You do not have permission to delete messages in this group
Copy link
Report message
Show original message
Either email addresses are anonymous for this group or you need the view member email addresses permission to view the original message
to 5BAZMeQALAM, rauf parekh
ڈاکٹر صاحب
بہت بہت شکریہ کہ آپ نے تصحیح فرمائی۔ احمد صفی صاحب بھی آج ایک پیغام میں اس فروگزاشت کی جانب توجہ مبذول کراچکے تھے۔
میں عرض کروں کہ ڈاکٹر رشید جہاں کا ایک نہایت دلنواز تذکرہ حمید نسیم مرحوم نے اپنی دلچسپ آپ بیتی "ناممکن کی جستجو" میں کیا ہے۔ یہ کتاب میں نے کالج کے زمانے میں پڑھی تھی، کئی مندرجات ذہن پر نقش ہوکر رہ گئے تھے۔ رشید جہاں کو رشیدہ جہاں لکھنے کی آخر کوئی تو وجہ رہی ہوگی، یہی خیال کرتے ہوئے کتاب کا بغور جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ حمید نسیم نے کئی جگہ ڈاکٹر رشیدہ جہاں یا صرف رشیدہ جہاں لکھا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ کاتب کی غلطی ہو یا نسیم صاحب ہی جھونک میں لکھ گئے ہوں۔
اور اگر یہ کاتب کی غلطی ہے تو کیا کیجیے۔ صاحب! کمپوزنگ کے یہ مسائل تو ازل سے ہیں اور ابد تک رہیں گے۔ ابن صفی نے ایک جگہ لکھا تھا کہ کاتب نے لفظ ”پکاسو“ کو اپنے تئیں ” پکا سور “ لکھ دیا تھا ۔صفی صاحب مزید کہتے ہیں: ”کتابت کے لطیفے ایسے ہی دلچسپ ہوتے ہیں۔کبھی ’بیدل‘ کو ’پیدل‘ پڑھیے، کبھی نشر الہ آبادی ’ن‘ سے محروم گردن اٹھائے چلے آرہے ہیں۔کبھی اسرار ناوری کا ’و‘ غائب اور پروف ریڈر صاحب ہر حال میں کاتب سے زیادہ قابل ہوتے ہیں لہذا انہوں نے ’س‘ پر بھی تین عدد نقطے ٹھونک مارے۔ چلیے بن گیا ’اشرار ناری‘ یعنی غزل اور صاحب غزل دونوں بھسم ہوئے۔“ (چیختی روحیں۔اپریل 1959 )
اوائل عمری کے دن تھے، مسیں بھیگ رہی تھیں کہ حمید نسیم امرتسر کالج پہنچے تھے جہاں صاحبزادہ محمود الظفر نے انہیں ایک شام اپنے گھر مدعو کیا اور اپنی بیگم ڈاکٹر رشید جہاں سے متعارف کروایا۔
حمید نسیم لکھتے ہیں: " یہ میری بیوی ہیں۔ رشید جہاں۔ ڈاکتر ہیں۔ افسانے لکھتی ہیں۔ ہاں ایک بات سن لو۔ ذرا بچ کر رہنا۔
dont ever come on her left رشید جہاں اس کے (جو احباب واقف نہیں ہیں ان کے لیے عرض ہے کہ حمید نسیم نے اپنی خودنوشت صیضہ متکلم کے بجائے صیضہ واحد غائب میں تحریر کی تھی) قریب آئیں۔ اس کی ٹھوڑی انگلی نیچے رکھ کر اوپر اٹھائی۔ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کئی لمحوں تک اسے غور سے دیکھا۔ پھر مسکرادیں۔ بڑی معصوم بے محابا مسکراہٹ تھی جیسے گل نو شگفتہ کا لب خند۔ پھر بولیں محمود تمہارا نیا شاگرد تو بڑا سعادت مند ہے۔"
حمید نسیم مرحوم نے رشید جہاں کو اپنی ماں کا درجہ دیا تھا اور انہوں نے اس بات کا برملا اظہار بھی اپنی خودنوشت میں کیا ہے۔
فیض کا بھی وہاں برابر آنا جانا رہتا تھا۔ اسی تعلق سے ایک موقع پر حمید نسیم لکھتے ہیں :
" لوگوں نے بعد میں بڑے قصے مشہور کیے۔ گو کہ ‘رشیدہ‘ آپا اور فیض صاحب کا بڑا رومانس بلکہ افئیر چلا تھا۔ بالک غلط، جھوٹ، لغو بات۔ ‘رشیدہ‘ آپا فریب کار عورت نہ تھیں۔" (ناممکن کی جستجو)