ریاست مدینہ کا ماڈل… عدل و انصاف کی ضمانت

1 view
Skip to first unread message

aapka Mukhlis

unread,
Mar 3, 2013, 5:51:22 AM3/3/13
to bazm qalam, joinpa...@googlegroups.com
شاہنواز فاروقی
 
سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور ان کی آرزوئوں اور تمنائوں کے مظہر ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو جماعت اسلامی نے اپنے انتخابی منشور میں اس امر کا اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان میں ریاست مدینہ کی طرز کی ریاست قائم کرنا چاہتی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جماعت اسلامی کی آرزو ریاست مدینہ ہے اور اس کی تمنا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی آرزو کو اس کا عمل بنادے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کام اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی امداد و اعانت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو جماعت اسلامی کے رہنمائوں، کارکنوں اور متاثرین کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر دعا کریں کہ وہ پاکستان کے لوگوں کی آرزو بدل دیں اور ہمیں ریاست مدینہ کے خواب کو تعبیر عطا کرنے والا بنادیں۔ لیکن جماعت اسلامی کے منشور کے اس مرکزی نکتے کی معنویت کیا ہے؟
اِس وقت مسلم دنیا کے سیاسی منظرنامے پر نظر ڈالی جائے تو اس میں طرح طرح کے سیاسی ماڈلز کا شور برپا ہے۔ کوئی ’’ترک ماڈل‘‘ کے گن گا رہا ہے۔ کوئی ’’ملائیشیائی ماڈل‘‘ پر فریفتہ ہے۔ کوئی امریکہ اور یورپ کے ماڈل پر جان چھڑک رہا ہے۔ اس منظرنامے میں جماعت اسلامی پاکستان ’’ریاست مدینہ کے ماڈل‘‘ کو لے کر کھڑی ہوگئی ہے۔ یہ تقریباً وہی منظر ہے جو قیامِ پاکستان کے مطالبے کے وقت موجود تھا۔ جب پاکستان کا مطالبہ کیا گیا تو اُس وقت دنیا پر دو ’’ازموں‘‘ یعنی نیشنل ازم اور کمیونزم کا غلبہ تھا۔ بعض قومیں اپنا تشخص قوم پرستی کے حوالے سے متعین کررہی تھیں اور بعض قومیں کمیونزم کے حوالے سے اپنی شناخت کا تعین کررہی تھیں۔ اس صورتِ حال میں برصغیر کی ملّتِ اسلامیہ نے کہا کہ ہماری پہچان نہ نسل ہے، نہ جغرافیہ ہے، نہ زبان ہے، نہ مارکسزم ہے، بلکہ ہماری پہچان لاالہٰ الا اللہ محمد الرسول اللہ ہے۔ برصغیر کی ملت اسلامیہ کے اس فیصلے سے کئی حقائق آشکار ہورہے تھے۔ مثلاً برصغیر کی ملت اسلامیہ بتا رہی تھی کہ وہ ’’بصارت‘‘ کے بجائے ’’بصیرت‘‘ پر انحصار کررہی ہے۔ برصغیر کی ملت اسلامیہ کہہ رہی تھی کہ ہماری نظر ’’زمین‘‘ سے زیادہ ’’آسمان‘‘ پر ہے۔ برصغیر کی ملت اسلامیہ اعلان کررہی تھی کہ وہ ’’اصلاح‘‘ سے زیادہ ’’انقلاب‘‘ کی قائل ہے۔ تجزیہ کیا جائے تو جماعت اسلامی نے ریاست مدینہ کو ماڈل قرار دے کر یہی ظاہر کیا ہے کہ وہ ’’بصارت سے زیادہ بصیرت‘‘ پر انحصار کررہی ہے۔ وہ ’’زمین‘‘ سے زیادہ ’’آسمان‘‘ پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اس کے نزدیک ’’اصلاح‘‘ سے زیادہ ’’انقلاب‘‘ اہم ہے۔ لیکن ریاست مدینہ کے ماڈل پر اصرار کا مفہوم صرف یہیں تک محدود نہیں۔
جماعت اسلامی نے ریاست مدینہ کو اپنا مثالیہ یا Ideal قرار دے کر اسلام اور مسلمانوں کی اُس قوت پر اصرار کیا ہے جو ’’ماضی‘‘ کو ’’حال‘‘ بنا سکتی ہے اور ’’قدیم‘‘ کو ’’جدید اسلوب‘‘ میں دریافت کرسکتی ہے۔ بعض لوگ ریاست مدینہ کے نمونے پر اصرار کا مطلب یہ لیتے ہیںکہ ہم حال کو چھوڑ کر ماضی میں جاکر آباد ہونا چاہتے ہیں۔ حالانکہ اسلام اگر ہر زمانے کے لیے ہے جو کہ وہ ہے تو ریاست مدینہ کے نمونے پر اصرار کا مفہوم یہ ہے کہ اسلام کے معنی کو حال کے پیرائے میں دریافت کرکے دکھانا ہے۔ مگر یہ کام وہی کرسکتا ہے جس کو اسلام کے معنی پوری طرح یاد ہوں اور اس کے پاس تخلیقی صلاحیت بھی ہو۔ بلاشبہ عصر حاضر میں سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی فکر ماضی کو حال کے پیرائے میں دریافت کرنے کی سب سے بڑی علامت ہے اور مولانا کی شخصیت غیر معمولی تخلیقی استعداد کا استعارہ ہے۔ بلاشبہ جماعت اسلامی اس ورثے کی سب سے بڑی امین ہے۔ لیکن ریاست مدینہ کے ماڈل پر اصرار کا مفہوم اس گفتگو سے آگے جاتا ہے۔ اس لیے کہ جب کوئی گروہ یہ کہتا ہے کہ اس کا مثالیہ یا Ideal ریاست مدینہ ہے تو وہ کہتا ہے کہ وہ اسلام کو صرف ایک عقیدہ، ایک نظریہ نہیں سمجھتا بلکہ وہ اسے ایک مکمل تہذیبی تجربہ سمجھتا ہے، اس لیے کہ ریاست نظریے کو تجربے میں ڈھالتی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو جماعت اسلامی ریاست مدینہ کے ماڈل پر اصرار کرتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ ہم اپنے عقیدے کی پیدا کی ہوئی تہذیب اور تہذیب سے برآمد ہونے والی تاریخ کو بھی سینے سے لگائے کھڑے ہیں اور ہم نے اسلام کی کلیّت کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا ہے۔
اب یہ جماعت اسلامی کے رہنمائوں اور کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود بھی ان حقائق کا ادراک کریں اور اس ادراک میں پاکستان کے خواص اور عوام کو بھی پوری طرح شریک کریں۔ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ ریاست مدینہ ہمارے لیے کن حقائق کی علامت ہے؟
ریاست مدینہ بنیادی طور پر اس بات کی علامت ہے کہ معاشرے میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی محبت کو ہر چیز پر فوقیت حاصل ہوگئی ہے اور شعورِ بندگی شعورِ زندگی پر اس طرح غالب آگیا ہے کہ شعورِ زندگی اور شعورِ بندگی ہم معنی الفاظ بن گئے ہیں۔ یہ اسلامی ریاست کا سب سے بڑا مثالیہ یا سب سے بڑا Ideal ہے، اور ریاست مدینہ اس کی سب سے بڑی علامت ہے۔ مثال کے طور پر نماز ایک عبادت ہے مگر ریاست مدینہ میں نماز ایک طرزِ حیات بن گئی تھی اور مدینے کا معاشرہ نماز کے سلسلے میں اتنا حساس ہوگیا تھا کہ جو شخص دو تین وقت تواتر کے ساتھ مسجد میں حاضر نہ ہوتا اُس کے بارے میں سمجھا جاتا کہ یا تو وہ بیمار ہے یا منافق ہوگیا ہے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ نماز اسلامی معاشرے میں شعورِ بندگی کا سب سے بڑا مظہر ہے۔ لیکن ریاست مدینہ میں نماز کوئی زندگی سے کٹی ہوئی روحانی سرگرمی نہیں تھی، بلکہ ریاست مدینہ نے انسانوں کی پوری زندگی ہی کو نماز یا عبادت بنا دیا تھا۔ اس ریاست میں عبادت، اخلاق، کردار، ریاست، سیاست، معیشت، دوستی، دشمنی سب کچھ اللہ کے لیے تھی۔ اس سلسلے میں صحابہ کی جماعت کا یہ حال تھا کہ تحویلِ قبلہ کا حکم آیا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی حالت میں اپنا رخ قبلۂ اوّل سے خانہ کعبہ کی طرف کیا تو صحابہؓ نے اس بات کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ پہلے نماز ختم کرلیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخ کیوں تبدیل کیا؟ بلکہ جیسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ تبدیل کیا ویسے ہی صحابہ کرام کی جماعت نے بھی اپنا قبلہ تبدیل کرلیا۔ اسی طرح جب غزوہ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 313 لوگوں کی عسرت زدہ جماعت کو ایک ہزار افراد کے ہر طرح سے مسلح لشکرِ جرار کے سامنے کھڑا کردیا تو کسی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں پوچھا کہ یہ آپؐ کیا کررہے ہیں؟ کیا آپؐ کو طاقت کا ہولناک عدم توازن نظر نہیں آرہا؟ بلاشبہ اس موقع پر بعض صحابہ میں تشویش تھی، مگر یہ تشویش بشری تقاضے کی وجہ سے تھی۔ ایمان کی کوئی کمزوری صحابہ کرامؓ کو لاحق نہ تھی۔ عرب معاشرہ اپنی نہاد میں ایک قبائلی معاشرہ تھا اور اس میں قبیلے اور نسب کی عصبیت بہت قوی تھی، مگر ریاست مدینہ نے اسلام ہی کو انسانوں کی محبت، عصبیت، تشخص اور فخر کا مقام بنادیا تھا۔ اس معاشرے میں شعورِ بندگی شعورِ زندگی پر اس حد تک غالب تھا کہ عام افراد بھی منقلب ہوگئے تھے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک عورت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا کہ مجھ سے زنا کا ارتکاب ہوگیا ہے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر حد جاری فرمائیے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا کہ پھر آنا۔ وہ عورت کچھ عرصے بعد پھر آئی۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر لوٹا دیا۔ کچھ عرصے بعد وہ عورت پھر خدمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد جاری فرما دی۔ کسی نے اس کے لیے برے کلمات کا اظہار کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی تو ناراض ہوئے اور فرمایا کہ اس عورت کی توبہ ایسی تھی کہ پورے معاشرے کے گناہوں کی معافی کے لیے کفایت کرسکتی ہے۔ یہ شعورِ بندگی معاشرے میں اتنا راسخ ہوا کہ حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں ایک ماں نے اپنی بیٹی سے کہا کہ دودھ میں پانی ملا دو۔ بیٹی نے کہا کہ امیرالمومنین نے دودھ میں پانی ملانے سے منع کیا ہے۔ ماں نے کہا کہ امیرالمومنین کون سے یہاں کھڑے دیکھ رہے ہیں! لڑکی نے کہا کہ امیرالمومنین نہیں دیکھ رہے تو کیا ہوا، اللہ تو دیکھ رہا ہے۔
انسانی زندگی میں انصاف کی اہمیت اتنی بنیادی ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا ہے کہ معاشرہ کفر کے ساتھ تو زندہ رہ سکتا ہے مگر انصاف کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ ریاست مدینہ کا کمال یہ ہے کہ ایک جانب وہ انصاف کی علامت ہے اور دوسری جانب احسان کی علامت ہے۔ انصاف ان لوگوں کے لیے ہے جو ظلم و زیادتی کا بدلہ لینا چاہتے ہوں اور معاف نہ کرسکتے ہوں، اور احسان ان لوگوں کے لیے ہے جو معاف کرسکتے ہوں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اسلام چاہتا ہے معاشرے میں ظلم نہ ہو، انصاف ہو۔ لیکن اسلام کا منشا ہے کہ جو لوگ مرتبۂ انصاف سے بلند ہوسکتے ہوں انہیں مرتبۂ انصاف سے بلند ہوکر مرتبۂ احسان میں داخل ہوجانا چاہیے۔ اس لیے کہ احسان اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور احسان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ ہے۔ ریاستِ مدینہ کے احسان کی بلند ترین علامت یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کو فتح کیا تو اپنے ساتھ ظلم و زیادتی کرنے والے تمام افراد کو معاف کردیا حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بدلہ لینے پر پوری طرح قادر تھے۔ اسلامی معاشرے میں انصاف کی اہمیت یہ ہے کہ قریش کے طبقۂ امراء کی ایک عورت کو ایک جرم میں سزا ہوئی تو لوگ حضرت اسامہؓ کے پاس پہنچے اور کہا کہ آپؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی سفارش کردیجیے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو ناراض ہوئے، اور کہا کہ تم سے پہلے کی امتیں اس لیے تباہ ہوئیں کہ وہ اپنے طاقت ور لوگوں کو قانون و انصاف کے دائرے سے نکال دیتی تھیں اور کمزوروں پر قانون کا اطلاق کرتی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر فاطمہؓ بنتِ محمدؐ بھی چوری کرتیں تو ان کے بھی ہاتھ کاٹے جاتے۔ ریاست مدینہ میں حکمران بھی قانون سے بالاتر نہیں تھے بلکہ انہیں قانون سے رتی برابر انحراف بھی پسند نہ تھا۔ حضرت عمرؓ ایک بار ایک مقدمے میں قاضی کے روبرو پہنچے تو قاضی ان کے احترام میں کھڑا ہوگیا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اگر تم یہ کرو گے تو انصاف کیسے کرو گے؟ حضرت علیؓ اور ایک یہودی کے مقدمے کا واقعہ مشہور ہے۔ اس میں قاضی نے حضرت علیؓ، ان کے غلام اور بیٹے امام حسنؓ کی شہادتیں قبول کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ حضرت علیؓ تو خود فریق ہیں اور فریق کی شہادت کا کوئی مفہوم نہیں، حضرت حسنؓ حضرت علیؓ کے بیٹے ہیں اور باپ کے حق میں بیٹوں اور آقا کے حق میں غلام کی شہادت قابلِ التفات نہیں۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو جماعت اسلامی کی تاریخ عدل و احسان کی پاسداری کی تاریخ ہے۔ جماعت اسلامی نے ایک جانب معاشرے میں اللہ کے قانون کی بالادستی کی جدوجہد کی ہے، دوسری جانب اس نے اپنے تربیتی نظام میں تقویٰ اور علم کو فضیلت کے طور پر شامل کیا ہے، اور تیسری جانب اس نے فرقے، مسلک، مکتب، رنگ، نسل، زبان، صوبے اور جغرافیے سے بالاتر ہوکر سوچا اور عمل کیا ہے۔ کاش اس سلسلے میں جماعت اسلامی کا ریکارڈ موجودہ ریکارڈ سے زیادہ اچھا ہوتا، مگر بہرحال اس حوالے سے جماعت اسلامی کا موازنہ دوسری مذہبی اور سیاسی جماعتوں سے نہیں کیا جاسکتا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ جماعت اسلامی نے 1970ء میں انفرادی حیثیت میں انتخابات میں حصہ لیا تھا تو اس کا انتخابی نشان ترازو تھا۔ جماعت اسلامی اِس بار اپنے انفرادی تشخص کے ساتھ انتخابی معرکے میں ’’دادِ شجاعت‘‘ دینے والی ہے تو اِس بار بھی اس نے ترازو کا نشان حاصل کیا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ریاست مدینہ کے تصور، ترازو کے نشان اور جماعت اسلامی میں ایک ربطِ باہمی ہے۔
ریاست مدینہ خدمت، ایثار، غم خواری اور غمگساری کی علامت ہے اور اس کا بنیادی تصور یہ ہے کہ ہمارا خاندان ایک چھوٹی دنیا ہے، اور یہ دنیا ہمارا بڑا خاندان ہے۔ اس ریاست کے حکمرانوں کا عالم یہ تھا کہ حضرت ابوبکرصدیقؓ اپنی رعیت کے بعض گھروں میں بکریوں کا دودھ دوہ دیتے تھے، اور حضرت عمر فاروقؓ اپنی کمر پر آٹا لاد کر ضرورت مندوں تک پہنچتے تھے۔ اس ریاست میں ایثار کی سب سے بڑی علامت حضرت ابوبکرؓ تھے جو جہاد کے لیے گھر کا سارا مال اٹھا لائے اور جب پوچھا گیا کہ گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟ تو فرمایا کہ ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کافی ہیں۔ حضرت عثمانؓ اس ریاست کے چند مال دار ترین افراد میں سے تھے مگر ان کا عالم یہ تھا کہ اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کی بھلائی کے لیے ان سے ایک درہم مانگا جاتا تو وہ تین درہم عطا کرتے تھے۔ جماعت اسلامی کی سیاست کو دیکھا جائے تو وہ اللہ کی کبریائی کے اعلان اور نفاذ اور انسانوں کی خدمت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ ملک میں زلزلہ آیا تو جماعت اسلامی ریاست بن کر کھڑی ہوگئی۔ اس نے پانچ ارب روپے نقد اور اشیاء کی صورت میں صرف کیے۔ اور اگر اس کی انسانی خدمت کی قیمت کو بھی شمار کیا جائے تو جماعت اسلامی نے زلزلے سے متاثرہ افراد کے لیے پندرہ سے بیس ارب روپے صرف کیے۔ ملک میں دو سال تواتر کے ساتھ سیلاب آیا تو ایک بار پھر جماعت اسلامی خدمت کی علامت بن کر سامنے آئی۔ جماعت اسلامی کا ادارہ الخدمت ملک میں عوامی خدمت کی ایک بڑی علامت ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنما نعمت اللہ خان کو چار سال کے لیے کراچی کی خدمت کا موقع ملا تو انہوں نے شہر میں ترقی کو ایک ملک گیر مثال بنادیا۔ اہم بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے عوام کی خدمت کو اقتدار سے مشروط نہیں کیا۔اقتدار میں نہ آنے کے باوجود جماعت اسلامی کی عوامی خدمت کا دائرہ مسلسل وسیع ہوا ہے۔ اس صورت حال کا مفہوم یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے لیے عوام کی خدمت اللہ کی رضا کے حصول کا ذریعہ ہے اور یہی ریاست مدینہ کے ماڈل کا پیغام ہے کہ انسانوں کی خدمت اللہ کی رضا کے لیے کی جائے۔
شاہنواز فاروقی
 

M.Shahid Rizwan

unread,
Mar 3, 2013, 6:36:15 AM3/3/13
to BAZMe...@googlegroups.com, joinpa...@googlegroups.com
بھائی جماعت تو پچھلے ۷۵ سال سے یہ نعرہ لگا رہی ہے آج تک صرف نعرہ ہی ہے حالانکہ نظام مصطفیٰ تحریک میں تو قران پر ہاتھ رکھ کر قسم بھی کھائی تھی مگر پھر مارشل لاء میں وزارتیں حاصل کیں

یہ سیاسی فورم نہیں ہے اس لیے آپ اعجاز شاہین صاحب کی ہدایت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس قسم کے مضامین سے پرہیز کریں جس سے کسی سیاسی جماعت کی تشہیر ہو۔ واضح رہے کہ جماعت بہر کیف ایک سیاسی جماعت ہے

 





Mohammed Shahid Rizwan




From: aapka Mukhlis <aap...@yahoo.com>
To: bazm qalam <bazme...@googlegroups.com>
Cc: "joinpa...@googlegroups.com" <joinpa...@googlegroups.com>
Sent: Sunday, March 3, 2013 2:51 PM
Subject: {20219} ریاست مدینہ کا ماڈل… عدل و انصاف کی ضمانت

--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
 
بزم قلم گروپ میں شمولیت کے لیۓ یہاں کلک کیجے
 
 
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
 
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"
http://www.facebook.com/bazmeqalam.googlegroup
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to BAZMeQALAM+...@googlegroups.com.
For more options, visit https://groups.google.com/groups/opt_out.
 
 


Parvez Muzaffar

unread,
Mar 3, 2013, 9:34:20 AM3/3/13
to BAZMe...@googlegroups.com


Please find attached this week's Hazir JawabiyaaN by Muzaffar Hanfi.


Regards
Parvez Muzaffar
moz-sila 28.gif

farida lakhany

unread,
Mar 4, 2013, 7:19:52 AM3/4/13
to bazme...@googlegroups.com
This item is not displayed.Please send it back.
Thanks
Farida

> To: BAZMe...@googlegroups.com
> Subject: {20229} Re: Weekly Hazir JawabiyaaN by Muzaffar Hanfi
> From: pm...@aol.com
> Date: Sun, 3 Mar 2013 09:34:20 -0500

>
>
>
> Please find attached this week's Hazir JawabiyaaN by Muzaffar Hanfi.
>
>
> Regards
> Parvez Muzaffar
>
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages