ممتاز شاعرہ صبیحہ صبا کی غزل کے اشعار ملاحظہ فرمائیں :۔
محبت کے علاقے میں کئی آزار ملتے ہیں
تڑپتا ہے یہ دل تنہا کہاں غم خوار ملتے ہیں
مسافر ہیں اور اک خانہ بدوشی ہے مقدر میں
کبھی اس پار ملتے ہیں کبھی اس پار ملتے ہیں
نیا کچھ بھی نہیں ہے سب پرانے طور گلشن کے
گلوں کے ساتھ پہلے کی طرح سے خار ملتے ہیں
کہاں وہ پرسکوں بستی جہاں پر چین ملتا تھا
ےہاں شام و سحر وحشت ذدہ آثار ملتے ہیں
رکوں تو شہر میں ہر شخص کو خوابیدہ پاؤں میں
چلوں تو راستے میں لوگ سب بیدار ملتے ہیں
صبیحہ صبا ، دبئی ۔