اردو شاعری کی چند کلاسیکی اصناف

329 views
Skip to first unread message

Aapka Mukhlis

unread,
May 22, 2014, 11:26:24 AM5/22/14
to

اردو شاعری کی چند کلاسیکی اصناف

On Friday, March 21st, 2014

نام کتاب:
اردو شاعری کی چند کلاسیکی اصناف

عہدِ حاضر کے تناظر میں
مصنف:
پروفیسر ڈاکٹر تنظیم الفردوس صاحبہ
صفحات:
160      قیمت:  250 روپے
ناشر:
ادارہ یاد گار غالب۔ پوسٹ بکس 2268
ناظم آباد کراچی
پروفیسر ڈاکٹر تنظیم الفردوس صاحبہ شعبہ اردو کراچی یونیورسٹی میں طویل عرصے سے تدریس و تحقیق میں مصروف ہیں۔ ان کے علمی و تحقیقی اور تنقیدی مقالات مجلات میں شائع ہوتے رہتے ہیں جن کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ موصوفہ اپنے موضوع سے انصاف کرتی ہیں اور بڑی محنت اور دقت نظری سے اپنے خیالات کو وضاحت سے ادبی اسلوب میں پیش کرتی ہیں۔ زیرنظر کتاب ڈاکٹر صاحبہ کے تین گراں قدر مقالات پر مشتمل ہے۔ کتاب کے مقدمے میں وہ تحریر فرماتی ہیں:
’’زیر نظر کتاب راقمۃ الحروف کے تین مقالات پر مشتمل ہے۔ یہ تینوں مقالے اس سے قبل معروف تحقیقی جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ اور اگر اسے چھوٹا منہ بڑی بات نہ سمجھا جائے تو اکثر پڑھنے والوں نے اس امر کی جانب توجہ مبذول کروائی کہ ان مقالات کو کتابی صورت میں شائع ہونا چاہیے۔ احباب کے خیال میں تحقیقی و علمی جرائد کے قارئین کا دائرہ محدود ہوتا ہے اور ان مضامین میں تحقیقی جہت کے علاوہ روایتی اور کلاسیکی اصناف کے عہدِ حاضر میں جواز اور امکانات کا ایک پہلو بھی نمایاں ہوتا ہے۔ یہ ایسا پہلو ہے جس سے نہ صرف زبان و ادب کے علما و محققین بلکہ ادب کے عام قارئین کو بھی دلچسپی ہوتی ہے۔ لہٰذا اس قسم کے تحقیقی مضامین میں سے شعری اصناف سے متعلق تین مقالات کو یہاں کتابی صورت میں پیش کیا جارہا ہے۔
کتاب کا پہلا مقالہ ’’اردو چہاربیت: فن اور روایت‘‘ ملک کے معروف علمی جریدے ’’تحقیق‘‘ میں شائع ہوا تھا۔ مقالے کی بنیاد دو خطوط پر رکھی گئی ہے۔ یہ دونوں خط امتیاز علی عرشی صاحب نے حکیم سید منظورالحسن برکاتی کے نام ان کے کسی استفسار کے جواب میں تحریر کیے تھے۔ حکیم صاحب کا سوال رام پور اور اس کے گردو نواح میں ’’چہار بیت گوئی‘‘ کی روایت اور فنی حیثیت کے علاوہ اس فن کے ماہرین کے بارے میں تھا۔ عرشی صاحب نے مذکورہ دو خطوط میں اس ضمن میں اپنی معلومات کو اس انداز سے سمیٹ کر بیان کیا، گویا دریا کو کوزے میں بند کردیا۔ میں نے اپنے مقالے میں چہار بیت کے فنی لوازمات، تاریخی روایات، چہار بیت کہنے اور گانے والے اکابر اور عصرِ موجود میں اس فن کے فروغ کے امکانات کا احاطہ کرنے کی ایک طالب علمانہ کوشش کی ہے۔ ان خطوں میں مذکور بعض اہم معلومات حواشی میں پیش کی گئی ہیں۔
کتاب میں شامل دوسرا مقالہ بعنوان ’’قومی شعور کی بازیافت: سانحۂ مشرقی پاکستان کے اثرات، اردو غزل پر‘‘ ہے۔ یہ مقالہ شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور کی بین الاقوامی کانفرنس میں پڑھا گیا اور بعدازاں کانفرنس کے مقالات کے مجموعے میں شائع ہوا۔ اردو زبان میں صنفِ غزل اپنے آغاز ہی سے خارج و باطن کی تصویرکشی کے لیے پہچانی جاتی ہے۔ سوزو گدازِ باطنی کا بیان ہو یا مظاہر خارجی کی تصویرکشی، غزل کسی بھی دور میں اپنے اس معیار سے پیچھے نہیں ہٹی، لیکن بیسویں صدی غزل کے لیے جہاں مشکلات کے دروازے کھولتی ہے وہیں امکانات کی ایک وسیع دنیا کا باب بھی اس صنف پر وا ہوتا ہے۔ مشکلات کے ضمن میں غزل کی ہیئتی پابندیوں کو عام طور پر نشانۂ تنقید بنایا گیا اور ہیئتی پابندیوں کو غزل کے لیے موضوعاتی وسعت پزیری کی راہ میں رکاوٹ بھی بتایا گیا۔ بیسویں صدی کے اوائل میں اٹھنے والی ان تنقیدی آرا کا غزل کی تخلیقی اور سماجی قوت نے کچھ اس انداز سے مقابلہ کیا کہ ہیئتی پابندیوں کے باوجود وسیع تر موضوعات کی دنیا کی آمیزش نے اس صنف کو اگلی کئی منزلوں سے روشناس کردیا۔
حیاتِ نو کی کوئی بھی تبدیلی ہو… تاریخی، سماجی، انقلابی، فکری، حسی… غزل نے سبھی کو تازہ تر اسلوب کے ساتھ قبول کیا۔ سقوطِ ڈھاکا بھی نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی تاریخ کا ایسا ایک واقعہ تھا جسے اردو کے، غزل کہنے والوں نے اس کے اسباب و محرکات، مضمرات اور اثرات کے تناظر میں بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ پیش کیا۔ مذکورہ مقالے میں عصری و سماجی حسیت کے تناظر میں اس موضوع کا احاطہ کرتی صنفِ غزل کا مطالعہ و تجزیہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
کتاب کا تیسرا مقالہ بعنوان ’’حفیظ ہوشیار پوری: روایتی تاریخ گوئی کا احیا‘‘ بھی پانچ خطوط کی بنیاد پر قلم بند کیا گیا ہے۔ یہ مقالہ اردو کے معروف جریدے ’’خدا بخش اورینٹل لائبریری جرنل‘‘ میںشائع ہوچکا ہے۔ یہ خطوط حفیظ ہوشیاری پوری نے حکیم محمد موسیٰ امرتسری کے نام لکھے تھے۔ ان خطوط کا موضوع پیر غلام دستگیر نامیؔ کی تعزیت اور تواریخ وفات ہیں۔ ان تینوں اصحاب میں مشترک دلچسپی تاریخ گوئی تھی۔ حفیظ ہوشیار پوری نہ صرف غزل کے بڑے شاعر ہیں بلکہ بطور تاریخ گو بھی اچھی طرح پہچانے جاتے ہیں۔ حکیم محمد موسیٰ امرتسری ایک صاحبِ علم اور قدردانِ علم و فضل کے طور پر نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونِ ملک بھی اپنی پہچان رکھتے تھے اور مادۂ تاریخ نکالنے میں بھی بڑی مہارت رکھتے تھے۔ اسی طرح پیر غلام دستگیر نامی بھی ایک مؤرخ کے علاوہ تاریخ گو اور شاعر بھی تھے۔ کتابوں سے دوستی اور محبت ان تینوں فضلا کی ایک اور مشترک قدر تھی۔
مذکورہ مضمون میں تاریخ گوئی کی روایت تاریخ اور عصر موجود کے تناظر میں اس فن کے فروغ کے امکانات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس مقالے میں بھی خطوط میں متذکرہ بعض افراد، کتب اور مقامات کے بارے میں حواشی شامل کیے گئے ہیں۔‘‘
کتاب سفید کاغذ پر طبع کی گئی ہے۔ مجلّد ہے۔ سرورق کاشف حفیظ الدین قریشی صاحب نے بنایا ہے۔ کتاب اردو کی لائبریری میں عمدہ اضافہ ہے۔

Rashid Ashraf

unread,
May 23, 2014, 12:01:15 AM5/23/14
to 5BAZMeQALAM
شکریہ جناب

راشد



--
To Join BazmEQalam ,click the following link
 
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages