’لب پہ آتی ہے دعا‘ پڑھوگے تو جیل جاوگے

43 views
Skip to first unread message

Suhail Anjum

unread,
Dec 28, 2022, 3:08:42 AM12/28/22
to bazme qalam
’لب پہ آتی ہے دعا‘ پڑھوگے تو جیل جاوگے
سہیل انجم
پہلے یہ دعا ملاحظہ فرمائیں:
اتنی شکتی ہمیں دینا داتا، من کا وشواس کمزور ہو نا
ہم چلیں نیک رستے پے ہم سے، بھول کر بھی کوئی بھول ہو نا
دُور اَگیان کے ہوں اندھیرے، تو ہمیں گیان کی روشنی دے
ہر برائی سے بچتے رہیں ہم، جتنی بھی دے بھلی زندگی دے
بیر ہو نا کسی کا کسی سے، بھاونا من میں بدلے کی ہو نا
ہم نا سوچیں ہمیں کیا ملا ہے، ہم یہ سوچیں کہ کیا کیا ہے اَرپن
پھول خوشیوں کے بانٹیں سبھی کو، سب کا جیون ہی بن جائے مدھوبن
اپنی کرونا کا جب تو بہا دے، کردے پون ہر اک من کا کونا
ہم چلیں نیک رستے پے ہم سے، بھول کر بھی کوئی بھول ہو نا
اب یہ دوسری دعا ملاحظہ فرمائیں:
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے
ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت
زندگی ہو مری پروانے کی صورت یارب
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یارب
ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
درد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا
میرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو
مفہوم اور مقصد کے لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اول الذکر دعا ہر عمر کے شخص کے لیے ہے جبکہ ثانی الذکر ایک بچے کی دعا ہے۔ اسے بڑے بھی پڑھ سکتے ہیں اور پڑھتے بھی ہیں۔ پہلی میں ہندی کے الفاظ زیادہ ہیں دوسری میں اردو کے۔ دونوں میں مالک کائنات سے نیکی کی راہ پر چلنے، برائی سے بچنے، ضرورت مندوں کی مدد کرنے اور دوسروں کی بھلائی کی توفیق طلب کی گئی ہے۔ البتہ دوسری دعا میں علم کی روشنی بھی مانگی گئی ہے۔ اس میں حب الوطنی کا درس بھی ہے۔ لیکن اگر آپ کسی اسکول میں استاد یا طالب علم ہیں اور اول الذکر دعا پڑھتے ہیں تو آپ دیش بھکت کہلائیں گے لیکن اگر غلطی سے آپ نے ثانی الذکر دعا پڑھ لی تو آپ جہادی قرار دیے جائیں گے اور آپ کو جیل بھی ہو سکتی ہے۔ جی ہاں کچھ ایسا ہی ہوا ہے اترپردیش کے بریلی ضلع کے فرید پور میں۔ وہاں ایک سرکاری اسکول میں پریئر کے دوران بچوں سے ’لب پہ آتی ہے دعا‘ پڑھوانے کے جرم میں ایک شکشا متر یعنی استاد کو جیل ہو گئی ہے۔ ان کا نام وزیر الدین ہے۔ انھیں ملازمت سے برطرف بھی کر دیا گیا ہے۔ جبکہ اسکول کی پرنسپل ناہید صدیقی کو معطل کر دیا گیا ہے۔ وہ چونکہ اس دوران تعطیل پر تھیں لہٰذا ابھی ان کی صرف معطلی ہوئی ہے۔ پولیس معاملے کی جانچ کر رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ جانچ کی روشنی میں ناہید صدیقی کے خلاف مزید کارروائی کی جائے گی۔ دراصل وشو ہندو پریشد کے ایک مقامی عہدے دار سومپال سنگھ راٹھور نے فرید پور پولیس تھانے میں شکایت درج کرائی تھی کہ مذکورہ اسکول میں اسلامی دعا پڑھوائی گئی ہے اور اس کا مقصد ہندو بچوں کا مذہب تبدیل کرانا ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس دعا سے اس کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ اس شکایت پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کی اور دوسری طرف بریلی کے بیسک شکشا ادھیکاری ونے کمار نے دونوں کو معطل کر دیا اور پھر پولیس نے وزیر الدین کو گرفتار کر لیا۔ اس سے قبل 2019 میں پیلی بھیت کے بلاسپور میں ایک اسکول کے ہیڈ ماسٹر کو لب پہ آتی ہے دعا پڑھوانے کے جرم میں معطل کیا گیا تھا۔ اس واقعہ میں بھی شکایت وشو ہندو پریشد کے ایک عہدے دار نے کی تھی اور اس نے بھی تقریباً یہی الزامات لگائے تھے۔
اول الذکر دعا ایک فلمی نغمہ نگار ابھیلاش نے لکھی تھی جو 1985 کی فلم ’انکش‘ میں شامل ہے۔ ابھیلاش کا ستمبر 2020 میں انتقال ہو چکا ہے۔ جبکہ ’لب پہ آتی ہے دعا‘ علامہ اقبال نے 1902 میں لکھی تھی۔ اول الذکر دعا بھی سیکڑوں اسکولوں میں پڑھی جاتی ہے اور ثانی الذکر بھی۔ ’لب پہ آتی ہے‘ زیادہ تر مدارس میں پڑھی جاتی ہے۔ بہت سے اسکولوں میں بھی صبح کی دعا میں یہ شامل ہے۔ لیکن اب اس کو پوری طرح دیس نکالا دینے کی کوشش تیز ہو گئی ہے۔حالانکہ جیسا کہ عرض کیاگیا دونوں دعاوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ لیکن ’لب پہ آتی ہے دعا‘ سے ہندوتو نظریات کے حامل افراد کے سینوں پر سانپ لوٹنے لگتے ہیں۔ سومپال نے ہی اس کی وجہ بھی بتا دی ہے۔ اس کو پوری دعا سے شکایت نہیں ہے، شکایت اس کے آخری دو مصرعوں سے ہے۔ کیوں ہے، اس لیے ہے کہ اس میں لفظ ’اللہ‘ آیا ہوا ہے۔ ’میرے اللہ برائی سے بچانا مجھ کو‘۔ سومپال کے مطابق اس مصرعے کے ذریعے ہندو بچو ںکا مذہب بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حالانکہ اس کا یہ کہنا سراسر جہالت پر مبنی ہے۔ اسے اگر اللہ لفظ پر اعتراض ہے تو وہ اس کی جگہ پر ’بھگوان‘پڑھ لے اور یوں کہے کہ ’میرے بھگوان برائی سے بچانا مجھ کو‘۔ لیکن نہیں مقصد تو اس کی آڑمیں مسلمانوں کے خلاف نفرت کے ماحول کو اور گہرا کرنا ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ جب سی اے اے مخالف احتجاج چل رہا تھا اور فیض احمد فیض کی نظم ’ہم دیکھیں گے‘ جگہ جگہ گائی جا رہی تھی تو آئی آئی ٹی کانپور کی انتظامیہ نے اس نظم کو پڑھنے کی وجہ سے کئی طلبہ کے خلاف کارروائی کی تھی۔ اس نظم کو ہندو مخالف قرار دیا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس میں بھی لفظ ’اللہ‘ آیا ہوا ہے۔ نظم کے اختتام سے قبل کچھ یوں کہا گیا ہے کہ ’سب تاج اچھالے جائیں گے، سب تخت گرائے جائیں گے۔ بس نام رہے گا اللہ کا، جو غائب بھی ہے حاضر بھی، جو منظر بھی ہے ناظر بھی‘۔ شکایت کنندگان کا کہنا تھا کہ اس میں صرف اللہ کے نام کے باقی رہنے کی بات کی گئی ہے لہٰذا یہ ہندو مخالف ہے۔ حالانکہ فیض نظریاتی طور پر کمیونسٹ تھے۔ لیکن نفرت کے کاروباریوں کو اس سے کیا۔ اللہ کا نام تو آیا ہے نا۔ اسی طرح اس سے بھی غرض نہیں ہے کہ اقبال نے چونکہ اردو میں یہ دعا لکھی ہے اس لیے اس میں اللہ سے فریاد کی گئی ہے۔ ظاہر ہے اگر وہ ہندی میں لکھی گئی ہوتی تو اللہ کی جگہ پر بھگوان یا ایشور کا نام ہوتا۔
مذاہب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دراصل ناموں کے فرق سے کچھ نہیں ہوتا۔ تمام مذاہب الگ الگ راستوں سے ایک ہی منزل پر پہنچنے کی بات کرتے ہیں۔ اور پھر ہندوستان تو مشترکہ تہذیب و ثقافت کا ملک رہا ہے۔ اقبال کی بیشتر نظموں میں اس مشترکہ تہذیب کی عکاسی ہوتی ہے۔ انھوں نے شری رام چندر کو امام ہند بھی تو کہا ہے۔ لیکن کیا پتا آگے چل کر اس پر بھی اعتراض ہو جائے کہ دراصل امام ہند کہہ کر رام جی کا مذہب بدلوانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کیونکہ امام تو نماز پڑھاتا ہے پوجا تو نہیں کرواتا۔ حقیقت یہ ہے کہ نفرت کے ان کاروباریوں کے نزدیک مشترکہ تہذیب و ثقافت کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ وہ اسی کو تو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ صرف ہندوتو کی تہذیب کی بالادستی ہو۔ ایسے لوگوں کو حکومت و انتظامیہ کی پوری سرپرستی حاصل ہے۔ ورنہ محض ایک شکایت پر اس طرح آن کی آن میں کارروائی نہیں ہوتی۔ ہم لوگوں نے ہندی میڈیم سے تعلیم پائی ہے۔ ہم لوگ سنسکرت آمیز ہندی کا پریئر گاتے تھے۔ اب اس وقت تو اس کے بول یاد نہیں۔ لیکن ’ہے پربھو آنند داتا گیان ہم کو دیجیے، شیگھر سارے دُرگنوں کو دور ہم سے کیجیے‘ جیسی دعا بھی اسکولوں میں پڑھی جاتی ہے۔ اب اگر کوئی مسلم طالب علم یہ کہے کہ وہ ’پربھو‘ نہیں کہے گا کیونکہ وہ ہندو لفظ ہے تو اسے کیا کہا جائے گا۔ ظاہر ہے اس کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ جب 2019 میں پیلی بھیت میں اسی قسم کا واقعہ پیش آیا تھا تو پروفیسر اپوروانند نے ’دی وائر‘ کے لیے ایک مضمون لکھا تھا۔ وہ اپنے مضمون میں کتنی پیاری بات لکھتے ہیں کہ ’اقبال کی یہ نظم انسانیت کی سچی تعریف ہے۔ گاندھی جی جس ’ویشنو جن‘ کی تلاش کر رہے تھے اس کے بننے کا ایک طریقہ ان کے ہی ایک ہمعصر اقبال اس دعا میں سجھاتے ہیں۔ غریبوں، دردمندوں اور کمزوروں کے ساتھ ہونا ہی وشنو جن ہونا ہے‘۔ کیا ان کی یہ بات ہندوتو نظریات کے کاروباریوں کے پلے پڑے گی؟

Javed Akhtar

unread,
Dec 28, 2022, 4:48:43 AM12/28/22
to BAZMe...@googlegroups.com
خدا نہ کرے وہ دن آئے جب السلام علیکم کہنے والے کو بھی ایک مخصوص مذہب کے افراد کے مذہبی جذبات مجروح ہونے کی شکایت کرکے جیل میں ڈال دیا جائے۔کیونکہ سلام کرنے والا اللہ سے رحمت کی دعا کرتا ہے بھگوان سے نہیں۔

--
عالمی انعامی مقابلہ غزل کی تفصیل درجہ ذیل لنک میں
 
 
https://mail.google.com/mail/u/4/#sent/QgrcJHsNjCMDktBfcrqXBctvVwqJPbdTpql
 
 
 
 
www.bhatkallys.com
-------------------------------------------------
To post in this group send email to bazme...@googlegroups.com
To can read all the material in this group https://groups.google.com/forum/#!forum/bazmeqalam
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to BAZMeQALAM+...@googlegroups.com.
To view this discussion on the web visit https://groups.google.com/d/msgid/BAZMeQALAM/CAJOpirsYzr6-1gXfxAVuQ8rDA9tuUN2hsy%2BAoRv24zo9PEHYcQ%40mail.gmail.com.
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages