Dubai Ka pehla aur azeem tarin mushairah (2) Article By Muniri

187 views
Skip to first unread message

Abdul Mateen Muniri

unread,
Sep 4, 2010, 9:51:21 AM9/4/10
to Bazm e Qalam
دبی میں پہلا اور سب سے عظیم الشان مشاعرہ ۔۲۔
تحریر عبد المتین منیری
        

اعجاز رحمانی کا تذکرہ آیا تو آپ سے وابستہ کچھ اور یادیں  بھی تازہ ہوگئیں، اعجاز صاحب بنیادی طوری پر ایک دعوتی تحریکی اور اسلامی شاعر ہیں، علی گڑھ میں پیدا ہوئے ، لیکن شعور کی زندگی پاکستان میں گذاری ، ماہر القادری و۔غیر ہ سے قریب رہے، آپ کی حمد ونعت اور تحریکی شاعری بڑی ہی زور دار ہے، ان میدانوں میں آپ کی ٹکر کے شاعر شاذو نادر ہی ہونگے ، لیکن غزل اور شاعری کے دوسری اصناف میں بھی آپ نے وافر و معیاری کلام یادگار چھوڑا ہے، دس سال بعد اطہر علی زید ی کی دعوت پر ۱۹۹۱ء میں میگا مشاعرے میں شریک ہوئے تھے، اس دوران ہمیں بھی آپ  سے گھل ملنے کا موقعہ ملا تھا ، بڑے ہی ملنسار اور با اخلاق آدمی ہیں،  اس موقعہ پر ہم نے آپ سے وقت لے کر  خالص دعوتی اور تحریکی کلام  ریکارڈ کروایا تھا ، یہ کلام خون میں تموج پیدا کرنے والا اور عمل کی دعوت دینے والا تھا،اس دوران آپ نے 
اپنی مشہور نظمیں ، شکر واجب ہے تیرا رب میرے ،زندگانی کو وقف شریعت کرو،میرا لہو کل بھی بہ رہا تھا،نافذ جو محمد کی شریعت نہیں ہوگی، امن و اخوت ،المدد المدد یا خدا،شہروں شہروں دھوم ہے جس کی،ملکوں ملکوں دھوم تھی اس کی، پیش کیا تھا،  اس طرح اہالیان بھٹکل کی جانب سے ایک شعر ی نشست بھی منعقد ہوئی تھی جو بڑی کامیاب تھی ، اس میں آپ کے دوسرے رنگ کا کلام تھا ، جس میں روح تغزل غالب تھا،
         اس کے بعد آپ ڈاکٹر سید انور علی کے مسلم انٹرنیسنل سکول  ابو ظبی کے مشاعرے ، اور اطہر علی زیدی کے مشاعرے میں تشریف لائے  تھے، جب بھی آئے اہالیان بھٹکل کو نوازا،آخری مرتبہ جو نشست ہوئی تھی وہ گیارہ ستمبر کی شب تھی ، اس مجلس میں آپ نے 
 اپنی نظم چراغوں کا شہر  پیش کی اس نظم کا آغاز ہے :
بے نور ہر مکان ہے چراغوں کے شہر میں
اب روشنی کہاں ہے چراغوں کے شہر میں
دھرتی شفق نشاں ہے چراغوں کے شہر میں
ایک سیل خوں رواں ہے چراغوں کے شہر میں
سورج کو ایک عمر ہوئی لگ گیا گہن
مہتاب نوحہ ہے چراغوں کے شہر میں
اس پر تو ایک سماں بندھ گیا ۔حالانکہ اعجاز رحمانی کی یہ ایک قدیم المیہ نظم کراچی کے منظر نامے سے متعلق تھی ، غالبا ۲۰۰۱ء کے بعد آپ کی دوبارہ دبی آمد نہیں ہوئی۔ ماہر القادری نے ۱۹۷۸ء میں جدہ میں کراچی نامہ کے عنوان ایک شوخ  نظم پیش کی تھی ، اسے اعجاز صاحب کی نظم کے ساتھ سنا جائے تو مزہ دو آتشہ ہوجاتا ہے۔ دونوں شعراء کی آواز میں کلام اردو آڈیو ڈاٹ کام پر دستیاب ہے۔
اللہ تعالی نے اعجاز صاحب میں  انس ومحبت پیدا کرنے کے جملہ اوصاف سے نوازا ہے، اخلاق حمیدہ کا اعلی نمونہ ، زبان گنگا جمنی ،آواز بلا کی    خوبصورت ، اس پر دل جذبہ دینی سے مالا مال ، ہم نے جب اپنا  ریکارڈ کیا ہوا آڈیو ویڈیو آرکائیو دیکھا تو اس میں  ساٹھ (۶۰) کے قریب مختلف نوع کا کلام نکلا ۔
      مجروح سلطانپوری نے ۱۹۸۱ء میں اپنے انٹرویو میں ایک مرتبہ کہا تھا کہ بڑا  شاعر وہ ہے جس کا کلام زبان پر چڑھ جائے ، سننے کے بعد اسے گنگنانے پر آدمی مجبور ہو اورپوری شعر ی زندگی میں دو چار ضرب المثال کی حیثیت اختیار کرجائیں، میں سردار جعفری کو بڑا شاعر نہیں مانتا ، بتائیں ان کا کون کون سا کلام آپ کو یاد ہے، مجروح کے اس معیار کو قبول کیا جائے تو اعجاز رحمانی کے بڑے شاعر ہونے میں کوئی شک نہیں رہتا ۔ ان کی نطم امن واخوت تو ایک علامت بن چکی ہے، میرا لہو ، اے بوسنیہ کے مظلومو اللہ تمھار ا حافظ ہے، جیسی نظمیں تو جیسے سنتے ہی زبان پر چڑھ جاتی ہیں، لیکن اعجاز رحمانی کا نام آتے ہی  ہماری زبان  جس نظم کو گنگنانے لگتی ہے وہ ہے ۔ امن کے پیغامبر ۔ جس کے قطعات ہیں:
ہم اجالوں  کے پیغامبر ہیں
روشنی کی حمایت کریں گے
جو دئے ہم نے روشن  کئے ہیں
ان دیوں کی حفاظت کریں گے
اپنے سورج کو بجھنے نہ دیں گے
چاند روشن رہے گا ہمارا
یہ اندھیرے جو ہیں نفرتوں کے
ان  اندھیروں کو رخصت کریں گے
جو تعصب کی کرتے ہیں باتیں
وہ تو خود اپنے دشمن ہیں یارو
ہم محبت کے پیغامبر ہیں
ہم تو سب سے محبت کریں گے
طالب علم ہو  یا کہ تاجر
ہو وہ مزدور یا اپنے ہاری
یہ وطن سب کا پیار ا وطن ہے
سب ہی مل جل کہ خدمت کرین گے
باد نفرت مٹادے گی سب کچھ 
آتش گل جلادے گی سب کچھ
کیا رہے گا چمن میں بتاؤ
پھول ہی جب بغاوت کریں گے
اتحاد و اخوت کا مظہر
سبز پرچم ہمیشہ رہے گا
سبز پرچم کے سایہ تلے ہم
اہتمام اخوت کریں گے
یہ حکومت توہے آنی جانی
ہے محبت مگر جاودانی
تخت اور تاج تم کو مبارک
ہم دلوں پر حکومت کریں گے
امن ہے جان سے ہم کو پیارا
اتحاد اپنا اعجاز نعرہ
بھائی سے بھائی کو جو لڑائے
ہم نہ ایسی سیاست کریں گے
    اعجاز رحمانی جس اسلامی تحریک سے تعلق رکھتے ہیں ، اس کے بانی نے دنیا کو گذشتہ صدی میں اسلامی ادب  کے جانب بلایا تھا، اعجاز رحمانی کی آواز ایک طاقتور اور منفرد آواز تھی ،  لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس تحریک  والوں نے آپ کی  صحیح قدر نہیں کی۔    ورنہ شعر سخن کے جملہ ایوانوں میں اپنی آواز بلند رکھنے والا ایسا شاعر پیدا کرنا کسی تحریک کو جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔خدا سلامت رکھے اور تادیر آپ کا سایہ ہمارے سروں پر رکھے۔آمین 
      (آئندہ)

