آصف جیلانی صاحب کا فکرانگیز مضمون توجہ طلب ہے۔ میں ایک معلم کی حیثیت سے اس ڈرامے کا عینی شاہد ہوں جس میں انگریزی کے الفاظ کو اردو میں دخیل کیا گیا۔ اصل غلطی اس وقت ہوئی جب مغربی پاکستان میں سرکاری طور پر درسی کتب تیار کرکے ایک ہی کتاب ملک بھر میں رائج کر دی گئی۔ اس کے دو اہداف بیان کیے گئے: اول تو یہ دعوی کیا گیا کہ طلبہ کو سستی اور معیاری کتب فراہم ہوں گی؛ دوم یہ کہ معیار تعلیم یکساں اور اونچا ہو گا۔ہر دو خواہشات بظاہر نیک تھیں، مگر بیوروکریسی کا کام کرنے کا
اپنا ایک انداز ہوتا ہے۔ چنانچہ عملا صورت حال یہ ہوئی کہ درسی کتب کے سرکاری ادارے[ٹیکسٹ بک بورڈ] میں متعین افراد جو کتابوں کی تیاری کے ذمہ دار تھے اور سرکاری عہدے کی بنا پر اچانک "مصنف" اور "مدیر" بن بیٹھے، کا اپنا غالبا اردو میں چند سطریں بھی لکھنے کا تجربہ نہ تھا۔ میں سائنس اور ریاضی کی کتب کی تدوین کی بات کر رہا ہوں۔ چنانچہ ان "مصنفین" و "مرتبین" نے انگریزی کی اصطلاحات کے علاوہ عام الفاظ بھی لکھنے شروع کر دیے۔ ایک مثال دینا کافی ہوگا کہ 1970ء کی دہائی میں جماعت چہارم کی سائنس کی کتاب جسے میٹرک پاس استاد پڑھا تا تھا، میں انگریزی رسم
الخط میں
verteberate
کا لفظ بغیر کسی وضاحت کے درج کر دیا گیا۔ پاکستان بننے کے وقت اور سرکاری کتب کی تیاری تک ریاضی میں مساوات دائیں سے بائیں لکھی جاتی تھیں اور یہ عمل دسویں جماعت تک تھا، بعد کی جماعتوں میں البتہ انگریزی ذریعہ تعلیم ہی تھا۔ نئے نظام میں یہ سلسلہ سراسر موقوف کر دیا گیا اور ریاضی کی مساوات انگریزی رسم الخط کی مانند بائیں سے دائیں جانب لکھی جانے لگیں۔
اس کے بعد تو انگریزی کے الفاظ کو بطور فیشن اردو کی تحریروں میں دخیل کیا جانے لگا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جامعہ پنجاب، جامعہ کراچی اور دیگر اداروں کی کاوشیں جن میں جامعہ
عثمانیہ کا کلیدی کردار تھا،یکسر موقوف ہوگئیں اور جن لوگوں نے اور اداروں نے عمر بھر اردو کی خدمت کا بیڑا اٹھائے رکھنے کا عزم کیا ہوا تھا، ان کی جملہ مساعی حرف غلط کی طرح مٹا دی گئیں۔
جب اس نظام سے پڑھ کر کوئی بچہ میدان عمل میں آئے گا تو خواہ وہ صحافت میں جائے یا کسی اور میدان میں ، اس سے کیا توقع کی جاسکتی ہے؟
جناب آصف جیلانی صاحب یقینا یہ بات سن کر محظوظ ہوں گے کہ ایک جامعہ کا دورہ کرتے ہوئے جامعہ کے چانسلر صاحب جب شعبہ اردو میں پہنچے اور انہوں نے کسی استاد کو لیکچر دیتے سنا تو حیران ہو کر بولے "آپ کے یہاں تدریس اردو میں ہوتی
ہے؟" یعنی روشن خیال ترقی پسند پاکستان میں اردو کا کیا کام۔
لہذا خرابی صحافت میں نہیں طریقہ تعلیم میں ہوئی جس نے پورے نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
خادم علی ہاشمی