کتاب پڑھیے پیسے کمائیے

5 views
Skip to first unread message

Suhail Anjum

unread,
Sep 23, 2026, 1:11:56 AM (3 days ago) Sep 23
to bazme qalam
کتاب پڑھیے پیسے کمائیے
کیا ہی اچھا ہو کہ تاریخ کا پہیہ تھوڑا سا الٹا گھوم جائے اور کتب و اخبار بینی کا سنہرا دور پھر واپس آجائے
پسِ آئینہ: سہیل انجم
چند روز قبل ایک بہت اہم خبر پر نظر پڑی۔ اسے عالمی میڈیا نے نمایاں طور پر شائع کیا۔ ہندوستان کے بعض انگریزی اخباروں نے بھی اس کو نمایاں جگہ دی۔ لیکن اردو اخباروں نے اسے کوئی خاص اہمیت نہیں دی۔ وہ خبر ڈیجیٹل میڈیا کے بے تحاشا استعمال کی حوصلہ شکنی اور کتب بینی کی حوصلہ افزائی سے متعلق تھی۔ سنگاپور کی حکومت نے ڈیجیٹل میڈیا کے ضرورت سے زیادہ استعمال کو روکنے اور کتب بینی کی روایت کو زندہ کرنے کے لیے ایک اسکیم کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق حکومت کتاب پڑھنے والوں کو پیسے دے گی۔ اس کی تفصیلات یوں ہیں کہ قاری کو حکومت کی ویب سائٹ پر لاگ اِن کرنا ہوگا اور پندرہ منٹ کے دورانیے پر مشتمل کم از کم پچاس سیشن مکمل کرنے ہوں گے۔ لیکن روزانہ صرف ایک سیشن ہی ریکارڈ کرنے کی اجازت ہوگی۔ اس پروگرام کا نام ReadSG ہے اور اسے سنگاپور کے ’نیشنل لائبریری بورڈ‘ نے چھ ستمبر کو لانچ کیا ہے۔ یہ ایک پانچ سالہ مہم ہے جس کا مقصد لوگوں کو کتاب خوانی کی طرف واپس لانا ہے۔ اس پروگرام میں شرکت کرنے والوں سے کہا گیا ہے کہ وہ یومیہ کم از کم پندرہ منٹ کتاب پڑھیں اور اسے حکومت کے ایک متعلقہ پلیٹ فارم پر ریکارڈ کریں۔ ہر سیشن پر پچاس ورچوئیل سکے ملیں گے۔ جب ان سکوں کی تعداد ایک ہزار ہو جائے گی تو حکومت ایک سنگاپوری ڈالر دے گی۔ یاد رہے کہ ایک سنگاپوری ڈالر امریکی ڈالر کے 80 پیسے کے مساوی ہے۔ اگرچہ کتاب پڑھنے کا معاوضہ بہت زیادہ نہیں ہے تاہم عادات و اطوار کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے کتب بینی کی عادت کو تقویت حاصل ہوگی۔ حکومت بھی چاہتی ہے کہ عوام تازندگی کتب بینی کی عادت ڈال لیں۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ایک تو وہ ڈیجیٹل میڈیا کے بہت زیادہ اور غیر ضروری استعمال سے بچیں گے جس کی وجہ سے ان کے مزاج میں پیدا ہونے والی خرابی دور ہوگی اور دوسرے وہ ملکی ثقافت سے کسی حد تک روشناس ہو سکیں گے۔
کتابوں سے محبت کرنے والے پہلے بھی کم نہیں تھے اور اس زوال آمادہ دور میں بھی کم نہیں ہیں۔ سیریا کے ایک شخص ابو بلال کا واقعہ اس کی ایک عمدہ مثال ہے۔ یہ خبر بھی چند روز قبل میڈیا میں وائرل ہوئی ہے۔ انھوں نے اس خوف سے کہ ان کی کتابیں ضائع نہ ہوں جائیں یا برباد نہ کر دی جائیں اپنی لائبریری کو ایک نقلی دیوار بنا کر چھپا دیا تھا۔ انھیں خدشہ تھا کہ ملک میں چلنے والی خانہ جنگی اور اسد حکومت کی علم دشمنی ان کی لائبریری کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ پندرہ سال قبل یعنی 2011 میں انھوں نے یہ انتہائی قدم اٹھایا اور خود کویت کو نقل مکانی کر گئے۔ اب جبکہ بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تو وہ مغربی شہر ہومز میں واقع اپنے گھر واپس آئے اور انھوں نے اس لائبریری کی بازیافت کی۔ اس لائبریری میں بہت سی مذہبی اور فلسفیانہ کتابیں ہیں۔ واپس آکر انھوں نے ایک ہتھوڑے سے مذکورہ دیوار توڑنی شروع کی۔ دیکھتے دیکھتے کتابوں کا خزانہ باہر آگیا۔ سونے چاندی کے خزانے زمین میں گاڑنے یا کہیں چھپا دینے کے واقعات تو عام ہیں لیکن کتابوں کو لٹنے سے بچانے کے لیے انھیں چھپا دینے کا یہ غالباً پہلا واقعہ ہے جو انتہائی سبق آموز اور حوصلہ بخش ہے۔ داد دینی چاہیے اس علم دوست شخص کو جس نے اپنی قیمتی لائبریری کی حفاظت کے لیے ایک انوکھا راستہ اختیار کیا۔ جب نقلی دیوار ٹوٹی تو کتابیں باہر جھانکنے لگیں۔ کتابوں کی ارواح، اگر ہوتی ہیں تو کتنی خوش ہوئی ہوں گی کہ آج وہ پندرہ سالہ قید مسلسل سے آزاد ہو گئیں۔ دیوار کے منہدم ہونے کے بعد انھوں نے دیکھا کہ کتابیں جوں کی توں ہیں البتہ ان پر گرد و غبار کی ایک پرت چڑھ گئی ہے۔ فلمی نغمہ نگار گلزار نے کتب بینی کی روایت کے دم توڑ دینے اور کتابوں پر گزرنے والی کیفیت کو اپنی ایک نظم میں منظوم کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کی شیشوں سے، بڑی حسرت سے تکتی ہیں، مہینوں اب ملاقاتیں نہیں ہوتیں، جو شامیں ان کی صحبت میں کٹا کرتی تھیں، اب اکثر گزر جاتی ہیں کمپیوٹر کے پردوں پر، بڑی بے چین رہتی ہیں کتابیں، انہیں اب نیند میں چلنے کی عادت ہو گئی ہے، بڑی حسرت سے تکتی ہیں، جو قدریں وہ سناتی تھیں، کہ جن کے سیل کبھی مرتے نہیں تھے، وہ قدریں اب نظر آتی نہیں گھر میں، جو رشتے وہ سناتی تھیں، وہ سارے ادھڑے ادھڑے ہیں۔‘ لیکن سیریا کے مذکورہ باشندے کی کتابوں کو اب یہ شکایت نہیں ہوگی۔ اب وہ الماریوں سے نکالی جائیں گی اور قاری ان سے آنکھیں چار کرکے گفتگو کیا کریں گے۔
اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابو بلال ایک علم دوست شخص ہیں۔ ان کے سامنے تاریخ کا وہ بدترین اور تاریک واقعہ ضرور رہا ہوگا جب 1528 میں منگول فاتح ہلاکو خان نے بغداد کو فتح اور تاراج کیا تو اس نے شہر کے عظیم الشان کتب خانوں کی لاکھوں کتابیں د دریائے دجلہ میں پھنکوا دیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان نایاب اور قیمتی کتابوں کی تعداد چھ لاکھ سے زائد تھی۔ ایک طرف لاکھوں انسانوں کے قتل عام سے دریا میں بہنے والے خون نے دریا کے پانی کو سرخ کیا اور دوسری طرف کتابوں کی سیاہی نے اس سرخ پانی میں مل کر اسے ایک بھیانک رنگ میں بدل دیا۔ اس بربادی میں بغداد کے مدارس، دارالترجمہ اور علامہ سید رضی موسوی کے کتب خانہ سمیت متعدد ذاتی کتب خانے ختم ہو گئے۔ جس سے اسلامی دنیا کا صدیوں پر محیط علمی اور تہذیبی سرمایہ ضائع ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں کتابیں دریابرد کرنے کی وجہ سے دریا میں پل بن گیا جس پر گھڑ سوار اپنے گھوڑے دوڑاتے تھے۔ بلا شبہ ابو بلال کے ذہن میں یہ واقعہ رہا ہوگا اور ان کو اندیشہ بھی رہا ہوگا کہ کہیں ان کی قیمتی اور نادر کتابوں کا بھی یہی حشر نہ ہو جائے۔ قابل مبارکباد ہیں ابو بلال جنھوں نے کتابوں سے محبت کی ایک نادر پیش کی۔
اس واقعہ نے مجھے اپنے لڑکپن کا وہ واقعہ یاد دلا دیا جب ہم لوگ چھٹے ساتویں درجے کے اسٹوڈنٹ تھے اور ہمارے گاوں میں کتب و اخبار بینی کی توانا روایت موجود تھی۔ اس روایت سے حوصلہ پاکر ہم چند اسٹوڈنٹس نے مل کر ایک ’آزاد لائبریری‘ قائم کی۔ یہ لائبریری لکڑی کی ایک ٹنکی (کھوکھا) میں قائم کی گئی۔ کتابیں ہر قسم کی تھیں۔ مذہبی، ادبی، سماجی، طبی وغیرہ وغیرہ۔ ان میں ابن صفی، نسیم حجازی اور صادق سردھنوی وغیرہ کے ناول بھی تھے اور کچھ رسائل و جرائد اور اخبارت بھی۔ ناولوں میں سب سے زیادہ قارئین ابن صفی اورنسیم حجازی کے ناولوں کے تھے۔ اس لائبریری نے ہم لوگوں کے ساتھ ساتھ کچھ اور لوگوں کے اندر بھی کتب و رسائل بینی کا شوق پیدا کر دیا۔ کچھ دنوں کے بعد ہم لوگوں کے اگلے درجات میں جانے اور مصروفیات میں اضافہ ہونے کی وجہ سے لائبریری بند ہو گئی لیکن اخبار بینی کا شوق فزوںتر ہوتا چلا گیا۔ لہٰذا چند برسوں کے بعد گاوں کے لوگوں نے انفرادی طور پر اخبارات و رسائل منگانے شروع کر دیے۔ اس لائبریری نے تقریباً نصف درجن افراد کے اندر ابن صفی اور نسیم حجازی کے ناولوں کو پڑھنے کا ایسا شوق پیدا کر دیا کہ بعد میں بھی وہ کتابیں منگا منگا کر پڑھتے رہے۔ لیکن برا ہو سوشل میڈیا کا جس نے اس شوق کو درگور کر دیا۔ یہ اتفاق ہے کہ اس لائبریری کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرنے والوں نے اپنی عملی زندگی میں ترقیات کے منازل طے کیے۔ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کی آمد نے بچوں سے لے کر بزرگوں تک کے ذوق کو بگاڑ دیا ہے۔ جس کی وجہ سے بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں پر انتہائی منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔ متعدد ممالک نے پندرہ سولہ سال تک کے بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عاید کر دی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ تاریخ کا پہیہ تھوڑا سا الٹا گھوم جائے اور کتب و اخبار بینی کا وہ سنہرا دور پھر واپس آجائے۔
موبائل: 9818195929

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages