پروفیسر احمد سجاد کی یاد میں

8 views
Skip to first unread message

Suhail Anjum

unread,
1:46 AM (4 hours ago) 1:46 AM
to bazme qalam
پروفیسر احمد سجاد کی یاد میں
”بندہ مومن کا ہاتھ“ آل انڈیا مومن کانفرنس اور تحریک آزادی کی جامع تاریخ
سہیل انجم
(رانچی یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے سابق صدر اور ڈین اور متعدد کتب کے مصنف پروفیسر احمد سجاد کا 26 اپریل کی شب میں طویل علالت کے بعد رانچی میں انتقال ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ انھوں نے آل انڈیا مومن کانفرنس کے رہنما مولانا عاصم بہاری کی شخصیت، مومن کانفرنس کی تاریخ اور تحریک آزادی پر بیس برس کی محنت کے بعد ایک ضخیم کتاب ”بندہ مومن کا ہاتھ“ تصنیف کی تھی۔ اس کتاب پر میں نے بہت پہلے ایک تعارفی مضمون لکھا تھا جو قارئین کی خدمت میں پیش ہے)۔
علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے اپنی معرکتہ الآرا نظم مسجد قرطبہ کے ایک بند میں کہا ہے کہ ”ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ۔ غالب وکارآفریں کارکشا کارساز“۔ اس شعر میں انہوں نے ایک سچے مومن کی تعریف بیان کی ہے او رکہا ہے کہ جو حقیقی مومن ہوتا ہے اس کے کام میں اللہ کی نصرت شامل ہوتی ہے اسی لیے وہ تمام مسائل ومصائب اور دشواریوں و پریشانیوں پرغالب آجاتا ہے اور اس کی کارکشائی وکارسازی پوری دنیا کے لیے نمونہ بن جاتی ہے۔ یہ بات پروفیسر احمد سجاد کی کتاب ”بندہ مومن کا ہاتھ“ پر صادق آتی ہے۔ ادبی دنیا کی معروف اور بزرگ شخصیت ، ادیب ودانشور اور متعدد علمی کارناموں کے خالق پروفیسر احمد سجاد نے ایک ایسا علمی کارنامہ سرانجام دیا ہے جو ہندوسان کی تحریک آزادی اور اس ملک کے ایک پسماندہ طبقے اور محروموں ومجبوروں کی اولو العزم داستان سے عبارت ہے اور جو اس موضوع پر لکھی جانے والی کتابوں کے درمیان ایک بیش قیمت اضافہ ہے۔یہ محض ایک کتاب نہیں ، بلکہ تاریخ کا ایک مستند حوالہ ہے اور آل انڈیا مومن کانفرنس اور اس کے بانی مولانا عاصم بہاری کو ایک بھرپور خراج تحسین و خراج عقیدت ہے۔
جو قوم اپنے اسلاف کی قربانیوں او ران کی خدمات کو یاد نہیں رکھتی اور اس کا تذکرہ گاہے گاہے کرنے سے بھی کتراتی ہے، وہ تاریخ کے اوراق میں گم ہو جاتی ہے۔ اپنے سینے کے داغوں کو تازہ رکھنے کے لیے اور اپنے اجداد کے ایثار کی یادوں کو باقی رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مختلف سطحوں پر کوشش کرتے رہیں اور اپنے اپنے طو ر پر یادوں کے چراغ جلاتے رہیں۔ پروفیسر احمد سجاد اس تلخ حقیقت سے آشنا ہیں اور اسی لیے انہوں نے مولانا عاصم بہاری اور ان کے حوالے سے تحریک آزادی اور تاریخ آل انڈیا مومن کانفرنس پر یہ دستاویزی کتاب تصنیف کی ہے۔ گویا انہوں نے ان تمام لوگوں کی طرف سے فرض کفایہ ادا کر دیا ہے جن پر بانی کانفرنس کے احسانات ہیں۔ 702صفحات پر مشتمل یہ گراں مایہ تاریخی دستاویز یوں ہی ہمارے سامنے نہیں آگئی ہے بلکہ اس کے لیے مصنف نے اپنا خون جگر جلایا ہے او ر بیس برسوں کی محنت کا یہ پھل ہے۔ پروفیسر احمد سجاد لکھتے ہیں:
 ”اس تصنیف میں ملک وملت کے ماضی قریب کی تاریخ کا چونکہ ایک اہم او راچھوتا گوشہ منظر عام پر لایا جا رہا ہے جس کے لیے بیس برسوں کی مسلسل تحقیق وتلاش کے بعد خوش قسمتی سے بہت سا قیمتی مواد بھی فراہم ہو گیا تھا، اس لیے مناسب یہ سمجھا گیا کہ اس تصنیف کو ایک ہی جلد میں جامع انداز میں شائع کیا جائے“۔
اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس کی وجہ تصنیف بھی بیان فرما دی ہے:
”عوامی حافظہ بڑا کمزور ہوتا ہے اس لیے علمی و تاریخی فریضہ ہے کہ اہل علم اور واقف کار ایسے افراد اور اجتماعی کاوشوں کے احسانات کو زندہ رکھیں جنہوں نے انسانیت اور ملک وملت کی بے لوث خدمت کی ہو۔ بالخصوص ایسے ماحول میں جب اچھے خاصے اکابرین ملک وملت کے ناموں کو کھرچ کھرچ کے اجتماعی حافظے سے مٹانے کی منظم کوشش جاری ہو“۔
اس جملے میں جو درد پنہاں ہے اور جو تڑپ نظر آرہی ہے اس کا مشاہدہ کتاب میں جگہ جگہ کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر بنکروں اور دوسرے کمزور او رپسماندہ طبقات کو کس طرح اس طبقے نے جسے ”طبقہ اشرافیہ“کا نام دیا گیا ہے، مزید محرومیوں کا شکار بنائے رکھا اس کا اندازہ ان جملوں سے ہو جاتا ہے:
”....قدرت نے مولوی علی حسین عاصم بہاری کو غریب اور پسماندہ مسلمانوں کا مسیحا بنا کر اٹھایا۔ انہوں نے واضح طور پر پیش بینی کر لی کہ برادران وطن تو آزادی کی اس جد وجہد میں اپنی ہمہ گیر بیداری کے بنا پر بہت کچھ پا لیں گے۔ مگر کل آزاد ہندوستان میں غریب مسلمانو ںکا کیا بنے گا....غریب اور پسماندہ مسلمانوں کے پامال شدہ انسانی حقوق سے کسی کو واقعی دلچسپی نہیں۔ جاگیردار، زمیندار او رنام ناد پیروں نے غریب اور ان پڑھ مسلمانوں کا رہا سہا خون چوس لیا ہے۔ اس ابتر ماحول کے باوجود محض سیاسی آزادی کا کھلونہ پسماندہ مسلمانوں کے لیے ہرگز کافی نہیں تھا“۔
یہ کتاب در اصل کئی قسم کا مواد اپنے دامن میں رکھتی ہے۔ اگر اس کے موا دکی زمرہ بندی کی جائے تو الگ الگ کئی کتابیں تیار ہو جائیں گی۔ اس میں جہاں مولانا عاصم بہاری کی سوانح حیات ہے، وہیں آل انڈیا مومن کانفرنس کی پوری تاریخ بھی موجود ہے۔ جہاں جنگ آزادی کی تاریخ پر روشنی ڈالی گئی ہے وہیں اس تحریک میں مسلمانوںکی شمولیت اور ان کی قرباینوں کو بھی یاد کیا گیا ہے۔ جہاں غریب مسلمانوں کی محرومیوں اور بے چارگیوں کا ذکر ہے وہیں انگریزوں کے مظالم کا بھی نقشہ کھینچا گیا ہے۔ گویا یہ کتاب جہاں آل انڈیا مومن کانفرنس کے قیام، اس کی سرگرمیوں اور اس کے بانی کی قربایوں سے عبارت ہے وہیں تحریک آزادی کی ایک مستند تاریخ بھی اس میں پنہاں ہے۔
یہ ایک بے حد معلوماتی تصنیف ہے۔ مثال کے طور پر اس کا علم بہت ہی کم لوگوں کو ہوگا کہ کانگریس کے پرچم میں جو چرخہ بنا ہوا ہے وہ در اصل مومن کانفرنس اور مولانا عاصم بہاری کی دین ہے اور وہ بنکروں اور پارچہ بافوں کی قرباینوں کی یادگار ہے۔ جب مولانا موصوف نے پارچہ بافی کو فروغ دینے کی کوشش کی تو انہوں نے جگہ جگہ ہتھ کرگھا پر تیار کپڑوں کی نمائشیں لگائیں اور کو آپریٹیو سوسائٹیوں کی داغ بیل ڈالی۔ اسی تسلسل میں انہوں نے مختلف شہروں میں ہینڈ لوم کپڑوں کی دکانیں کھلوائیں۔ اور اس طرح اس کی روشنی میں مہاتما گاندھی نے آگے چل کر دستی کپڑے کو کھدر قرار دے کر اس کو ہی پہننے کی تحریک شروع کی اور پارچہ بافی کی مناسبت سے چرخہ کو آزادی کا جز بنا دیا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ”چونکہ دستکاروں کا سواد اعظم پارچہ بافی سے وابستہ تھا اس لیے گاندھی جی اور کانگریس نے اس کی اہمیت کے پیش نظر کانگریسی پرچم میں چرخے کے نشان کا اضافہ کر دیا“۔ بعد میں اسی مناسبت سے ہندوستان کے قومی پرچم میں بھی چرخے کے چکر کو مرکزی جگہ دی گئی۔ مہاتما گاندھی نے آگے چل کر ہریجنوں کے لیے جو تحریک چلائی اس کی بنیاد بھی عاصم بہاری نے رکھی تھی۔ انہوں نے اپنے زمانے کی پست اقوام کو بیدار کرنے کی مہم شروع کی تھی، جسے آج دلت کہا جاتا ہے۔
بارہ ابواب پر مشتمل اس گراں مایہ علمی سرمایہ کی جس کا پورا نام ”بندہ مومن کا ہاتھ یا تاریخ آل انڈیا مومن کانفرنس، سوانح عمری علی حسین عاصم بہاری“ ہے کی جس قدر ستائش کی جائے کم ہے۔ اس میں آل انڈیا مومن کانفرنس کے نو اجلاسوں کی تفاصیل بھی دستاویزات کے ساتھ موجود ہیں اور مولانا عاصم بہاری کی زندگی بھر کی قربانیوں کا نچوڑ بھی ہے۔ مختلف عنوانات کے تحت لکھتے وقت جزیات پر بھی خاصی توجہ دی گئی ہے۔ مومن کانفرنس کے اجلاسوں کی تیاریوں کے سلسلے میں جوش وجذبات کی بھی عکاسی کی گئی ہے اور اس راہ میں حائل ہونے والی دشواریوں کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ مولانا موصوف کا شجرہ نسب بھی شامل کیا گیا ہے اور آخر میں ایسے خطوط کی نقول شامل کر دی گئی ہیں جو شائد کہیں اور آسانی سے دستیاب نہ ہو سکیں۔ مومن کانفرنس کے بینر سے صحافتی خدمات اور مختلف مجلوں کی اشاعتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور بالکل آخر میں ایسی نادر ونایاب تصاور ہیں جو کہیں او ر دیکھنے کو نہیں ملیں گی۔ ان میں مولانا عاصم بہاری کی مختلف ادوار کی تصویریں ہیں اور مومن کانفرنس کے تعلق سے بھی کئی تصاویر شامل ہیں۔ اسے ریسرچ اینڈ پبلی کیشنز ڈویژن مرکز ادب وسائنس (رجسٹرڈ ٹرسٹ) رانچی نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت سات سو روپے ہے۔ تحریک آزادی او رمومن کانفرنس سے دلچسپی رکھنے والو ںکے لیے یہ ایک نایاب تحفہ ہے جو ہر علم دوست شخص کے پاس ہونا چاہیے۔ اس کتاب کی اشاعت پر پروفیسر احمد سجاد قابل مبارکباد ہیں۔
موبائل: 9818195929 

Moinuddin Aqeel

unread,
2:14 AM (4 hours ago) 2:14 AM
to BAZMe...@googlegroups.com
احمد سجاد مرحومم پر یہ تازہ کاش دیکھ کر پڑھ کر بہت خوشی ہوٗی۔ میں کراچی میں رہتاہوں اور احمد سجاد صاھےب سے برسہابرس تعلقات رہے اور خط و کتابت بھی خاصی رہی۔ کاش میرے خطوط ان کے نام اگر کوءی مرتب کرکے شاءع کردیں تو مجھے بے حد خوشی ہوگی۔ ان خطوط میں بے پناہ علمی و ادبی مواد موجود ہے جو قارءین نکے لیے بہت پر کشش رہے گفا۔
والسلام
ڈاکٹر معین الدین عقیل : مکان نمبر: بی 215 , Block 15, Gulistan.e Jaohar, Karachi

--
عالمی انعامی مقابلہ غزل کی تفصیل درجہ ذیل لنک میں
 
 
https://mail.google.com/mail/u/4/#sent/QgrcJHsNjCMDktBfcrqXBctvVwqJPbdTpql
 
 
 
 
www.bhatkallys.com
-------------------------------------------------
To post in this group send email to bazme...@googlegroups.com
To can read all the material in this group https://groups.google.com/forum/#!forum/bazmeqalam
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to BAZMeQALAM+...@googlegroups.com.
To view this discussion visit https://groups.google.com/d/msgid/BAZMeQALAM/CAJOpiruyduCcU%2Bu1859q5CA%2Byv7eyLJb-51pvjBf%2BjpO9nna6g%40mail.gmail.com.
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages