداروں کو پیش کر کے حشر? نے مغربی تہذیب و تمدن اور اس کے کھوکھلے پن پر بڑی گہری چوٹیں کی ہیں۔ حشر کے یہاں ہمیں ”کامک’‘ کے بارے میں تدریجی تبدیلی کے نشانات بھی ملتے ہیں چنانچہ ” ترکی حور “ اور ”بلوا منگل’‘ میں انھوں نے ”کامک’‘ کی مستقل حیثیت ختم کر کے اسے اصل کہانی کا جزو بنا کر پیش کیا ہے اور آخری دور کے ڈراموں میں تو انھوں نے مزاحیہ پلاٹ کو اپنے ڈراموں سے بالکل خارج کر دیا ہے۔
حشر? کے فنِّ تمثیل نگاری کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف تو انھوں نے عوام کی پسند اور ذوق کا خیال رکھا اور دوسری طرف ڈرامے کے فن کو بلندی اور جِلا بخشنے کی بھر پور کوشش کی۔ انھوں نے اسٹیج کے لوازم وضروریات کا لحاظ بھی کیا اور ڈرامے میں سماجی اور اصلاحی موضوعات سمو کر اسے وسعت بخشی۔ ڈرامے کو روایتی پابندیوں سے آزاد بھی کیا اور اسے محض ایک تفریحی مشغلے کے درجے سے اوپر اٹھا کر سنجیدہ اور سبق آموز پہلوؤں کا ترجمان بنایا۔ ڈاکٹر عطیہ نشاط کے الفاظ میں ” ان کا بڑا کارنامہ یہی ہے کہ انھوں نے پلاٹ ، کردار ، مکالمہ، نقطہ نظر، زبان وبیان اور طرز ادا ہر پہلو سے اردو ڈرامے کو اپنے پیش روؤں سے آگے بڑھایا اور پارسی اسٹیج کو وہا ں پہنچادیا جہاں وہ اس سے پہلے نہیں پہنچا تھا‘۔ اپنے پیش روؤں اور ہم عصروں سے بلند ہو کر حشرنے ڈرامے کو زندگی سے قریب تر لانے کی جو قابلِ قدر کوشش کی وہ ان کے گہرے سماجی شعور، مشاہدے کی گہرائی ، انسانی نفسیات کے عمیق مطالعے اور عصری حسیّت کی مظہر ہے۔ در اصل وہ اپنے دور کے پہلے اور آخری ارتقا پسند فن کار اور ایک عظیم ڈراما نویس تھے۔
حشر? نے برجستہ گوئی ، خطابت کے زور اور اشعار و قوافی کے بر محل استعمال سے اپنے ڈراموں میں توازن کی جو فضا قائم کی اس سے ان کی فنّی بصیرت اور تخلیقی صلاحیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ وقار عظیم کے الفاظ میں ”حشرکے ڈراموں میں خطابت کا جو زور، برجستہ گوئی کی جو روانی ، فقرہ بازی کی جو شوخی اور شگفتگی اور شاعری کی جو رنگینی ہے وہ یوں تو دوسرے لکھنے والوں کے یہاں بھی کم نہیں لیکن ان میں سے ہر چیز کو بر محل استعمال کرنے کا جو سلیقہ حشر کو ہے وہ بہت کم لوگوں کو ہے۔ ممکن ہے ان میں سے کسی ایک خصوصیت میں ان کا مدِّ مقابل اپنے آپ کو اِن سے برتر ثابت کر سکے لیکن ان ساری چیزوں کا متوازن امتزاج اتنا کسی دوسرے کے یہاں نہیں ملتا جتنا حشر? کے یہاں ہے’‘۔
اردو ڈرامے کی تاریخ میں حشرسنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے قدیم پیرہن کو جدید رنگوں سے سجا کر ڈرامے کو حسن و عشق کے کوچے اور جنگ و خون ریزی کے ہنگامے سے نکال کر زندگی کے مسائل کا ترجمان بنایا۔ بقول پروفیسر آل احمد سرور” انھوں نے ڈرامے کو زیادہ ’روداد‘ بنا دیا۔ وہ زمانے کے ساتھ بدلتے رہے اور اس طرح وہ قدیم و جدید کے درمیان ایک کڑی ہیں“۔
ڈراما چونکہ بیک وقت سمعی اور بصری تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے اس لیے اس کی حقیقی قدر و قیمت اس کی تحریری شکل میں نہیں بلکہ اس کی اسٹیج پر پیش کش کے ذریعے ہی متعین کی جاسکتی ہے ، گویا ڈراما اور اسٹیج لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پروفیسر احتشام حسین نے صحیح کہا ہے کہ ” ڈراما کی عملی کامیابی کی کسوٹی اسٹیج ہے اور اسٹیج ایک پیچیدہ ذریعہ اظہار ، ہدایت کار، اسٹیج کے لوازم ،(یعنی پردے ، روشنی، موسیقی وغیرہ) اور اداکار مل کر اسٹیج کی تکمیل کرتے ہیں۔ پھر ان سب کے بعد تماشائی ہے جس کی جذباتی اور ذہنی شرکت کے بغیر اچھے سے اچھا ڈراما بھی کامیاب نہیں ہو سکتا’‘۔
حشر کے ڈرامے بھی اسٹیج کے لیے لکھے گئے اور اسی پہلو سے انھوں نے اپنے پیش روؤں اور ہمعصروں سے بہت آگے بڑھ کر کامیابی حاصل کی۔ آج بھی ان کے ڈراموں سے صحیح طور پر لطف اندوز ہونے کے لیے ہی نہیں بلکہ ان کی حقیقی قدر وقیمت متعین کرنے کے لیے بھی اور یہ جاننے کے لیے بھی کہ وہ اسٹیج تکنیک کو کتنی پرکا ری سے استعمال کرتے ہیں، سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ انھیں اسٹیج پر پیش کر کے حشرکے کمالِ فن ، ان کی تخلیقی صلاحیت اور ان کی طبّاعی کے جوہر کو نمایاں کیا جائے۔ ان کے فن کی عظمت اسٹیج کے پردے ہی میں سے حقیقی جلوہ گری کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