خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتاتیری رضا کیا ہے
گل بخشالوی
حضرت علامہ اقبال ؒدنیائے عالم کے عظیم مفکر دانشور ،شاعر اپنے وقت کے ولی کامل شمع رسالت کے پروانے اوررب کریم کے محبوب بندے تھے ۔وہ اقبال جس نے زندگی کے حسن کو رب ذوالجلال کے محبوب محمد مصطفےٰ کی حیات مبارکہ اور محمد مصطفےٰ پر نازل قرآن کریم میں دیکھا ،سوچا اپنے وجود کو پرکھا اور زندگی کے اُسی حسن کو اپنی زندگی کا محور بنالیا۔
قرآن کریم آئین ہے زمانوں میں زندگی کا سانس لینے والوں کیلئے اُس وقت تک جب دنیا کی زندگی آخرت میں رب کریم کے حضور سجدہ ریز ہوگی محشر میں!حضرت علامہ اقبالؒکو ہم پڑھتے ہیں لیکن کبھی بھی اقبالؒکی اقبالیات کو اپنے اخلاقیات میں سوچا نہیں اور نہ ہی سمجھنے کی ضرورت محسوس کی ۔بالکل ایسے ہی جیسے ہم قرآن تو پڑھتے ہیں لیکن قرآن کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ۔قرآن کو ہم بس قرآن کی تلاوت تک پڑھتے ہیں یہی ہمارا قرآن سے پیار ہے ہم نے کبھی بھی قرآن پڑھ کر قرآن کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی ۔تفسیر تو دور کی بات ترجمہ تک نہیں پڑھتے کہ ہم عربی نہ سمجھنے والے کیا پڑھ رہے ہیں ۔خوبصورت غلاف اور دیدہ زیب جلد میں محفوظ قرآن کو گھر ،مساجد اور لائبریریوں کی الماریوں میں سجادیتے ہیں ۔ہم قرآن پڑھتے ہیں لیکن یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ قرآن ہمیں کہتا کیا ہے ہم نہیں جانتے لیکن حضرت علامہ اقبال ؒنے نہ صرف قرآن پڑھا بلکہ قرآن میں قرآن والے، قرآن میں انسانی زندگی کے آئین کو اپنے شعور میں بسانے کیساتھ قرآن کو عالم حیات تک پہنچانے والے محبوب خدا کو سمجھے اور ان زندگی کے قدروکمال کو دل ودماغ میں سماگئے ۔دنیا کے صاحب ِکمال لوگ حضرت علامہ اقبالؒکو اگر وقت کاولی کامل کہتے ہیں تو یہ اقبال کی عظمت کا برملا اعتراف ہے اس لےے کہ اُن صاحب ِکمال لوگوں نے اقبال کی اقبالیات کو صرف پڑھا نہیں ۔اقبال کی اقبالیات کی ہر زمین کی شادابی اور اُن کے گلستانِ شعور کی مہک کو محسوس کیا ۔قرآن کی تلاوت کریں فکر وشعور کی حاضری میں اور اقبال کی شاعری پڑھیں تو ہر صاحب بصیرت کو علامہ اقبال کی شاعری قرآن اور احادیث کی تفسیر لگے گی ۔
حضرت علامہ اقبال ؒکے صرف اس ایک شعر کو لیجئے ۔ذراغور سے پڑھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں ۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتاتیری رضا کیا ہے
اس شعر کے ایک لفظ خودی کو لیجئے ۔تین معنوں پر مشتمل ایک لفظ ،خو،خود،خودی ،”خو“کے لغوی معنی ہیں عادت ،انسانی خصلت ،”خود“،آپ ،اپنی ذات،اپنے آپ خودی ،انانیت،غروروتکبر ،خودشناسی ،معرفت ِنفس،عزت ِنفس ،کیا ہم یہ اقرار کرسکتے ہیں کہ ہم اپنی خودی ہی سے لاعلم ہیں ،ہماری حقیقت کیا ہے ایک قطرہ خون کا ، جوہڑ کی چکنی مٹی ،یہی تو ہماری حقیقت اور ہمارا وجود ہے لیکن ہماری حقیقت کو جس ذات ِبرحق نے سنوارا کبھی اُس کو سوچا ،کہ ہم کیا تھے رب ِبرحق نے ہمیں کیا سے کیا بنادیا ،ہم نے کبھی بھی اپنی ”خو“کو نہیں سوچا ،اپنی عادتوں ،اپنی خصلتوں کو سوچنے کی ضرورت تک محسوس نہیں کی۔نہیں سوچا اپنی زندگی کے طور طریقوں کو اپنے رسم ورواج کو ،کیا کبھی ہم نے اپنے ”خود“کو سوچا ہے ۔اپنے آپ میں اُتر کر اپنے کرداروعمل کو،سوچنا تو درکنار کبھی غور کرنے کی ضرورت تک محسوس نہیں کی ۔کبھی نہیں سوچا اپنی ”خودی “کو اپنے وجوداور اپنے ضمیر کو ۔ذات کی انانیت میں ،اپنے غرور وتکبر
پرکبھی غور کیا ۔کہ ہم کیا تھے ،کہاں ہیں اور کیا ہوں گے خودشناسی ہر انسان کی شان اور پہچان ہے ۔
خودی کو کر بلند اتنا”بلند“ علامہ اقبالؒنے کہا ”تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر“اقبالؒ کا شاہین بلند وبالا پہاڑوں کی چوٹی پر بغیر کسی آشیانے کے بسیرا کرتا ہے ۔علامہ اقبالؒفرماتے ہیں اپنے فکروخیال اور حسن ِکردار کو اُس بلندی پر لے جا ،اپنے خیال اور اعلیٰ ظرفی کو وہ قوت ِپرواز دے ،بلند کردار اور بلند نظری میں وہ ہمت پیدا کر کہ تو کاتب تقدیر کی نظرکرم میں آجائے جس نے تیری تقدیر لکھی۔موت ِبرحق اور ہمارا مقدر ہے ہم انسان کیا ہر جاندار کو مرنا ہے لیکن اللہ رب العزت نے حیوان ناطق کو سوچنے اور سمجھنے کیلئے دماغ بھی تو دیا ہے شعور کی دولت سے بھی تو نوازاہے ۔ سوچنا ہے ہمیں اس لیے کہ اپنی بعد از وفات کی زندگی کو ہم نے اپنے کردار وعمل میں اُس مقام پر لے جانا ہے کہ موت بھی ہم پر ناز کرے ۔موت تو پاﺅں رگڑ رگڑ کر بستر پر بھی آئے گی جانے کہاں کس موڑ پر کس حالت میں موت آئے لیکن ذراسوچئے موت اگر شہادت کی معراج پر ہو تو کیسی ہوگی ۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف انسان پیدا کیا ہے وہ حالت ِکفر میں کفر کی موت مرتا ہے او راُمت ِمصطفےٰ میں شہادت کی موت ۔
حضرت علی ؓکلمہ توحید پڑھنے سے پہلے کیا تھے مسلمان نہیں بلکہ مسلمانی کے دشمن تھے لیکن اپنی بہن اور بہنوئی سے کلام ربانی سنا تو ہوش آیا ،اُس نے اپنے وجود اور احساس میںخودی کی حقیقت کو تسلیم کرلیا ،اُس کے شعور کی بلندی ءپرواز نے اپنی تقدیر لکھنے والے کو محسوس کیا اور سرور ِکائنات کے حضور کلمہ حق پڑھ کر اپنی تقدیر کو اُس مقام پر لاکھڑا کیا کہمیدانِکربلا میں اُس کے بچوں نے دین مصطفےٰ اور توقیر مصطفےٰ کی تاریخ رقم کرکے لکھنے والے کو یہ لکھنے پر مجبور کر دیا ۔
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
اور علامہ اقبال نے فرمایا
دل میں ہے مجھ بے عمل کے داغ ِعشق اہل بیت
ڈھونڈتا پھرتا ہے دامن ظلِ حیدر ؓکیلئے
یہی ہے میری سوچ کے مطابق حضرت علامہ اقبال کے اس شعر کے پہلے مصرعے کی مختصر سی تفسیر ۔
خودی کو کربلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے :۔اگرہم اس شعر کے پہلے مصرعے پر دل کی گہرائی میں غور کریں تو دوسرا مصرعہ ،اللہ رب العزت کے دربار ِرحمت سے رحم وکرم کی برسات کی صورت میں اُترے گارحمت ِخداوندی شعر کے پہلے مصرعے میں انسانی کردار کی عظمت کے اعتراف میں دنیا اور آخرت کی زندگی کے حسن پر رحمت بن کر ایسے برسے گی جیسے حضرت علامہ اقبالؒجیسے محبوبانِ مصطفےٰ پر برستی ہے ۔لیکن ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکیں گے کہ ہماری خودی ہم پر اس قدر حاوی ہوچکی ہے کہ ہم اپنے وجود کی حقیقت سے بے خبر ہیں غم زندگی اور غم روزگار میں ایسے گم ہوگئے ہیں کہ باجماعت نمازمیں امام کی امامت میں نیت کرتے ہیں پیچھے اس امام کے اللہ اکبر آگے امام کی رضا ہے کیا پڑھتا ہے کیا کرتا ہے اور ہم امام کی امامت میں اپنے کاروبار حیات اور دنیا کو سوچتے ہیں بس اللہ اکبر کی صدا پر اُٹھک بیٹھک کرتے نماز ادا رکرتے ہیں ۔جب یہ صورتحال ہوتو خدا ہم سے کب ہماری رضا پوچھے گا ہم تو بس یہی کہیں یہ تقدیر کا لکھا تھاجو ٹل نہیں سکا ۔ہمار اایمان ہے کہ تقدیر کا لکھا ٹل نہیں سکتا لیکن تقدیر کے لکھے ک و کیسے سنوارنا ہے یہ سب کچھ توہماری خودی کے احساس میں ہے ۔حضرت علامہ اقبال ؒنے اپنے والدین کے حضور زندگی کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے جب خالقِ برحق کی عظمت اور والدین کی قدر کی حقیقت کو جاناتو کہہ دیا بڑی خوبصورت سی ہے ۔
یہ فیضانِ نظر تھا ،یاکہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل ؓکو آدابِ فرزندی
علامہ اقبالؒاپنے وجود کے خالق کے عشق میں گم ہوچکے تھے اُسے اپنی خودی کی بلندی کا احساس ہوچکا تھا ۔کسی مفکر کی یہ بات بھی علامہ اقبال کی خودی کی طرف اشارہ ہے کہ کسی نمازی نے دورانِ نماز سامنے سے گزرتے مجنوں کو دیکھا تو پکڑکر کہا تم دیکھ نہیں رہے ہیں نماز پڑھ رہاہوں ،مجنوں کہنے لگا ۔میں اپنے محبوب کے عشق میں اس قدر کھوچکا ہوں کہ گزرتے وقت آپ نظر نہیں آئے لیکن ایک بات تو بتاﺅ ،تم کیسے عاشق ہو اُس کے جس کو سجدہ کرتے ہو سجدہ کرتے وقت مجھے سامنے سے گزرتے دیکھ رہے ہو !
مجنوں کے ان الفاظ میں خودی کی پہچان کا اندازہ لگائےے کہ ہم کس قدر اپنی ذات اور خالقِ کائنات کی حقیقت سے آگاہ ہیں ۔
ذات اور خالقِ کائنات کی ذات ِبرحق سے آگاہی کیلئے ،خودی کی بلند پرواز میں اگر تقدیر کو سنوارنا ہے اور خدا کو اپنے بندے سے اُس کی رضا پوچھنے کی خواہش ہے تو اقبالؒکے اقبالیات میں سرورِکائنات کے فلسفہ حیات کو خود پر حاوی کرنا پڑے گا اور جب ہم اس مقام کی دہلیز پر قدم رکھیں گے تو آنے والا کل ہمیں بھی ان ہی لفظوں میں یاد کرے گا جن لفظوں میں آج ہم علامہ اقبال ؒکو یاد کرر ہے ہیں اور جب بھی ہم بفضل تعالیٰ اپنی خودی سے آگاہ ہوگئے تو رب کریم محمد مصطفےٰ سے اپنی محبت میں فرمائے گا ۔
کی محمد سے وفا تُونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں