خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

3,648 views
Skip to first unread message

Gul Bakhshalvi

unread,
Nov 9, 2016, 12:57:06 AM11/9/16
to Aijaz .Shaheen

 
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے 
خدا بندے سے خود پوچھے بتاتیری رضا کیا ہے 
                                                                گل بخشالوی                                     

حضرت علامہ اقبال ؒدنیائے عالم کے عظیم مفکر دانشور ،شاعر اپنے وقت کے ولی کامل شمع رسالت کے پروانے اوررب کریم کے محبوب بندے تھے ۔وہ اقبال جس نے زندگی کے حسن کو رب ذوالجلال کے محبوب محمد مصطفےٰ کی حیات مبارکہ اور محمد مصطفےٰ پر نازل قرآن کریم میں دیکھا ،سوچا اپنے وجود کو پرکھا اور زندگی کے اُسی حسن کو اپنی زندگی کا محور بنالیا۔
قرآن کریم آئین ہے زمانوں میں زندگی کا سانس لینے والوں کیلئے اُس وقت تک جب دنیا کی زندگی آخرت میں رب کریم کے حضور سجدہ ریز ہوگی محشر میں!حضرت علامہ اقبالؒکو ہم پڑھتے ہیں لیکن کبھی بھی اقبالؒکی اقبالیات کو اپنے اخلاقیات میں سوچا نہیں اور نہ ہی سمجھنے کی ضرورت محسوس کی ۔بالکل ایسے ہی جیسے ہم قرآن تو پڑھتے ہیں لیکن قرآن کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ۔قرآن کو ہم بس قرآن کی تلاوت تک پڑھتے ہیں یہی ہمارا قرآن سے پیار ہے ہم نے کبھی بھی قرآن پڑھ کر قرآن کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی ۔تفسیر تو دور کی بات ترجمہ تک نہیں پڑھتے کہ ہم عربی نہ سمجھنے والے کیا پڑھ رہے ہیں ۔خوبصورت غلاف اور دیدہ زیب جلد میں محفوظ قرآن کو گھر ،مساجد اور لائبریریوں کی الماریوں میں سجادیتے ہیں ۔ہم قرآن پڑھتے ہیں لیکن یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ قرآن ہمیں کہتا کیا ہے ہم نہیں جانتے لیکن حضرت علامہ اقبال ؒنے نہ صرف قرآن پڑھا بلکہ قرآن میں قرآن والے، قرآن میں انسانی زندگی کے آئین کو اپنے شعور میں بسانے کیساتھ قرآن کو عالم حیات تک پہنچانے والے محبوب خدا کو سمجھے اور ان زندگی کے قدروکمال کو دل ودماغ میں سماگئے ۔دنیا کے صاحب ِکمال لوگ حضرت علامہ اقبالؒکو اگر وقت کاولی کامل کہتے ہیں تو یہ اقبال کی عظمت کا برملا اعتراف ہے اس لےے کہ اُن صاحب ِکمال لوگوں نے اقبال کی اقبالیات کو صرف پڑھا نہیں ۔اقبال کی اقبالیات کی ہر زمین کی شادابی اور اُن کے گلستانِ شعور کی مہک کو محسوس کیا ۔قرآن کی تلاوت کریں فکر وشعور کی حاضری میں اور اقبال کی شاعری پڑھیں تو ہر صاحب بصیرت کو علامہ اقبال کی شاعری قرآن اور احادیث کی تفسیر لگے گی ۔
حضرت علامہ اقبال ؒکے صرف اس ایک شعر کو لیجئے ۔ذراغور سے پڑھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں ۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے 
خدا بندے سے خود پوچھے بتاتیری رضا کیا ہے 