                                                                         عبد المتین منیری 
                               04-09-2010
                        ammu...@gmail.com


--
Abdul Mateen Muniri
General Secretary Bhatkallys Media Society
Editor And Director
www.urduaudio.com
www.akhbaroafkar.com

2010-09-04 Dubai Musahirah (02(.pdf
2010-09-04 Dubai Musahirah (02(.inp

Mohammad Aslam

unread,
Sep 4, 2010, 1:02:11 PM9/4/10
to bazme...@googlegroups.com
ماشااللہ منیری صاحب نے کس شخصیت کا ذکر چھیڑا ہے جن کے لئے بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ :

جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ 
آپ نے دیکھ نہ ہونگے  ہاں مگر ایسے   بھی   ہیں

شکریہ  
والسلام 

محمد اسلم شہاب 

ایک تصحیح ضرور کرلیں کہ مشاعرہ آرگنائز کرنے والے کا  صحیح نام اطہر زیدی نہیں ہے بلکہ اظہر زیدی ہے -


2010/9/4 Abdul Mateen Muniri <ammu...@gmail.com>
--
بزم قلم گروپ کی تشکیل کا مقصد صحتمند اور تعمیری شعروادب کی اشاعت اوربا وقار ماحول میں سنجیدہ علمی مباحث کا اہتمام ہے۔ آپ بزم قلم کو نظم و نثر،انتخابِ مطالعہ کے علاوہ ادیبوں،شاعروں،علمی و ادبی اداروں ،کتابوں ،رسالوں،اخبارات اور مضامین کا تعارف ،ادبی سرگرمیوں کی رؤداد بھیج سکتے ہیں

syed.aija...@gmail.com

unread,
Sep 4, 2010, 6:09:02 PM9/4/10
to bazmeqalam
یہ ٹایپو کی غلطی ہے۔جو  ورڈ میں ٹایپ کرتے ہوۓ ہو سکتی ہے۔ اظہر زیدی صاحب جیسی معروف شخصیت کے بارے میں یہ منیری صاحب کی معلومات کا  نقص یقینا نہیں ہے
اعجاز
2 010/9/4 Mohammad Aslam <asla...@gmail.com>
بزم قلم گروپ کی تشکیل کا مقصد صحتمند اور تعمیری شعروادب کی اشاعت اوربا وقار ماحول میں سنجیدہ علمی مباحث کا اہتمام ہے۔ آپ بزم قلم کو نظم و نثر،انتخابِ مطالعہ کے علاوہ ادیبوں،شاعروں،علمی و ادبی اداروں ،کتابوں ،رسالوں،اخبارات اور مضامین کا تعارف ،ادبی سرگرمیوں کی رؤداد بھیج سکتے ہیں



--
Syed  Aijaz  Shaheen
Dubai-UAE

Mohammad Aslam

unread,
Sep 4, 2010, 11:55:30 PM9/4/10
to bazme...@googlegroups.com
آپ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہونگے 

لیکن پھر بھی قارئین کو صحیح نام اور دیگر تفاصیل کا علم ہونا چاہیے - مقصد صرف ریکارڈ کی درستگی (درستی) ہے -
والسلام 
محمد اسلم شہاب 


2010/9/5 <syed.aija...@gmail.com>
یہ ٹایپو کی غلطی ہے۔جو  ورڈ میں ٹایپ کرتے ہوۓ ہو سکتی ہے۔ اظہر زیدی صاحب جیسی معروف شخصیت کے بارے میں یہ منیری صاحب کی معلومات کا  نقص یقینا نہیں ہے
Syed  Aijaz  Shaheen
Dubai-UAE

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages