ڈاکٹر محمد منظور عالم کا انتقال: ایک عہد کا خاتمہ

0 views
Skip to first unread message

Suhail Anjum

unread,
1:57 AM (14 hours ago) 1:57 AM
to bazme qalam
ڈاکٹر محمد منظور عالم کا انتقال: ایک عہد کا خاتمہ
سہیل انجم
انسٹی ٹیوٹ آف آبجکٹیو اسٹڈیز نئی دہلی کے بانی ڈاکٹر محمد منظور عالم کا آج 13 جنوری 2026 کی صبح ساڑھے پانچ بجے شاہین باغ میں انتقال ہو گیا۔ ان کے انتقال سے ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا۔ انھوں نے نئی دہلی کے جوگا بائی میں ایک تھنک ٹینک ’انسٹی ٹیوٹ آف آبجکٹیو اسٹڈیز‘ قائم کرکے ایک مثالی کارنامہ انجام دیا تھا۔ اس پلیٹ فارم سے تحقیق و تصنیف کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی جا رہی ہیں۔ یہاں سے درجنوں تحقیقی کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر منظور عالم نے اس پلیٹ فارم پر ملک کے تعلیم یافتہ افراد اور دانشوروں کو اکٹھا کیا اور ملکی و بین الاقوامی ایشوز پر سیکڑوں کانفرنسوں اور سمیناروں کا اہتمام کیا۔ انھوں نے اپنے ادارے کے تحت ملک کے باشعور مسلمانوں کے ساتھ ساتھ باشعور غیر مسلموں کو مکالمہ م کرنے کا موقع فراہم کیا۔ ان کی کانفرنسوں اور سمیناروں میں تمام طبقات کی نمائندگی ہوتی تھی اور نہ صرف ملکی اور بین الاقوامی مسائل پر کھل کر تبادلہ خیال ہوتا تھا بلکہ ملک کے اقلیتوں، دبے کچلے لوگوں اور محروم طبقات کو بااختیار بنانے کے اقدامات پر غور و فکر کیا جاتا تھا۔ ان کی سربراہی میں انسٹی ٹیوٹ آف آبجکٹیو اسٹڈیز نے جو کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں انھیں تادیر یاد رکھا جائے گا۔ ان کے انتقال سے ملک و ملت کا جو علمی خسارہ ہوا ہے اس کا جلد پُر ہونا آسان نہیں۔
چند سال قبل ان کی سوانح عمری شائع ہوئی ہے۔ یہ سوانح عمری پہلے اردو میں آئی اور پھر انگریزی میں۔ انگریزی سوانح عمری کا اجرا کانسٹی ٹیوشن کلب میں ہوا تھا۔ یہ سوانح سینئر سہ لسانی صحافی اے یو آصف نے لکھی ہے۔ اس سوانح کا نام ہے ’ڈاکٹر محمد منظور عالم: ان کہی کہانی، انصاف شمولیت اور برابری کی جد و جہد‘۔ سوانح نگار کتاب کے آخری پیراگرف میں لکھتے ہیں کہ ’یہ کتاب ایک شخص کی حیات و خدمات کو جوں کا توں پیش کرنے کی کوشش ہے جس میں بایوگرافیکل اور آٹوبایوگرافیکل دونوں جھلک موجود ہے۔ (یعنی اس میں سوانح نگاری اور خود نوشت دونوں کی جھلک ہے۔) اس میں کچھ باتیں اُس شخص کی زبانی ہیں تو کچھ اس کے معاصرین کے اس کے بارے میں تاثرات نیز علمی و تحقیقی مواد ہے۔ لہٰذا دوسروں کی زبانی جو مواد بایوگرافی میں ہے اس سے بایوگرافر کا اتفاق کرنا کوئی ضروری نہیں‘۔ جہاں تک کتاب کی زبان کا تعلق ہے تو وہ سہل اور رواں ہے۔ البتہ اس پر انگریزی کی چھاپ ہے اور ایسا ہونا فطری بات ہے کیونکہ آصف صاحب بنیادی طور پر انگریزی کے صحافی ہیں۔
بہرحال کسی کی سوانح اس کی پیدائش سے شروع ہوتی ہے اور سوانح نگار ایک کہانی گو کی حیثیت سے آگے آنے والے واقعات کو بتدریج پیش کرتا چلا جاتا ہے۔ لہٰذا اس میں بھی ڈاکٹر محمد منظور عالم کی پیدائش سے کر اب تک کے واقعات و حالات کو بیان کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے بچپن کے واقعات ہوں یا طالب علمی کے یا پھر عملی زندگی کے، ان سے ان کی شخصیت کے کئی گوشے روشن ہوتے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی زندگی بڑی پہلوادار اور کثیر الجہت ہے۔ انھوں نے نئی نئی راہیں پیدا کی ہیں اور قارئین کو اقبال کی زبان میں یہ پیغام دیا ہے کہ ’ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں‘۔ کسی ایک منزل پر قناعت کرنے کے بجائے نئے زمان و مکان اور نئے جہان کی تلاش کرنی چاہیے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ انھوں نے اپنی اب تک کی زندگی میں جو کارہائے نمایاں انجام دیے وہ قابل قدر اور قابل رشک تو ہیں ہی، قابل تقلید بھی ہیں۔ ان سے ایک تحریک ملتی ہے اور قاری کے اندر یہ حوصلہ پیدا ہوتا ہے کہ اسے بھی زندگی میں کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے۔ کتاب کے نام کا آخری حصہ پوری کتاب پر محیط ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ کتاب ’انصاف شمولیت اور برابری کی جدوجہد‘ کی تفصیل اور تشریح ہے۔ یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ یہ فقرہ دراصل ڈاکٹر صاحب کی پوری زندگی کا نچوڑ ہے۔
ان کے بچپن کا وہ واقعہ بہت حوصلہ بخش اور قابل قدر ہے جس میں وہ پاسوان برادری کے ایک لڑکے کے ساتھ ایسے ماحول میں مساویانہ، ہمدردانہ اور انسانیت نواز سلوک کرتے ہیں جب معاشرے میں ذات پات کی بنیاد پر نابرابری کی عام روش تھی اور اس قسم کی جرات کو جراتِ بیجا کا نام دیا جاتا تھا۔ خود ڈاکٹر صاحب کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔ یعنی ان پر انصاف، شمولیت اور برابری کا جذبہ چھوڑ دینے کے لیے دباو ڈالا گیا لیکن انھوں نے سماج کے ان فرسودہ رواجوں سے ٹکر لینے کو اپنے اصولوں سے انحراف کرنے پر ترجیح دی۔ نتیجتاً وہ اپنے مشن میں کامیاب رہے۔ ان کی زندگی کا یہ ولولہ انگیز واقعہ بچپن ہی میں ان کے پختہ صاحبِ ایمان ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ ایسے جانے کتنے واقعات اس کتاب میں موجود ہیں جو ان کی سوچ اور فکر کو واضح کرتے اور ان کے عزم راسخ کا ثبوت دیتے ہیں۔
اے یو آصف نے ان کے آبائی علاقے متھلانچل کی تاریخ بیان کی ہے اور اس علاقے کے ایک اہم دریا ’دریائے باگمتی‘ کے ساحل پر بسی آبادیوں کی تہذیب وثقافت پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ ان کے مطابق متھلانچل میں نیپال کی ترائی سے سو کلومیٹر دور ایک چھوٹا سا قدیم گاوں رانی پور ہے جو کہ ضلع مدھوبنی میں واقع ہے۔ انھوں نے اس کی وجہ تسمیہ بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ ’قدیم روایتوں کے مطابق ایودھیا کے راجہ دشرتھ جنک پور جاتے ہوئے یہاں سے گزرے تھے اور ان کی رانیوں نے غالباً یہاں قیام کیا تھا۔ شاید اسی مناسبت سے اس کا نام رانی پور پڑا‘۔ اسی رانی پور میں دولت بخش پہلوان کا خاندان بھی آباد تھا جو کہ اپنی مختلف خصوصیات کی وجہ سے دور دور تک شہرت رکھتا تھا۔ ڈاکٹر محمد منظور عالم اسی خاندان کے سپوت ہیں اور چونکہ وہ پہلوانوں کا خاندان تھا اس لیے انھوں نے بھی بچپن میں پہلوانی کی اور نامی گرامی پہلوانوں کو چِت بھی کیا۔ کتاب شہادت دیتی ہے ڈاکٹر صاحب بیجا رسوم و رواج کے خلاف رہے اور بالخصوص شادیوں میں اصراف اور غیر اسلامی روایات سے متنفر رہے ہیں۔ ان کی اصلاحی کوششوں سے ان قبیح روایات کا بڑی حد تک قلع قمع ہوا اور اس علاقے میں ولیمے کی سنت کا احیاءہوا۔
اس کے بعد انھوں نے سعودی عرب میں ان کے قیام، اہم شخصیات سے تعلقات اور مختلف قسم کی خدمات انجام دینے کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ اس سوانح سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ منظور عالم صاحب اپنی گوناگوں صلاحیتوں اور اپنے تحرک کی وجہ سے بہت آسانی کے ساتھ بڑی شخصیات کے قریب ہو جاتے ہیں اور وہ بڑی شخصیات آپ کی صلاحیتوں کی وجہ سے آپ سے احترام کے ساتھ تعلقات کا قیام پسند کرتی ہیں۔ ’نائن الیون سانحہ کا ذاتی مشاہدہ‘ کے زیر عنوان تقریباً ڈھائی صفحات پر مشتمل مضمون ہے جو تشنہ ہے۔ تاہم اس سے ڈاکٹر صاحب کی جرات و بیباکی کا اندازہ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر محمد منظور عالم کے اندر حقائق کی تہہ میں اترنے کا جذبہ شروع سے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے جب بھی کسی شخص یا تنظیم کے بارے میں لوگوں کی منفی آراءسنیں تو ان کے اندر سچائی جاننے کا جذبہ پیدا ہوا اور اس کے لیے انھوں نے متعلقہ کتابوں اور لٹریچر کا مطالعہ کیا اور پھر اپنی کوئی رائے قائم کی۔ اس حوالے سے قرآن مجید سب سے اہم کتاب ثابت ہوئی۔ نائن الیون کے واقعے اور کرونا کی وبا نے ان کی شخصیت پر اثر ڈالا۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ کرونا کے دوران ان کی متعدد ایمان افروز تحریریں منظر عام پر آئیں۔ اس باب میں ان کے ایسے مضامین کی تلخیص پیش کر دی گئی ہے جن کی تعداد 28 ہے۔ عام طور پر سوانح عمری اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ صاحبِ سوانح کے اہلِ خانہ اور ان کے گھریلو حالات کا ذکر نہ آجائے۔ لہٰذا ’اپنے گھر میں‘ کے زیر عنوان ڈاکٹر صاحب کے گھریلو حالات اور ان کے بارے میں اہل خانہ کے خیالات کا تقریباً پانچ صفحات میں ذکر ہے۔
اس کتاب میں پانچ ابواب اور 424 صفحات ہیں اور اب تک جو تفصیلات پیش کی گئی ہیں وہ 146 صفحات پر مشتمل باب اول سے ماخوذ ہیں۔ آصف صاحب نے بہت سے واقعات کو توخود ایک کہانی گوکی حیثیت سے بیان کیا ہے بہت سے واقعات کو ڈاکٹر محمد منظور عالم کی زبانی بھی پیش کر دیا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ انھوں نے ان کے ہمعصروں کے تاثرات اور آراءکو بھی شامل کر دیا ہے اور تاثرات نگار دس بیس نہیں بلکہ پورے سو ہیں اور مختلف شعبہ ہائے حیات سے ان کا تعلق ہے۔ باب سوم میں معروف صحافی اور اخبار چوتھی دنیا کے مدیر سنتوش بھارتیہ کی کتاب کے انکشافات، باب چہارم میں انصاف شمولیت اور برابری پر علمی و تحقیقی کارنامے اور باب پنجم میں مختلف تصاویر شامل کی گئی ہیں۔
آخر میں ہم یہ بات کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ اسے ہر اس شخص کو پڑھنا چاہیے جو اپنی جدوجہد سے پُر زندگی میں انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ رکھتا ہو۔ کتاب کے ٹائٹل پر جو تصویر دی گئی ہے وہ لاجواب ہے۔ اس سے ایک خاص تاثر پیدا ہوتا ہے۔ کتاب میں بہت عمدہ کاغذ استعمال ہوا ہے اور چھپائی اور بائنڈنگ بھی معیاری ہے۔ اس کے لیے جناب ابراہیم صاحب اور ان کی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔


Dr Manzoor Alam.inp
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages