شہر کی دھوپ سے پوچھیں کبھی گاوں والے (محسن نقوی)

478 views
Skip to first unread message

Jhuley Lal

unread,
Nov 17, 2016, 2:12:53 AM11/17/16
to
شہر کی دھوپ سے پوچھیں کبھی گاوں والے
کیا ہوئے لوگ وہ زلفوں کی گھٹاوں والے
 
اب کے بستی نظر آتی نہیں اجڑی گلیاں
آو ڈھونڈیں کہیں درویش دعاوں والے
 
سنگزاروں میں مرے ساتھ چلے آئے تھے
کتنے سادہ تھے وہ بلورّ سے پاوں والے
 
ہم نے ذّروں سے تراشے تری خاطر سورج
اب زمیں پر بھی اتر زرد خلاوں والے
 
کیا چراغاں تھا محبت کا کہ بجھتا ہی نہ تھا
کیسے موسم تھے وہ پرﹸ شور ہواوں والے
 
تو کہاں تھا مرے خالق کہ مرے کام آتا
مجھ پہ ہنستے رہے پتھر کے خداوں والے
 
ہونٹ سی کر بھی کہاں بات بنی ہے محسن
خامشی کے سبھی تیور ہیں صداوں والے
 
(محسن نقوی)

Dr.Syed Yaseen Hashmi

unread,
Nov 17, 2016, 11:36:32 AM11/17/16
to Khadi Ali Hashmi<
ایسا انداز نکالی ہے غزل کہے کا
نہ چلیں نقش قدم پرکوئی پاوں والے
------------------------------------

نت نئے کرنے لگی آج حکومت ہی ستم 
جھک کے آداب بجا لایئں جفاءوں والے

پہلے شہروں ہی میں محدود تھی آلودگی 
آج محفوظ نہیں کوئی بھی گاءوں والے

ظرف ایسا ہو کہ دشمن سے بھی انصاف کریں
کہاں ملتے  ہیں بھلا ایسی اداوں والے

پڑ گیا قحط ہے سوکھے ہیں ندی اور نالے
برسے بن جاتے ہیں گھنگھورگھٹاون والے -



Jhuley Lal

unread,
Nov 20, 2016, 6:23:54 AM11/20/16
to Aijaz Shaheen
بہت خوب ڈاکٹر یٰسین ہاشمی صاحب 

کبھی اپنا کلام بھی ادھر پیش کریں مجھے یقین ہے کہ آپ نے شاعری کی کافی کتب لکھی ہونگی آج ذرا تفصیل سے اپنی تصنیفات کے بارے بتائیں

دعا گو 
طاہر اشرف  

Dr.Syed Yaseen Hashmi

unread,
Nov 22, 2016, 11:56:21 AM11/22/16
to Khadi Ali Hashmi<
بہت شکریہ طاہر اشرف صاحب۔ مگر میں شاعر ہونگا  تو لکھونگا ۔ کہاں کی کتب  میری کوئی  بیاض بھی نہیں ۔ مجھ سے  تو محض -موقتی طور پر کوئی تحریک کی بناء پرکبھی کبھی  شعر سر ذد ہوجایا کرتےہیں ۔ جس کا میرے پاس کوئی ریکارڈ بھی نہیں - کہ
نہیں میں مستند شاعر حکم پر شعر ہوجائے 
کوئی اکساے گرمجھ کو تو فورا" شعر ہو جائے

 اسکول کے زمانے میں بیت بازی کے مقابلے ہوا کرتے جب کبھی کہیں گاری اٹکتی نظر آتی فورا" کوئی شعر گھڑ لیا کرتے تھے اور کوئی معترض بھی نہ ہوتے۔
 بہت  سےاحباب آپ ہی کی طرح مجھے شاعر سمجھ بیٹھتے ہیں ۔ مگر مجے خود ایسی کوئی خوش فہمی نہیں ہے  -
 آپ کے میری تصنیفات کے بارے میں پوچھنے پر مجھے مجتبی!حسین کا ایک لطیفہ یاد آگیا کہ ان کے کسی دوست نے ان سے پانچ روپئے بطور قرض مانگے جس پر انہوں نے ان سے معزرت کرلی اور ان سے  کہا کہ آپ کا بےحد مشکور ہون کہ مجھے پاانچ روپئے قرض دے سکنے کا اہل سمجھا۔ 

Jhuley Lal

unread,
Nov 24, 2016, 9:12:38 AM11/24/16
to Aijaz Shaheen
محترم اعجاز شاہین صاحب 
آپ میں جو کوالٹی ہے وہ صرف استاد شاعروں میں ہوتی ہے بلکہ  استادوں کے استاد شاعروں میں ہوتی ہے. آپ کے قلم سے شاعری الہام کی طرح اترتی ہے ان موتیوں کو آپ پروتے کیوں نہیں ہیں ؟؟؟؟ 
اگر ابھی تک آپ نے کوئی تصنیف پبلش نہیں کروائی تو آپ نے اپنی خداد صلاحیتوں سے انصاف نہیں کیا 

 

Dr.Syed Yaseen Hashmi

unread,
Nov 26, 2016, 11:48:04 AM11/26/16
to Khadi Ali Hashmi<
​طاہر اشرف صاحب ؛ میری خوش فہمی دیکھئے ۔ آپ نے کچھ اعجاذ شاہیں صاحب کے بارے میں لکھا تھا تو میں نے اسے اپنے سے منصوب کر کے  بعض باتیں کی تھیں - چلئے آپ کے دوسرے خط سے صفائی ہو گئی  اپنی جلد باذی پر محجوب ہوں

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages