شکتی پیٹھ :تباہ کن ترقی کے خلاف مٹی کی بغاوت

9 views
Skip to first unread message

Nehal Sagheer

unread,
May 31, 2026, 8:43:31 AM (6 days ago) May 31
to
شکتی پیٹھ :تباہ کن ترقی کے خلاف مٹی کی بغاوت

شاہجہان مخدوم (ممبئی)  موبائل :  8976533404   ای میل :  magdu...@gmail.com

ترقی کے عظیم الشان خوابوں کا جب حقیقت کے دہکتے ہوئے شعلوں سے ٹکراؤ ہوتا ہے، تو مزاحمت کی چنگاری بھڑک اٹھتی ہے۔ شکتی پیٹھ ایکسپریس وے ایک ایسا ہی بلند بانگ اور سرکش منصوبہ ہے،اگرچہ یہ کاغذوں پر ترقی کے پیامبر کے طور پر اتراتا پھر رہا ہے، لیکن اس نے کسانوں اور دھرتی کے سپوتوں پر تشویش کا ایک سیلاب مسلط کر دیا ہے۔ ابتدا میں چند ہزار کروڑ کے تخمینے والا اس ایکسپریس وے کا خرچ اب 1 لاکھ 20 ہزار کروڑ روپے کے ہوشربا ہندسے تک پہنچ چکا ہے۔ یہ ہندسہ محض سرکاری خزانے پر ایک بے پناہ بوجھ نہیں ہے، بلکہ اس منصوبے کے شکنجے میں پھنسنے والے ہزاروں کسانوں کے لیے موت کی ایک خوفناک گھنٹی ہے۔ جب کوئی اس بات پر غور کرتا ہے کہ ترقی کے اس بے رحم رولرکے نیچے دراصل کیا کچھ کچلا جانے والا ہے، تو اس جدوجہد کی نوعیت مزید شدید اور کربناک شکل اختیار کر لیتی ہے۔
جب ترقی اور جدیدیت کے تصورات محض منافع کے حساب کتاب میں قید ہو جاتے ہیں اور انہیں ٹھیکیداروں کی پروردہ سیاست کی دیمک لگ جاتی ہے، تو وہ ترقی کا راستہ بننے کے بجائے ایک ایسے بھسماسور (سب کچھ نگل جانے والے عفریت) میں تبدیل ہو جاتے ہیں جو دیہی معیشت کو ہی ہڑپ کر جاتا ہے۔ آج مہاراشٹر کی مٹی سے جو تصویر ابھر رہی ہے، وہ انتہائی خوفناک ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے 2022-23 کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، مہاراشٹر میں ہر سال اوسطاً 3,800 سے زائد کسان تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 3,852قرض کے بوجھ، فصلوں کی تباہی اور کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کی عدم موجودگی کے باعث موت کو گلے لگا رہے ہیں۔ اس زراعت پیشہ کفیل کی گردن پرجوموسمی تبدیلی اور حکومتی پالیسیوں کی ناکامی کے باعث پہلے ہی پھانسی کے پھندے پر جھول رہا ہےاب ترقی کی اس نام نہاد شاہراہ کا کلہاڑا چلایا جا رہا ہے۔ اس تباہ کن منصوبہ بندی کی ایک دہلا دینے والی مثال مغربی مہاراشٹر میں شکتی پیٹھ ایکسپریس وےکے خلاف ابھرنے والی شدید مزاحمت ہے۔ یہ جدوجہد محض زمین کی نہیں ہے،یہ نسل در نسل پروان چڑھنے والی ثقافت اور طرزِ زندگی کی بقا کی جنگ ہے۔
ناگپور سے گوا تک تقریباً 856 کلومیٹر طویل یہ مجوزہ شکتی پیٹھ ایکسپریس وے1 لاکھ 20 ہزار کروڑ روپے کی خطیر لاگت سے تعمیر کیا جانا ہے۔ اس منصوبے کے لیے ودربھ، مراٹھواڑہ، مغربی مہاراشٹر اور کونکن خطے کے 12 اضلاع میں تقریباً 27,000ایکڑ اراضی ایکوائر کی جائے گی۔ مذہبی عقیدت کی آڑ میں، یہ کسانوں کی ماں (زرخیز مٹی) کے سینے پر بلڈوزر چلانے کے مترادف ہے۔ چنانچہ، اس تجویز کی کولہاپور، سانگلی اور شولاپور کے آبپاشی اور باغبانی والے خطوں کے کسانوں کی جانب سے شدید مخالفت کی گئی ہے۔
مغربی مہاراشٹر میں زراعت کا انحصار صرف بارش پر نہیں ہے،بلکہ یہ کرشنا۔پنچ گنگا کے طاس میں ان محنت کش کسانوں کی جانب سے تحریکِ امدادِ باہمی (کوآپریٹو موومنٹ) کے ذریعے پروان چڑھائی گئی ایک خوشحال معیشت ہے، جنہوں نے لفظی معنوں میں اپنا خون پسینہ ایک کیا ہے۔ اس انتہائی زرخیز اور کثیر الفصلی زمین کوجو گنے اور نقد آور فصلوں کی ریکارڈ پیداوار دیتی ہے،اس ایکسپریس وے کے حلق میں اتار دینا، زندہ کسانوں کی رگیں کاٹنے کے مترادف ہے۔ یہ ایکسپریس وے ہزاروں کسانوں کو بے زمین کر دے گا۔ این سی آر بی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک میں زراعت سے متعلق 11,290 خودکشیوں میں سے 53 فیصد سے زائد زرعی مزدوروں کی ہیں۔ جب ہزاروں ایکڑ اراضی زبردستی چھین لی جائے گی، تو آج عزت سے جینے والا دھرتی کا بیٹا کل سڑکوں پر دیہاڑی دار مزدور بن کر رہ جائے گا۔ اس مزدوری میںعدم تحفظ کا احساس انہیں ایک ایسی تاریک کھائی میں دھکیل دے گا جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ جدیدیت کا یہ ماڈل محض زمین ضبط نہیں کر رہابلکہ یہ شعوری طور پر افلاس کی ایک نئی لہر پیدا کر رہا ہے۔
اس ایکسپریس وے کے خلاف مزاحمت کا مرکز محض زمین کا چھن جانا نہیں ہے، بلکہ ماحولیاتی نظام میں ہونے والی مستقل مداخلت ہے۔ ایکسپریس وے کے لیے تعمیر کیے جانے والے انتہائی بلند پشتے (بھراؤ) جدید دور کی مصنوعی دیواروں کا کام کریں گے۔ مون سون کے دوران، یہ پشتے پانی کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ بنیں گے، جس سے آس پاس کے علاقوں میں سیلاب کا مستقل خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ جب فطرت کا آزادانہ بہاؤ روکا جاتا ہے، تو پانی اپنے راستے خود تلاش کرتا ہے، کھیتوں میں گھس کر کھڑی فصلوں کو تباہ و برباد کر دیتا ہے۔ یہ محض کوئی خدشہ نہیں ہے، بلکہ سمردھی ایکسپریس وے کے تجربے سے حاصل ہونے والا ایک تلخ اور جھلسا دینے والا احساس ہے۔ ان پشتوں کی تعمیر سے نکاسی آب کا قدرتی نظام دم توڑ دے گا، اور کسانوں کے سروں پر یہ تلوار لٹکتی رہے گی کہ ان کے لہلہاتے کھیت کھڑے پانی کے جوہڑوں اور دلدلوں میں تبدیل ہو جائیں گے۔
تاہم، سب سے ہولناک تصویر آبپاشی کے نظام سے متعلق ہے۔ کسانوں کی نسلوں کی محنت اور خون پسینے سے تعمیر کیے گئے آبپاشی کے نیٹ ورک اس ایکسپریس وے کی زد میں آکر مکمل طور پر تباہ ہو جائیں گے۔ زراعت کو زندگی بخشنے والی پائپ لائنیں اس شاہراہ کے نیچے دفن ہو جائیں گی۔ لفٹ اریگیشن (آبپاشی) کے جال کے کٹ جانے سے سرسبز و شاداب زمینوں کے بنجر ہونے کا ڈر محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں ہے،یہ زندگی اور موت کا سوال ہے۔ ایک بار جب آبپاشی کا یہ سلسلہ ٹوٹ گیا، تو اسے دوبارہ جوڑنا ایک پہاڑ جیسا چیلنج ہوگا۔ اسی حقیقت کے بطن سے یہ سوال،’’ترقی یا تباہی؟‘‘ ایک زیادہ گہری اور تاریک بازگشت اختیار کر لیتا ہے۔
اس تنازعے کا تیسرا اور انتہائی تشویشناک مسئلہ زمین کا کلر زدہ (Salinization) ہونا ہے۔ اگر پانی کے اخراج کے لیے ضروری قدرتی ڈھلوانیں اور راستے شاہراہ کے بھراؤ کی وجہ سے مستقل طور پر بند ہو گئے، تو زیرِ زمین نمکیات کے سطح پر آنے کا عمل شروع ہو جائے گا۔ ہزاروں ایکڑ زرخیز زمین کے دلدل میں تبدیل ہونے یا مستقل طور پر ناقابل کاشت ہونے کا خوف کسانوں کے دلوں میں دہشت بٹھا رہا ہے۔ جب کالی ماں سفید پڑنے لگتی ہے (زمین میں نمکیات ابھرنے لگتے ہیں)، تو وہ محض فصل دینا بند نہیں کرتی، بلکہ وہ ایک پوری ثقافت اور نسلوں کے وجود کے خاتمے کا اعلان کرتی ہے۔
اس تمام تر عمل کے پس پردہ حکمران طبقے اور کارپوریٹ لابی کے درمیان ایک بہت بڑا سیاسی اور معاشی گٹھ جوڑ چھپا ہوا ہے۔ مہاراشٹر میں سمردھی ایکسپریس وے اور دیگر کئی قومی شاہراہوں کی موجودگی کے باوجود، محض چند کلومیٹر کا فاصلہ کم کرنے کے لیے لاکھوں درختوں کا کاٹنا اور ہزاروں کروڑوں روپے بے دریغ لٹانے کا جواز سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایسے منصوبے صرف سیمنٹ اور لوہا فراہم کرنے والے بڑے صنعت کاروں اور ٹول وصولی پر اجارہ داری قائم کرنے والے مافیا کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ شاہراہ کے دونوں اطراف لاجسٹک پارکس اور اسمارٹ سٹیز کے نام پر، کسانوں کی زمینیں کوڑیوں کے دام ہتھیا کر انہیں ریئل اسٹیٹ کے منافع بخش کاروبار میں تبدیل کرنے کی ایک منظم سازش رچی جا رہی ہے۔ مذہبی جذبات کا استحصال کر کے عوام کے ذہنوں سے کھیلنا اور دوسری جانب ان کا روزگار چھین لینا۔اس تحریک نے حکمران اشرافیہ کا انتہائی بے حس اور سفاک چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔
آج کولہاپور، ہات کنگلے، کرویر، اور سانگلی کی پٹی میں ہر گرام پنچایت نے اس اراضی کے حصول کے خلاف سخت مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ کسانوں نے ٹریکٹر ریلیوں اور راستہ روکو مہمات کے ذریعے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ حکومت نے آئندہ انتخابات کے پیشِ نظر اس منصوبے پر عارضی اسٹے (التوا) لگا دیا ہے، لیکن کسان اس بات پر پرعزم ہیں کہ جب تک اس منصوبے کو مستقل طور پر منسوخ کرنے کا سرکاری حکمنامہ (جی آر) جاری نہیں ہوتا، وہ اپنی جدوجہد ترک نہیں کریں گے۔ حقیقی ترقی وہ ہے جو حاشیے پر کھڑے آخری انسان کو بھی عزت کی زندگی کی ضمانت دے۔ ترقی کا وہ راستہ جس سے کسانوں کے خون کی بو آتی ہو، ریاست کو کبھی حقیقی خوشحالی کی طرف نہیں لے جا سکتا۔ ٹریلین ڈالر کی معیشت کا خواب دیکھتے ہوئے، اگر بنیادی پیداواری اکائی یعنی کسانوںکو ہی نقشے سے مٹا دیا جائے گا، تو یہ ترقی نہیں بلکہ ایک اجتماعی خودکشی ہے۔ مہاتما گاندھی کےگرام سوراج کے تصور کو پامال کرتے ہوئے، میک اِن انڈیا کے پرچم تلے کسان کو اس کی اپنی ہی مٹی سے در بدر کیا جا رہا ہے۔
جب اقتدار کے کنکریٹ کے جنگلوں تلے کسانوں کے سرسبز خوابوں کو دفن کرنے کی سازشیں رچی جاتی ہیں، توگرام سبھاؤں (گاؤں کی مجالس) کے ذریعے جمہوریت کی حقیقی دہاڑ گونجنے لگتی ہے۔ ’’ہمارے گاؤں کی ترقی کا فیصلہ ہم خود کریں گے‘‘، یہ دعویٰ اب گاؤں گاؤں گونج رہا ہے۔ کولہاپور سے لے کر مراٹھواڑہ تک، دیہاتوں نے اس ایکسپریس وے کی مخالفت میں قراردادیں منظور کی ہیں۔ یہ قراردادیں محض کاغذ کے ٹکڑے نہیں ہیں،یہ اس زراعت پیشہ طبقے کے ہاتھ میں جمہوریت کے ہتھیار ہیں۔ اس جدوجہد کا مرکز اس وقت سانگلی ضلع کا والوا تعلقہ ہے، خاص طور پر کامیری اور اس کے آس پاس کے علاقے۔ وارنا اور کرشنا ندیوں کی آغوش میں بسے کامیری، جُنے کھیڑ، بورگاؤں، ایتوڑے خرد، مسوچی واڑی، اٹکرے، یڑے نپانی، اور کرلپ جیسے دیہاتوں میں غصے کی آگ بھڑک اٹھی ہے۔ کامیری میں حال ہی میں اراضی کے حصول کے نوٹیفکیشن کی جو ہولی جلائی گئی، وہ دراصل حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں اور سرمایہ دارانہ ذہنیت کو علامتی طور پر نذرِ آتش کرنے کا عمل تھا۔
اس خطے کے کسانوں کی آنکھوں میں اب خوف نہیں، بلکہ ایک سلگتا ہوا عزم ہے۔ کامیری کی سرحدوں پر لگنے والا یہ نعرہ—’’ہم ضرورت پڑنے پر اپنا خون بہا دیں گے، لیکن زمین نہیں دیں گے‘‘ریاستی مشینری کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی پیدا کر رہا ہے۔ یہ تحریک اب سیاسی سرحدوں کو عبور کر چکی ہے اور عام عوام شکتی پیٹھ مخالف جدوجہد کمیٹی کے سائے تلے متحد ہو چکے ہیں۔ بورگاؤں کا مکمل شٹر ڈاؤن ہو یا کامیری کے سڑکوں پر ہونے والے مظاہرے، ایک ہی پیغام دیا جا رہا ہے۔اس دھرتی کا کسان اب کسی بھی لالچ کا شکار نہیں ہوگا۔ یہ زمینیں، یہ گنے کے کھیت اور یہ سبزیوں کے باغات ان لوگوں کی شناخت ہیں۔ کرانتی سنہہ نانا پاٹل کی یہ باغی مٹی، جس نے کبھی پتری سرکار(متوازی حکومت) کے ذریعے سامراجی طاقتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا، آج تاریخ کو دہراتے ہوئے دیکھ رہی ہے۔ یہ تنازع محض زمین کے ایک ٹکڑے کا نہیں ہے، یہ مٹی سے وفاداری اور حقیقی جمہوری حقوق کی ایک عظیم جنگ ہے۔ اگر حکومت نے ان عوامی جذبات کا احترام نہیں کیا، تو اس چنگاری کو پورے مہاراشٹر میں ایک خوفناک آگ بننے میں دیر نہیں لگے گی۔ اگر جدیدیت کی اس اندھی دوڑ کو وقت پر نہیں روکا گیا، تو ہمارے موجودہ نظام کی سب سے جھلسا دینے والی حقیقت یہ ہوگی کہ مستقبل میں صرف کنکریٹ کی سڑکیں بچیں گی، لیکن ملک کا پیٹ پالنے کے لیے ایک بھی زندہ کسان باقی نہیں رہے گا۔

(شاہجہان مخدوم ایک سینئر مراٹھی صحافی، محقق اور مترجم ہیں، جنہیں سماجی و ثقافتی دستاویز سازی اور تحقیق پر مبنی صحافت میں تقریباً تین دہائیوں کا تجربہ ہے۔ وہ اس وقت ممبئی، مہاراشٹر سے شائع ہونے والے مراٹھی ہفت روزہ’ شودھن ‘کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں)


Tabahkun Taraqqi Shahjahan Makhdoom.inp
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages