سہیل انجم
رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہمارے سروں پر سایہ فگن ہو گیا ہے۔ چاند نکلتے ہی مسلم علاقوں کا ماحول روحانی ہو جائے گا۔ مسجدیں عبادت گزاروں سے بھر جاتی ہیں۔ تلاوت قرآن کا سلسلہ چل پڑتا ہے۔ جنھوں نے گیارہ مہینے اس مقدس کتاب کو چھوا بھی نہیں ہوگا وہ بھی اس ماہ میں ایک، دو یا تین بار قرآن مکمل کر لیتے ہیں۔ نماز تراویح کا انتظام مسجدو ںکے علاوہ گھروں میں بھی ہوتا ہے۔ مسجدوں میں جہاں آخری عشرے کے آخری دنوں میں قرآن مکمل ہوگا وہیں گھروں میں ہونے والی نماز تراویح میں ہفتہ دس دن میں مکمل قرآن سن لیا جائے گا۔ اب یہ الگ بات ہے کہ حافظ حضرات کیسے پڑھتے ہیں اور مصلی کیسے سنتے ہیں۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ قرآن سنا نے والے ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں۔ حالانکہ مسلم ملکوں اور بالخصوص انڈونیشیا و ملیشیا سے ایسی متعدد ویڈیوز وائرل ہوتی ہیں جن میں قاری حضرات کو انتہائی سکون و اطمینان کے ساتھ اور ٹھہر ٹھہر کر قرآن سناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ گویا کہ رمضان المبارک میں مسلم علاقوں میں جو ماحول ہوتا ہے دلوں میں دین کا جوش اور خدمت خلق کا جذبہ بیدار کرتا ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت اسی مہینے میں زکوٰة نکالتی ہے۔ حالانکہ زکوٰة نکالنے کے لیے کوئی خاص مہینہ مقرر نہیں ہے۔ یوں تو پورے سال مدارس و مساجد کے سفرا تعاون کے لیے شہر شہر اور قریہ قریہ گھومتے ہیں۔ لیکن اس مہینے میں ان کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات مسجدوں کے صحن میں یا ا س کے باہر اتنے سفیر اکٹھا ہو جاتے ہیں کہ مسجد سے نکلنا مشکل ہوتا ہے۔ اس میں ان کی کوئی غلطی نہیں۔ ان کے اداروں کے ذمہ داران جانتے ہیں کہ اس مہینے میں مسلمانوں کاجذبہ ¿ تعاون جوش پر ہوتا ہے۔ زکوٰة نکالنے والوں کو اپنی زکوٰة ادا بھی کرنی ہوتی ہے۔ لہٰذا ان کو سفرا یا غربا و مساکین کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ انھیں اپنی زکوٰة کی رقوم دے کر ایک اسلامی فریضے سے سبکدوش ہو سکیں۔ یہ الگ بات ہے کہ گلیوں میں گھوم گھوم کر اور مسجدوں کے دروازوں پر کھڑے ہو کر بھیک مانگنے والے حقیقی ضرورت مند ہوتے ہیں یا نہیں۔ اکثر و بیشتر اس قسم کی خبریں منظر عام پر آتی رہتی ہیں کہ فلاں جگہ ایک ایسے فقیر کا انکشاف ہوا ہے جو کروڑ پتی ہے۔ جس کے متعدد فلیٹس ہیں۔ جس کے پاس بے تحاشہ دولت ہے۔ لیکن ان فقیروں کی تصدیق کرنے کون جائے اور کیسے کرے۔ یہ کیسے پتہ لگایا جائے کہ جو فقیر صدقہ، زکوٰة، امداد طلب کر رہا ہے وہ حقیقی ضرورت مند ہے یا نہیں۔ البتہ جو پیشہ ور ہیں ان کا معاملہ بالکل واضح ہے۔ لیکن اسلام میں جہاں بھیک مانگنے کو ناپسند کیا گیا ہے وہیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی سائل کو مت جھڑکو۔ بہرحال یہ سب باتیں اپنی جگہ پر۔ کچھ اور باتیں بھی ہیں جن پر گفتگو کی جانی چاہیے۔
ہمیں از خود اپنا احتساب کرنا چاہیے کہ ہم جو اس مہینے میں بہت دیندار ہو جاتے ہیں بقیہ مہینوں میں ہمارا کیا کردار ہوتا ہے۔ کیا ہم حقداروں کو ان کا حق دیتے ہیں۔ سوال کرنے والوں کو جھڑکتے تو نہیں۔ جھوٹ، فریب اور بے ایمانی سے بچتے ہیں یا نہیں۔ ترکے کی تقسیم اسی طرح کرتے ہیں جس طرح کرنے کا حکم ہے اور بہنوں کو بھی ان کا حق دیتے ہیں۔ پاکستان کے مشہور رائٹر اشفاق احمد اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں کہ ’مِیوا نامی ایک جاپانی لڑکی میری آفس کولیگ تھی۔ رمضان شروع ہوا تو کہنے لگی یہ جو تم رمضان کا پورا مہینہ صبح سے شام تک بھوکے پیاسے رہتے ہو اس سے تمہیں کیا ملتا ہے۔ میں نے اسے بتایا کہ روزہ ایک عبادت ہے اور یہ صرف بھوکے پیاسے رہنے کا نام نہیں ہے۔ بلکہ روزے کے دوران جھوٹ نہ بولنا، ایمانداری سے اپنا کام کرنا، پورا تولنا، انصاف کرنا وغیرہ وغیرہ اور تمام برے کاموں سے بھی بچنا ہوتا ہے۔ وہ بڑی سنجیدگی سے بولی آپ کے تو مزے ہیں جی۔ ہمیں تو سارا سال ان کاموں سے بچنا ہوتا ہے اور آپ کو بس ایک مہینہ‘۔ یہ آج کے مسلمانوں کے کردار پر بہت بڑا طنز ہے۔ بہرحال یہ اور ایسی بہت سی باتیں ہیں جو عام مسلمانوں سے متعلق ہیں۔ لیکن ایک معاملہ تاجر برادری یا دکانداروں سے تعلق رکھتا ہے۔ ہندوستان میں ہم دیکھتے ہیں کہ دیوالی کے موقع پر غیر مسلم دکاندار اپنی دکانوں کی اشیا نصف قیمت یا کم قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔ اس کا مقصد خواہ دکان سے مال باہر نکالنا ہو یا صارفین کو سستی اشیا مہیا کرانا۔ لیکن اس سے انکار نہیں کہ اس روایت کے سبب صارفین کو، وہ چاہے مسلم ہوں یا غیر مسلم مالی فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن مسلم دکاندار اس کا الٹا کرتے ہیں۔ وہ ضروری اشیا کے نرخ بڑھا دیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کو یہ سامان چاہیے ہی۔ رمضان اور عید الفطر کے تقاضے کے تحت وہ ان اشیا کو خریدیں گے ہی۔ لہٰذا قیمت بڑھا کر اتنا کما لیا جائے کہ باقی گیارہ مہینے کم آمدنی ہونے پر بھی کوئی فرق نہ پڑے۔ یہ صرف ہندوستان اور پاکستان کا معاملہ نہیں ہے بلکہ سعودی عرب میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ ایام حج میں ضروری اشیا کی قیمتیں آسمان پر پہنچ جاتی ہیں۔ ان دنوں میں جوسامان تین سو ریال میں ریال میں ملے گا ایام حج کے بعد پچاس ریال میں مل جائے گا۔ خاص طور پر مکہ کے ٹیکسی ڈرائیور بھی موقع کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ حجاج کو لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ عام دنوں میں جتنی مسافت کا کرایہ دس ریال ہوتا ہے ایام حج میں دو سو تین سو ریال وصول کرتے ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہاں حجاج کے درمیان جس طرح اشیائے خورد ونوش تقسیم کی جاتی ہیں وہ منظر دنیا میں کسی اور ملک میں دیکھنے کو نہیں ملے گا۔ اسی طرح رمضان المبارک کے مہینے میں اور دیگر مہینوں میں بھی ضرورت مندوں کی جس طرح مدد کی جاتی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ رمضان میں روزہ داروں کے درمیان اشیائے خورد و نوش کی تقسیم کا تو سیلاب سا آجاتا ہے۔ عام دنوں میں بھی کچھ لوگ حرمین میں افطاری کا انتظام کرتے ہیں۔ اس رجحان کی بہرحال ستائش کی جانی چاہیے۔ لیکن ہندوستانی مسلمانوں میں اس جذبے کا فقدان ہے۔
رمضان المبارک کی آمد پر پڑوسی ملک میں کیسی تیاری ہوتی ہے اس کی تفصیل وہا ںکے اخبارات میں پڑھی اور ٹیلی ویژن پر دیکھی جا سکتی ہے۔ کثیر الاشاعت اخبار روزنامہ جنگ میں ایک دلچسپ خبر پر نظر پڑی جو قارئین کے مطالعے کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔ خبر کے مطابق ’سرکاری طور پر ماہ رمضان کے لیے مختلف اشیا کی قیمتیں مقرر کر دی گئی ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سو گرام چپاتی کی قیمت چودھ روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ 120 سے 150گرام تندوری نان کی قیمت 18سے 21 روپے اور 180گرام تندوری نان کی قیمت 27 روپے مقرر ہے۔ بڑے جانور کے ہڈی والے گوشت کی قیمت ایک ہزار روپے کلو اور بغیر ہڈی والے گوشت کی قیمت 1300 روپے کلو مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح کٹرے کے ہڈی والے اور بغیر ہڈی والے گوشت کی قیمت بھی مقرر ہے۔ جبکہ بکرے کے گوشت کی قیمت 2200 روپے کلو مقرر کی گئی ہے۔ اے کلاس بیکری پر 60 گرام آلو کے سموسے کی قیمت چالیس روپے اور 35گرام قیمے کے سموسے کی قیمت بھی چالیس روپے ہے۔ اسی طرح ایک کلو پکوڑے کی قیمت 640 روپے مقرر کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستانی کرنسی ہندوستانی کرنسی کے مقابلے میں بہت کمزور ہے۔ ہندوستان میں ایک ڈالر 90 روپے 77 پیسے کا ہے تو پاکستان میں ایک ڈالر 279 روپے 64 پیسے کا ہے۔ بہرحال اس خبر کو پڑھ کر ذہن میں یہ خیال آیا کہ کیا ہندوستان میں بھی اس طرح کا کوئی نظام نافذ ہو سکتا ہے یا مسلم دکاندار از خود اس قسم کا کوئی فیصلہ کرکے صارفین کو راحت پہنچا سکتے ہیں۔ اگر نہیں تو کیا وہ خود احتسابی کے عمل سے گزرنے کے لیے تیار ہیں۔
موبائل: 9818195929