وفا کے راستے لمبے بہت ہیں

0 views
Skip to first unread message

مهتا ب قدر

unread,
Sep 13, 2011, 8:21:11 AM9/13/11
to Mahtab Qadr
وفا کے راستے لمبے بہت ہیں
بھٹک جانے کے اندیشے بہت ہیں

زوال آمادہ قوموں کے ہیںیہ لوگ
عمل کم ،گفتگو کرتے بہت ہیں

بہت اونچی بناتے ہیں عمارت
یہاں کے لوگ کیا چھوٹے بہت ہیں

اِنہی میں گُم ہیں شہزادے ہمارے
دریچے خواب نے کھولے بہت ہیں

حقیقت منہ چُھپاتی پھر رہی ہے
یقیں کم،وہم کے چرچے بہت ہیں

عدو کے سامنے ثابت قدم ہوں
مگرپیچھے بھی تو اپنے بہت ہیں

وہی رازق ،وہی خلّا قِ اکبر
توپھر یہ خوف کیوں بچّے بہت ہیں

انا کے پیڑکتنے کھوکھلے ہیں!
بظاہر خوشنما لگتے بہت ہیں

سلیقہ کم ہے اُس میں گفتگو کا
سخن مہتاب کے تیکھے بہت ہیں

  مہتاب قدر
 
Co-Editor  Deedahwar 
 
Webmaster
 میں جہاں بھی رہوں سفر میں ہوں  
  میرا  اصلی   وطن   مدینہ    ہے

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages