میں حد سے گزر جاؤں محبت نے کہا تھا
دَر تک تیرے لائی تھی نسیمِ نفس انگیز
دَم بھر نہ رُکوں یہ تیری نکہت نے کہا تھا
احسان کسی سرو کے سائے کا نہ لوں میں
مجھ سے یہ ترے فتنۂ قامت نے کہا تھا
مارا ہوں مشیت کا نہیں کچھ مری مرضی
یہ بھی ترے قامت کی قیامت نے کہا تھا
دل شہر سے کر جاؤں سفر میں سوئے دنیا
مجھ سے تو یہی میری سہولت نے کہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاد آئے گی اب تری کب تک
جانے والوں سے پوچھنا یہ صبا
رہے آباد دل گلی کب تک
ہو کبھی تو شرابِ وصل نصیب
پیے جاؤں میں خون ہی کب تک
دل نے جو عمر بھر کمائی ہے
وہ دُکھن دل سے جائے گی کب تک
جس میں تھا سوزِ آرزو اس کا
شبِ غم وہ ہوا چلی کب تک
بنی آدم کی زندگی ہے عذاب
یہ خدا کو رُلائے گی کب تک
حادثہ زندگی ہے آدم کی
ساتھ دے گی بَھلا خوشی کب تک
ہے جہنم جو یاد اب اس کی
وہ بہشتِ وجود تھی کب تک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حالتِ حال کے سبب، حالتِ حال ہی گئی
شوق میں کچھ نہیں گیا، شوق کی زندگی گئی
ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک
بات نہیں کہی گئی ، بات نہیں سنی گئی
بعد بھی تیرے جانِ جاں ، دل میں رہا عجب سماں
یاد رہی تیری یہاں، پھر تیری یاد بھی گئی
اس کی امیدِ ناز کا ہم سے یہ مان تھا کہ آپ
عمر گزار دیجئے، عمر گزار دی گئی
اس کے وصال کے لئے، اپنے کمال کے لئے
حالتِ دل، کہ تھی خراب ،اور خراب کی گئی
تیرا فراق جانِ جاں! عیش تھا کیا میرے لئے
یعنی تیرے فراق میں خوب شراب پی گئی
اس کی گلی سے اٹھ کے میں آن پڑا تھا اپنے گھر
ایک گلی کی بات تھی اور گلی گلی گئی
Dubai-UAE, aijaz....@gmail.com
Empower your Business with BlackBerry® and Mobile Solutions from Etisalat