اس شعر کے ایک لفظ خودی کو لیجئے ۔تین معنوں پر مشتمل ایک لفظ ،خو،خود،خودی ،”خو“کے لغوی معنی ہیں عادت ،انسانی خصلت ،”خود“،آپ ،اپنی ذات،اپنے آپ خودی ،انانیت،غروروتکبر ،خودشناسی ،معرفت ِنفس،عزت ِنفس ،کیا ہم یہ اقرار کرسکتے ہیں کہ ہم اپنی خودی ہی سے لاعلم ہیں ،ہماری حقیقت کیا ہے ایک قطرہ خون کا ، جوہڑ کی چکنی مٹی ،یہی تو ہماری حقیقت اور ہمارا وجود ہے لیکن ہماری حقیقت کو جس ذات ِبرحق نے سنوارا کبھی اُس کو سوچا ،کہ ہم کیا تھے رب ِبرحق نے ہمیں کیا سے کیا بنادیا ،ہم نے کبھی بھی اپنی ”خو“کو نہیں سوچا ،اپنی عادتوں ،اپنی خصلتوں کو سوچنے کی ضرورت تک محسوس نہیں کی۔نہیں سوچا اپنی زندگی کے طور طریقوں کو اپنے رسم ورواج کو ،کیا کبھی ہم نے اپنے ”خود“کو سوچا ہے ۔اپنے آپ میں اُتر کر اپنے کرداروعمل کو،سوچنا تو درکنار کبھی غور کرنے کی ضرورت تک محسوس نہیں کی ۔کبھی نہیں سوچا اپنی ”خودی “کو اپنے وجوداور اپنے ضمیر کو ۔ذات کی انانیت میں ،اپنے غرور وتکبر
 پرکبھی غور کیا ۔کہ ہم کیا تھے ،کہاں ہیں اور کیا ہوں گے خودشناسی ہر انسان کی شان اور پہچان ہے ۔
خودی کو کر بلند اتنا”بلند“ علامہ اقبالؒنے کہا ”تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر“اقبالؒ کا شاہین بلند وبالا پہاڑوں کی چوٹی پر بغیر کسی آشیانے کے بسیرا کرتا ہے ۔علامہ اقبالؒفرماتے ہیں اپنے فکروخیال اور حسن ِکردار کو اُس بلندی پر لے جا ،اپنے خیال اور اعلیٰ ظرفی کو وہ قوت ِپرواز دے ،بلند کردار اور بلند نظری میں وہ ہمت پیدا کر کہ تو کاتب تقدیر کی نظرکرم میں آجائے جس نے تیری تقدیر لکھی۔موت ِبرحق اور ہمارا مقدر ہے ہم انسان کیا ہر جاندار کو مرنا ہے لیکن اللہ رب العزت نے حیوان ناطق کو سوچنے اور سمجھنے کیلئے دماغ بھی تو دیا ہے شعور کی دولت سے بھی تو نوازاہے ۔ سوچنا ہے ہمیں اس لیے کہ اپنی بعد از وفات کی زندگی کو ہم نے اپنے کردار وعمل میں اُس مقام پر لے جانا ہے کہ موت بھی ہم پر ناز کرے ۔موت تو پاﺅں رگڑ رگڑ کر بستر پر بھی آئے گی جانے کہاں کس موڑ پر کس حالت میں موت آئے لیکن ذراسوچئے موت اگر شہادت کی معراج پر ہو تو کیسی ہوگی ۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف انسان پیدا کیا ہے وہ حالت ِکفر میں کفر کی موت مرتا ہے او راُمت ِمصطفےٰ میں شہادت کی موت ۔
حضرت علی ؓکلمہ توحید پڑھنے سے پہلے کیا تھے مسلمان نہیں بلکہ مسلمانی کے دشمن تھے لیکن اپنی بہن اور بہنوئی سے کلام ربانی سنا تو ہوش آیا ،اُس نے اپنے وجود اور احساس میںخودی کی حقیقت کو تسلیم کرلیا ،اُس کے شعور کی بلندی ءپرواز نے اپنی تقدیر لکھنے والے کو محسوس کیا اور سرور ِکائنات کے حضور کلمہ حق پڑھ کر اپنی تقدیر کو اُس مقام پر لاکھڑا کیا کہمیدانِکربلا میں اُس کے بچوں نے دین مصطفےٰ اور توقیر مصطفےٰ کی تاریخ رقم کرکے لکھنے والے کو یہ لکھنے پر مجبور کر دیا ۔
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد 
اور علامہ اقبال نے فرمایا 
دل میں ہے مجھ بے عمل کے داغ ِعشق اہل بیت 
ڈھونڈتا پھرتا ہے دامن ظلِ حیدر ؓکیلئے 
یہی ہے میری سوچ کے مطابق حضرت علامہ اقبال کے اس شعر کے پہلے مصرعے کی مختصر سی تفسیر ۔
خودی کو کربلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے :۔اگرہم اس شعر کے پہلے مصرعے پر دل کی گہرائی میں غور کریں تو دوسرا مصرعہ ،اللہ رب العزت کے دربار ِرحمت سے رحم وکرم کی برسات کی صورت میں اُترے گارحمت ِخداوندی شعر کے پہلے مصرعے میں انسانی کردار کی عظمت کے اعتراف میں دنیا اور آخرت کی زندگی کے حسن پر رحمت بن کر ایسے برسے گی جیسے حضرت علامہ اقبالؒجیسے محبوبانِ مصطفےٰ پر برستی ہے ۔لیکن ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکیں گے کہ ہماری خودی ہم پر اس قدر حاوی ہوچکی ہے کہ ہم اپنے وجود کی حقیقت سے بے خبر ہیں غم زندگی اور غم روزگار میں ایسے گم ہوگئے ہیں کہ باجماعت نمازمیں امام کی امامت میں نیت کرتے ہیں پیچھے اس امام کے اللہ اکبر آگے امام کی رضا ہے کیا پڑھتا ہے کیا کرتا ہے اور ہم امام کی امامت میں اپنے کاروبار حیات اور دنیا کو سوچتے ہیں بس اللہ اکبر کی صدا پر اُٹھک بیٹھک کرتے نماز ادا رکرتے ہیں ۔جب یہ صورتحال ہوتو خدا ہم سے کب ہماری رضا پوچھے گا ہم تو بس یہی کہیں یہ تقدیر کا لکھا تھاجو ٹل نہیں سکا ۔ہمار اایمان ہے کہ تقدیر کا لکھا ٹل نہیں سکتا لیکن تقدیر کے لکھے ک و کیسے سنوارنا ہے یہ سب کچھ توہماری خودی کے احساس میں ہے ۔حضرت علامہ اقبال ؒنے اپنے والدین کے حضور زندگی کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے جب خالقِ برحق کی عظمت اور والدین کی قدر کی حقیقت کو جاناتو کہہ دیا بڑی خوبصورت سی ہے ۔
یہ فیضانِ نظر تھا ،یاکہ مکتب کی کرامت تھی 
سکھائے کس نے اسماعیل ؓکو آدابِ فرزندی
علامہ اقبالؒاپنے وجود کے خالق کے عشق میں گم ہوچکے تھے اُسے اپنی خودی کی بلندی کا احساس ہوچکا تھا ۔کسی مفکر کی یہ بات بھی علامہ اقبال کی خودی کی طرف اشارہ ہے کہ کسی نمازی نے دورانِ نماز سامنے سے گزرتے مجنوں کو دیکھا تو پکڑکر کہا تم دیکھ نہیں رہے ہیں نماز پڑھ رہاہوں ،مجنوں کہنے لگا ۔میں اپنے محبوب کے عشق میں اس قدر کھوچکا ہوں کہ گزرتے وقت آپ نظر نہیں آئے لیکن ایک بات تو بتاﺅ ،تم کیسے عاشق ہو اُس کے جس کو سجدہ کرتے ہو سجدہ کرتے وقت مجھے سامنے سے گزرتے دیکھ رہے ہو !
مجنوں کے ان الفاظ میں خودی کی پہچان کا اندازہ لگائےے کہ ہم کس قدر اپنی ذات اور خالقِ کائنات کی حقیقت سے آگاہ ہیں ۔
ذات اور خالقِ کائنات کی ذات ِبرحق سے آگاہی کیلئے ،خودی کی بلند پرواز میں اگر تقدیر کو سنوارنا ہے اور خدا کو اپنے بندے سے اُس کی رضا پوچھنے کی خواہش ہے تو اقبالؒکے اقبالیات میں سرورِکائنات کے فلسفہ حیات کو خود پر حاوی کرنا پڑے گا اور جب ہم اس مقام کی دہلیز پر قدم رکھیں گے تو آنے والا کل ہمیں بھی ان ہی لفظوں میں یاد کرے گا جن لفظوں میں آج ہم علامہ اقبال ؒکو یاد کرر ہے ہیں اور جب بھی ہم بفضل تعالیٰ اپنی خودی سے آگاہ ہوگئے تو رب کریم محمد مصطفےٰ سے اپنی محبت میں فرمائے گا ۔
کی محمد سے وفا تُونے تو ہم تیرے ہیں 
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں 

-- 
Warm regards,
 
Gul Bakhshalvi
Chief Editor Kharian Gazette
Cell: +92 302 589 2786
Yaad45.jpg

Muhammad Khawar Siddiqui

unread,
Nov 9, 2016, 6:35:09 AM11/9/16
to bazme...@googlegroups.com

سلام گل بخشالوی صاحب، 

آپ کی تحریر میں ٹائپو ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیِ عنہ کی بجائے حضرت علی رضی اللہ تعالیِ عنہ  لکھا گیا ۔  درستی فرما لیجئے ۔ 


نیاز مند،

محمد خاور
لاہور۔

From: bazme...@googlegroups.com <bazme...@googlegroups.com> on behalf of Gul Bakhshalvi <gulbak...@gmail.com>
Sent: Wednesday, November 9, 2016 5:56 AM
To: Aijaz .Shaheen
Subject: [بزم قلم:53368] خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
 

Gul Bakhshalvi

unread,
Nov 10, 2016, 9:20:10 AM11/10/16
to Aijaz .Shaheen
جناب محمد خاور صاحب ۔۔نشان دہی کا بہت شکریہ ۔۔ بخشالوی

Muqeet Ahmed

unread,
Nov 17, 2016, 2:11:51 AM11/17/16
to BAZMe...@googlegroups.com
روح اقبال اور عاشقان اقبال سے معذرت کے ساتھ
    میر تقی میر ، غالب اور اقبال تینوں ہند ( برصغیر) اور اردو کے عظیم شعراءہیں تینوں کی درجہ بندی میں اول دوم سوم کا درجہ دینا ممکن نہیں ایک بابائے سخن تو ایک منفرد انداز وبیاں کا ملک تو ایک اپنے دور کا عظیم مفکر تینوں میں ایک ہی قدر مشترک رہی وہ شاعری۔
    خو ، خود اور خودی ا ن سب میں اقبال کا مطلب صرف خودی سے نظر آتا ہے ۔ مگر اسے المیہ ہی سمجھےے کہ خودی ، قلند ر اور شاہین یہ تینوں نظریہ اقبا ل اپنے ساتھ ہی لے کر چلے گئے ہمارے پاس ان نظریات کو لے کر پی ایچ ڈی تھیسس کی تیاری سے بڑھ کر کچھ نہیں رہا۔ ہر کوئی اپنی خودی کو اقبال کی خودی ثابت کرتا آیا ہے۔
اقبال کی حیات میں ہی ان کا سارا کلام شائع ہوچکا تھا۔ اقبا ل نے کبھی اپنے کسی کلام اور نظریے سے رجوع نہیں کیا ۔ شکوہ کے ساتھ جس طرح جواب شکوہ لکھا اس نہج پر اپنے دیگر نظریات کا جواب نہیں لکھا۔ ان کے پاس دانتے ، کارل ،مارکس ، شکسپیئر ، سوامی رام تیرتھ سبھی معزز رہے ۔ انھوں نے گوتم اور نانک کی لے میں بھی حامی بھر ی وہ نیا شوالہ بھی بنانا چاہتے تھے بھگتوں کے ساتھ پریت کے گیت بھی گانا چاہتے تھے مگر کہیں بھی واضح نہیں کیا کہ وہ کس نظریے پر مطمئن ہیں۔ ایسے میں جب شاعری مسلم عوام کے پڑھنے کے لکھی جائے تو ظاہر ہے آج کے شعرا کی طرح مجمع کے جذبات کا خیا ل رکھنا بے حد ضروری ہے۔
    اقبال کی شاعری بھی دین کے ٹھیکہ داروں کی طرح ماہرین اقبالیات کے لےے ذریعہ روزگار فراہم کرتی رہی ہے جب دین کی بات چلی ہے تو یہ بھی ملحوظ رہے کہ ایک دوسرے کو کافر کہنے والے ، ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہ پڑھنے والے بھی اپنے واعظ و تقاریر میں دلیل ضرور اقبال سے ہی لے آتے ہیں۔
    جب سے سوشل میڈیا کی لت لگی ہے آئے دن کچھ نہ کچھ اوٹ پٹانگ اقبال کے پر بیچا بھی جاتا ہے ۔
        بچپن کے کیا دن تھے اقبال۔۔۔۔، میرا کام تو فقط اتنا ہے اقبال ۔۔۔ پتہ نہیں یہ کون اقبال ہے جو شاعری کا جنازہ نکال رہاہے مگر سوشل میڈیا میں چلتا پھرتا رہتا ہے۔
اقبال ایک شاعر تھے۔ انھوں نے شاعری کو عاشق معشوق کے ساتھ ساتھ تاریخ ، قومیت ، مذہب سے جوڑا بس اتنا ہی ملکہ رہا اور اسی وجہ سے وہ مقبو ل بھی ہوےئ۔ جس طرح سے آج کل کوئی لیڈر اچھا مقرر ہے تو پھر وہ اچھا انسان بن جاتا ہے۔ اگر ایسا کوئی مسلم لیڈر ہو تو اس کے لےے علماءکی مجالس میں بھی گنجائش پیدا ہوجاتی ہے پھر ملی ، ملکی عالمی مسائل پر اس کی رائے اہم بنتی جاتی ہے۔
جیسے ہند میں مودی، سرحد پار ملالہ مغرب میں آج کل ٹرمپ بس گفتار گفتار گفتار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


  عبدالمقیت عبدالقدیر ،بھوکر
سخن فروش ہوں داد ہنر کمانی ہے۔
Abdul Muqeet Abdul Qadeer, Bhokar


  عبدالمقیت عبدالقدیر ،بھوکر
سخن فروش ہوں داد ہنر کمانی ہے۔
Abdul Muqeet Abdul Qadeer, Bhokar

Gul Bakhshalvi

unread,
Nov 18, 2016, 1:22:48 AM11/18/16
to Aijaz .Shaheen
عبدالمقیت عبداقدیرصاحب مجھے سمجھ نہیں  آئی کی آپ نے میرے کالم کو سامنے رکھ کر مجھے نشانے پر رکھا ہے یا اقبال کے پرستاروں کو ،اس لیے کوئی تبصرہ نہیں کروں گا ۔آپ سخن فروش ہیں دادِ ہنر کما رہے ہیں قابلِ داد ہیں  ،،  لیکن خیال رہے میں نہ تو شاعر ہوں نہ ادیب ہوں نہ عالم دین ۔آپ مجھے اردو ادب کا شیدائی کہہ سکتے ہیں ۔۔بخشالوی 

Nehal Sagheer

unread,
Nov 20, 2016, 6:22:51 AM11/20/16
to 1 بزم قلم
علامہ اقبالؒ :موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لئے

آج 9 ؍ نومبر علامہ اقبال کا یوم پیدائش ہے ۔اقبال صدیوں میں پیدا ہوتا ہے ۔اس نے آج کے ہی دن 1877 میں سیالکوٹ میں نور محمد کے گھر آنکھیں کھولیں۔علامہ کی شخصیت اردو شاعری اور زبان و ادب میں محترم ہے وہیں تحریک احیائے اسلام کے صف اول میں شامل ہونے کا قابل رشک کارنامہ بھی انہی کے سر ہے ۔ یوں تو اردو نے اپنے دامن میں بڑے بڑے شاعروں کو پالا ہے ۔لیکن اقبال کا مقام ان سب میں جدا ہے انہوں نے اردو شاعری کو محبوب کے زلف گرہ گیر سے آزاد کراکے اس کو نیا انداز عطا کیا ۔ ابتدائی اور ایف ایس سی کے امتحانات پاس کرنے کے بعدعلامہ کا ذہن شاعری کی جانب ملتفت ہوا ۔انہوں لاہور کے ایک مشاعرے میں اپنی غزل سنائی اس کا ایک شعر کچھ یوں ہے ؂ موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لئے /قطرے جو تھے مرے عرق انفعال کے 
مذکورہ غزل سے علامہ کی پہچان ایک شاعر کے طور پر ہوئی۔علامہ کی زندگی اور شاعری کے کئی حصے ہیں جس میں ان کے خیالات میں مطابقت نہیں ہوتی ۔شروع میں وہ ہمالہ اور سارے جہاں سے اچھا ہندوستان جیسی نظمیں لکھتے ہیں لیکن فلسفہ سے ایم اے کرنے کے بعد فکر کے غلبہ نے ان کے مطالعہ کو وسیع کیا اور یوروپ کے سفر نے انہیں اسلام کی گہرائی عطا کی ۔انہوں نے یوروپ کے فلسفہ کا مطالعہ کیا جس نے انہیں اس کے راز ان پر افشا کئے ۔وہ خود کہتے ہیں ؂ حکمت مشرق و مغرب نے سکھایا ہے مجھے / ایک نکتہ کہ غلاموں کے لئے اکسیر/ دین ہو ،فلسفہ ہو ،فقر ہو،سلطانی ہو/ ہوتے ہیں پختہ عقائد کی بنیاد پر تعمیر 
یہاں سے ان کا زاویہ نگاہ تبدیل ہوا ان کی شاعری میں پیغام کا رنگ دیکھنے کو ملتا ہے۔جہاں انہوں نے مغربی تہذیب سے بیزاری کا اظہار کھلے طور پر کیا ۔وہ کہتے ہیں ؂ تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی / جو شاخ نازک پر بنے گا آشیانہ نا پائیدار ہوگا 
علامہ اقبال کی اس ببانگ دہل چیلنج کو آج وقت نے ثابت کردیا ہے ۔علامہ اقبال کی شاعری آدمی کے اذہان کو جھنجھوڑ دیتی ہے ۔اسے ہر حال میں سوچنے اور غور و فکر پر مجبور کردیتا ہے۔یوروپ جانے سے قبل جہاں اقبال آزاد خیال ،وطن پرست اور کانگریس کے حمایتی تھے ۔لیکن 1911 میں تقسیم بنگال سے ان کا رجحان مسلمانوں اور ان کے گم شدہ ماضی کی جانب مڑ گیا جو آخر وقت تک ان کے لئے روح و جسم کا مسئلہ رہا ۔1922 کے آس پاس انہوں نے شکوہ لکھا جس میں مسلمانوں کے شاندار ماضی کو بڑے دلنشیں انداز میں پیش کیا جس سے مسلمانوں کے خوابیدہ اذہان میں تحریک پیدا ہوئی ۔شکوہ لکھنے پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بھی بننا پڑا اور کفر کے فتوے بھی جاری ہوئے لیکن انہوں نے جواب شکوہ لکھ کر ان ساری شکایتوں اور فتاویٰ کو بے اثر کردیا ۔جواب شکوہ کا آخری شعر ہی علامہ کی ذہنی پختگی اور ان کے محمد ﷺ سے محبت کی وارفتگی کو ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے ؂ کی محمد سے وفا تونے تو ہم ترے ہیں / یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم ترے ہیں۔وہ ملت میں نئی روح پھونکنا چاہتے تھے اور اس میں کامیاب بھی رہے ۔چنانچہ ان کی تحریک اور شعری پیغام سے کئی تحریکیں پروان چڑھیں ۔ان کی ایک دعائیہ نظم کے اشعار اس طرح ہیں ؂ یارب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے /جو قلب کو گرما دے ،جو روح کو تڑپادے / پھر وادی فاراں کے ہر ذرے کو چمکا دے / پھر شوق تماشا دے ،پھر ذوق تقاضا دے
وہ ہر حال میں خواہ خزاں کا ہی موسم ہو ۔حالات کتنے ہی دیگر گوں ہوں لیکن ملت اور اجتماعیت کی تعلیم دینا نہیں بھولتے ؂ ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ / پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ 
وہ عشق الہٰی کے لئے کسی مصلحت کو خاطر میں نہیں لاتے اور اس کا مشورہ وہ قوم کو بھی دیتے ہیں ؂ بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق/ عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی 
شاعر مشرق علامہ اقبالؒ حساس دل رکھنے والے شاعر تھے ۔انہوں نے زندہ شاعری کی زندہ قوم کو حالات کے بھنور میں جانے سے خبر دار کیا انہیں قدم قدم پر ٹوکا اور چودہ سو سال پہلے لوٹنے کے لئے اپنی پوری شاعرانہ کمالات کو وقف کردیا ۔ان کی نگاہ میں مسلم نوجوانوں کی حالت بھی تھی جو کہ مغرب کے عروج سے مرعوب تھا ۔انہوں نے اسے جھنجھوڑا ، ان کا صحیح مقام انہیں یاد دلایا ؂ میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے / خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر۔دوسری جگہ وہ نوجوانوں کو ان کا اصلی مقام یاد دلاتے ہوئے کہتے ہیں ؂ کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تونے / وہ کیا گردوں تھا تو جس اک ٹوٹا ہوا تارا
علامہ اقبال حالات سے ناامید اور مایوس نہیں ہوئے اور یہی درس مسلمانوں کو بھی دیا ۔ناامیدی مسلمانوں کا شیوہ نہیں وہ اللہ سے ہمیشہ لو لگائے رکھتا ہے اور اس کی رحمتوں کا امیدوار رہتا ہے ؂ نہیں ناامید اقبال اپنی کِشت ویراں سے / ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت ذرخیز ہے ساقی
موت ہر چیز پر غالب ہے ۔جو اس جہان رنگ و بو میں آیا ہے ایک دن اسے اس دنیا کو الوداع کہنا ہی ہے ۔یہ عندلیب باغبان حجاز آخر کار 21 ؍اپریل 1938 کو ہم سے جدا ہو گیا ۔عمومی طور سے دنیا کے مسلمان اور خصوصاً بر صغیر کا مسلمان اقبال کاہمیشہ احسان مند رہے گا جس نے اپنی سوچ سے مایوسی کے دور میں امیدوں کے چراغ روشن کئے ۔
نہال صغیر
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages