Re: [بزم قلم:41922] Digest for BAZMeQALAM@googlegroups.com - 23 updates in 10 topics

1 view
Skip to first unread message

Suhail Anjum

unread,
Feb 4, 2015, 6:57:00 AM2/4/15
to bazme qalam
ماہنامہ ’’بیسویں صدی‘‘ کے بانی ایڈیٹر جناب خوشتر گرامی کے بارے میں قارئینِ بزم قلم کی دلچسپی دیکھ کر جی چاہا کہ میں خوشتر گرامی پر لکھا ہوا اپنا مضمون ان کی نذر کروں۔ یہ مضمون میری کتاب ’’دہلی کے ممتاز صحافی‘‘ میں شامل ہے جو دہلی اردو اکیڈمی سے چھپ کر جلد ہی قارئین کی خدمت میں حاضر ہونے والی ہے۔ سہیل انجم 
خوشتر گرامی
(بانی ایڈیٹر بیسویں صدی)

خوشتر گرامی کی پیدائش اکتوبر1902 میں سیالکوٹ پنجاب میں ہوئی اور ان کا انتقال15 جنوری 1988 کو دہلی میں ہوا۔ یوں تو وہ ایک ادیب اور ادبی صحافی کی حیثیت سے مشہور ہیں لیکن اپنے صحافتی کیرئر کے آغاز میں انھوں نے کئی روزنامہ اور ہفت روزہ اخباروں اور رسالوں میں بھی کام کیا تھا۔ انھوں نے اپنی صحافت کا آغاز لالہ لاجپت رائے کی زیر تربیت کیا اور بعد میں مولانا ظفر علی خاں کے اخبار’’زمیندار‘‘ میں بحیثیت رپورٹر خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے لاہور کے مشہور اخبار ’’بندے ماترم‘‘ کے شعبۂ ادارت میں بھی خدمات انجام دیں۔
خوشتر گرامی کا اصل نام رام رکھا مل چڈھا تھا۔ خوشتر گرامی ان کا قلمی نام تھا جو بعد میں ان کی اصل شناخت ثابت ہوا۔ ان کے اصل نام سے بہت کم لوگ واقف ہیں اور اس سے بھی بہت کم لوگ واقف ہیں کہ انھوں نے ابتدائے عمر میں روزنامہ اخباروں میں کام کیا تھا۔ رام رکھا مل چڈھا ایک وطن پرست انسان تھے۔ ہندوستان سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’زمیندار‘‘ اور ’’بندے ماترم‘‘ میں ان کی تحریریں حب وطن کے جذبات سے سرشار ہوتیں۔ ان اخباروں میں کام کے دوران انھوں نے اپنی تمام صلاحیتوں سے کام لیا اور رپورٹنگ کے علاوہ ڈیسک پر بھی خدمات انجام دیں۔ انھوں نے خبروں کے ترجمے بھی کیے اور تقریباً وہ تمام کام کیا جو ایک اخبار میں کام کرنے والوں کو کرنے پڑتے ہیں۔ انھوں نے ان اخباروں میں جو تجربات حاصل کیے ان کا استعمال انھوں نے اپنے ماہنامہ رسالہ ’’بیسویں صدی‘‘ میں کیا۔ ان کی تحریروں میں شروع سے ہی طنز و ظرافت کی آمیزش تھی۔ وہ ایک اچھے طنز نگار تھے۔ ان کی اس خوبی کا برملا مشاہدہ ’’بیسویں صدی‘‘ میں کیا جا سکتا ہے۔
خوشتر گرامی نے ادبی ماہنامہ ’’بیسویں صدی‘‘ کا آغاز ۱۹۳۷ میں لاہور سے کیا تھا۔ تقسیم ہند کے بعد وہ دہلی چلے آئے اور دریا گنج سے اسے دوبارہ شروع کیا۔ اس رسالے کو اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ اردو والوں کے نزدیک دریا گنج اور بیسویں صدی لازم وملزوم بن گئے بالکل اسی طرح جیسے خوشتر گرامی اور بیسویں صدی کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
وہ ایک متمول خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ سیالکوٹ میں ان کے دادا دیوان گنپت رائے ایک بڑے تاجر اور کاروباری تھے۔ شہر کے رئیسوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ ان کی تجارت ماند پڑنے لگی اور ان کے والد دیوان بشمبھر ناتھ تک آتے آتے تجارت تقریباً ٹھپ پڑ گئی۔ زبردست خسارہ ہوا اور اس طرح ایک رئیس خاندان میں پیدا ہونے کے باوجود رام رکھا مل چڈھا کو عسرت و تنگ دستی میں زندگی گزارنی پڑی۔ ابھی ان کی عمر صرف تین سال تھی کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ ان کی والدہ نے کسی طرح ان کی پرورش کی۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اردو اور فارسی کی حاصل کی لیکن جب وہ پندرہ برس کی عمر کو پہنچے تو والدہ بھی انھیں داغ مفارقت دے گئیں۔ حالات نے انھیں میٹرک سے آگے تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہیں دیا۔ تاہم انھوں نے منشی فاضل کا امتحان بھی پاس کیا۔ 
بہر حال حالات نے انھیں اس عمر میں ملازمت کرنے پر مجبور کر دیا جس عمر میں عام خاندانوں کے لڑکے تعلیمی اداروں میں شب وروز گزارتے ہیں۔ پھر بھی اسے ان کی خوش قسمتی ہی کہا جائے گا کہ جہاں انھیں لالہ لاجپت رائے اور مولانا ظفر علی خاں کے زیر تربیت کام کرنے کا موقع ملا وہیں علامہ اقبال، مولانا تاجور نجیب آبادی، شہید بھگت سنگھ او رمولانا عبد المجید سالک جیسی شخصیات کی قربت اور شفقت بھی حاصل رہی۔
تقسیم ہند سے قبل دس سال کے عرصے میں بیسویں صدی نے مقبولیت کے عروج پر اپنے قدم رکھ دیے تھے اور اس سے بڑے بڑے شاعر و ادیب وابستہ ہو گئے تھے۔ لیکن تقسیم ملک نے جہاں ہزاروں خاندانوں کو بے گھر کیا وہیں اس نے اس معیاری رسالے کو بھی بے گھر کر دیا۔ لیکن خوشتر گرامی نے ہمت نہیں ہاری۔ انھوں نے اس کا اپنے ذہن پر کوئی اثر قبول نہیں کیا کہ ان کا دفتر تباہ وبرباد ہو گیا یا پرچے کو نکالنے کے تمام راستے بند ہو گئے۔ وہ دہلی آگئے اور دریا گنج کے مین روڈ پر بیسویں صدی کے لیے ایک دفتر لے لیا۔ اس کے بعد انھوں نے نئے سرے سے اس رسالے کی عمارت تعمیر کی اور پھر ’میں کہاں رکتا ہوں عرش و فرش کی آواز سے، مجھ کو جانا ہے بہت اونچا حد پرواز سے‘ والا معاملہ بن گیا۔ رسالے کو جتنی شہرت و مقبولیت لاہور میں حاصل ہوئی تھی اس سے کہیں زیادہ دہلی میں حاصل ہوئی۔ پھر تو بیسویں صدی ادب کا ایک ٹریڈ مارک بن گیا۔ جو اس رسالے میں چھپ گیا سمجھو ایک مستند ادیب اور شاعر بن گیا۔
رام رکھا مل چڈھا نے بیسویں صدی نکالنے سے قبل اس وقت اپنا نام خوشتر گرامی رکھا تھا جب وہ صحافت سے کوسوں دور تھے۔ پندرہ سال کی عمر میں جب ان کی والدہ کا انتقال ہوا تو انھوں نے اپنی والدہ کا ایک مرثیہ لکھا تھا۔ اس کے بعد ان کے اندر موجود شاعری کا ذوق و شوق پروان چڑھنے لگا اور انھوں نے حب وطن سے سرشار بہت سی قومی نظمیں لکھیں۔ لیکن ان کے ایک ادیب اور ادبی صحافی ہونے کا اصل جوہربیسویں صدی سے کھلا۔ اس رسالے نے اردو ادب کو ایسے ایسے لعل و گہر دیے جس کی مثال نہیں ملتی۔ اس عہد کا کون سا ایسا شاعر اور ادیب تھا جو اس میں چھپنا نہیں چاہتا تھا۔ جب کسی کی غزل یا افسانہ اس میں چھپتا اور اسے اس کی خبر ہوتی تو وہ دوڑا دوڑا بک اسٹال تک جاتا اور رسالہ خرید کر لاتا۔ یہ صورت حال صرف متوسط شاعروں اور ادیبوں تک محدود نہیں تھی بلکہ اعلی پائے کے شاعر و ادیب کی بھی یہی حالت ہوتی۔ بیسویں صدی کا انتظار نہ صرف ادیبوں کے گھروں میں ہوتا بلکہ اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والوں اور یہاں تک کہ سیاست سے دلچسپی رکھنے والوں کو بھی ہوتا۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ ادب سے دلچسپی رکھنے والے تو شعری و ادبی حصے کا مطالعہ کرنے کے لیے اس کا انتظار کرتے لیکن سیاسی ذوق رکھنے والے تیر و نشتر اور قلمی چہرہ اور خبرنامہ پڑھنے کے لیے اس کے منتظر رہتے۔ قلمی چہرہ تو اتنا جامع اور دلچسپ ہوتا کہ چند سطروں میں اس شخص کی پوری شخصیت اپنی تمام تر خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ جلوہ گر ہو جاتی جس کا قلمی چہرہ لکھا جاتا۔ اسی طرح تیر و نشتر بھی بہت دلچسپ ہوتا۔ پہلے ایک خبر ہوتی اور پھر اس کے جواب میں کوئی جملہ ہوتا جو اتنا بھرپور ہوتا کہ مزا آجاتا۔ ایک کالم سرگوشیاں ہوتا تھا جس میں منتخب سوالوں کے مزے دار جواب دیے جاتے۔ تیر و نشتر میں حکمرانوں اور طاقتور لوگوں کے جبر و ظلم اور لوٹ کھسوٹ کے خلاف ایک زبردست آواز ہوتی۔
بیسویں صدی کسی نظریہ کا مبلغ نہیں تھا۔ وہ اگر کسی بات کی تبلیغ کرتا رہا تو وہ معیاری ادب کی تبلیغ کرتا رہا۔ بیسویں صدی کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے اپنے صفحات پر بہت اچھے اچھے ادیبوں کو جنم دیا اور انھیں پروان چڑھنے کا موقع بھی دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں چھپنے والے قلمکاروں کو معقول اعزازیہ بھی دیا جاتا۔ وہ ۱۹۷۷ تک بیسویں صدی کو نکالتے رہے اور جب پیرانہ سالی کو پہنچے تو ان سے اس رسالے کو جاری رکھنا مشکل ہو گیا۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک معقول رقم کے عوض بیسویں صدی رحمن نیر کے ہاتھوں بیچ دیا۔ لیکن معروف قلمکار فاروق ارگلی اس کی تردید کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خوشتر گرامی نے پرچہ بیچا نہیں بلکہ اسے ایک ایسے ہاتھ کو سونپ دیا جو اسے زندہ رکھنے کا صلاحیت رکھتا تھا۔ وہ روزنامہ راشٹریہ سہارا ۲۵ دسمبر ۲۰۱۳ کے شمارے میں ایک مضمون ’’بیسویں صدی کا افسانوی صحافی: خوشتر گرامی‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’ان کی محنت اور صلاحت نے انھیں بے پناہ کامیابی عطا کی۔ قدرت نے انھیں ہر اس خوشی سے نوازا جس کے لوگ خواب دیکھتے ہیں۔ لیکن وقت بدل چکا تھا، ہندوستان کی نئی نسلیں اردو سے دور ہو رہی تھیں۔ ان کے بیٹوں نے اعلیٰ تعلیم پا کر باپ کی ذمہ داری سنبھالنے کے بجائے بیرون ملک کی شاندار ملازمتیں کرنا پسند کیا۔ خوشتر صاحب نے بہت کوشش کی کہ ان کے صاحبزادے کشن کمار پبلشنگ کا کام سنبھال لیں۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے ’’نئی صدی‘‘ کے نام سے ہندی بھاشا کا ایک رسالہ بھی شروع کیا لیکن بات نہیں بنی۔ 1975 کا سال آتے آتے ضعیفی اور بیمارے نے گھیر لیا۔ جسم ساتھ چھوڑ رہا تھا لیکن بیسویں صدی کی پرورش تو خون جگر سے کی تھی۔ رسالہ ان کی اولاد کی طرح تھا۔ وہ کسی قیمت پر اسے بند نہیں ہونے دینا چاہتے تھے۔ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ انھوں نے رحمن نیر مرحوم کے ہاتھوں معقول قیمت پر اسے فروخت کر دیا تھا۔ یہ قطعی غلط ہے۔ در اصل خوشتر صاحب کو بیسویں صدی بیچنا نہیں زندہ رکھنا تھا۔ انھوں نے صرف اتنی رقم قبول کی جتنی ایک پرنٹنگ پریس کو واجب الادا تھی۔ جو اندازاً دو سوا دو لاکھ سے زیادہ نہیں تھی۔ وہ صرف کرسی کی پشت پر لٹکا ہوا اپنا کوٹ پہن کر دریا گنج مین روڈ پر واقع اپنے دفتر سے اتر کر چلے گئے۔ انھیں رحمن نیر جیسا با ذوق، محنتی اور پر جوش جانشین مل گیا تھا۔ اگر وہ سچ مچ ’’بیسویں صدی‘‘ کو فروخت کرتے تو دفتر کا ساز و سامان اور کتابوں کا ذخیرہ ہی لاکھوں کا تھا۔ دفتر کی جگہ کی قیمت اس وقت پندرہ بیس لاکھ روپے سے کم نہیں تھی۔ انھوں نے بیسویں صدی فروخت نہیں کیا اسے زندہ رکھنے کے لیے صحیح ہاتھوں میں دے دیا تھا۔ دنیا نے دیکھا کہ ان کا اندازہ درست تھا۔ رحمن نیر نے خوشتر گرامی کے بعد جس شان کے ساتھ بیسویں صدی کی اشاعت کی اس میں خوشتر صاحب کا عکس واضح تھا۔۔۔خوشتر گرامی جب تک زندہ رہے ضعیفی اور علالت کے باوجود تیر و نشتر لکھتے رہے۔ اپنے پرانے پسندیدہ کارٹونسٹ بلرام سے کارٹون بنواتے رہے۔ سالہا سال تک وہ رسالہ بیسویں صدی کے موسس کے طور پر اپنی اس معنوی اولاد سے وابستہ رہے‘‘۔ بیسویں صدی میں شائع ہونے والے کالم تیر و نشتر اور قلمی چہرہ کے بارے میں بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ چھپتے تو خوشتر گرامی کے نام سے تھے لیکن ان کو لکھنے والے دوسرے تھے۔ لیکن فاروق ارگلی اس کی بھی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کالم خود خوشتر گرامی لکھا کرتے تھے۔ 1974 میں انھوں نے تیر و نشتر کا انتخاب شائع کیا تھا جس میں کالم قلمی چہرے بھی شامل تھے۔ 

2015-02-04 3:25 GMT-08:00 <BAZMe...@googlegroups.com>:
Sarwar Raz <sarw...@yahoo.com>: Feb 03 10:31PM

عزیز مکرم: تسلیمات !کینیڈا میں مقیم شاعرولی عالم شاہین کی غزلیہ شاعری پر ایک مضمون پیش خدمت ہے۔ ادھر کئی شعرا پر مضامین لکھنے کا موقع ملا ہے۔ شاہین صاحب اسی لڑی کی ایک کڑی ہیں۔ مضمون ان کی کتابوں کے بغور مطالعہ کے بعد بے لاگ طور پر لکھا گیا ہے۔ اس میں کسی سیاست یا گروہ بندی کا شائبہ بھی نہیں ہے۔ امید ہے مضمون پسند آئے گا۔ اگر رائے سے مجھ کو آگاہ کردیں تو عنایت ہو گی۔ شکریہ۔
سرور عالم راز "سرور"
Sarwar Raz <sarw...@yahoo.com>: Feb 04 12:53AM

عزیز مکرم: تسلیمات !کینیڈا میں مقیم شاعرولی عالم شاہین کی غزلیہ شاعری پر ایک مضمون پیش خدمت ہے۔ ادھر کئی شعرا پر مضامین لکھنے کا موقع ملا ہے۔ شاہین صاحب اسی لڑی کی ایک کڑی ہیں۔ مضمون ان کی کتابوں کے بغور مطالعہ کے بعد بے لاگ طور پر لکھا گیا ہے۔ اس میں کسی سیاست یا گروہ بندی کا شائبہ بھی نہیں ہے۔ امید ہے مضمون پسند آئے گا۔ اگر رائے سے مجھ کو آگاہ کردیں تو عنایت ہو گی۔ شکریہ۔
سرور عالم راز "سرور"
Sarwar Raz <sarw...@yahoo.com>: Feb 04 12:57AM

عزیز مکرم: تسلیمات !کینیڈا میں مقیم شاعرولی عالم شاہین کی غزلیہ شاعری پر ایک مضمون پیش خدمت ہے۔ ادھر کئی شعرا پر مضامین لکھنے کا موقع ملا ہے۔ شاہین صاحب اسی لڑی کی ایک کڑی ہیں۔ مضمون ان کی کتابوں کے بغور مطالعہ کے بعد بے لاگ طور پر لکھا گیا ہے۔ اس میں کسی سیاست یا گروہ بندی کا شائبہ بھی نہیں ہے۔ امید ہے مضمون پسند آئے گا۔ اگر رائے سے مجھ کو آگاہ کردیں تو عنایت ہو گی۔ شکریہ۔
سرور عالم راز "سرور"
Hanif Syed <hanif...@yahoo.com>: Feb 04 04:48AM

محترم سرورؔ صاحب ! السلام علیکم ۔محترم شاہینؔ پر لکھا آپ کا مضمون:عشرت آفریں پر علی سردار جعفری کے مضمون کی یاد تازہ کر گیا ۔بہت اچھا مضمون ہے آ پ کا ۔اچھے مضمون کے لیے مبارک باد قبول فرمائیں۔ممکن ہو تو میرے اس افسا نوی مجموعے( پنچھی: جہاز  کا ) پر کچھ لکھ دیں ۔آپ کے پا س الفاظ کے بے پناہ ذخیرہ ہے ۔ اور اسلوب بھی پیارا ہے ۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ آپ حق گوئی پر گامزن ہیں ۔ڈ ا کٹر خا لد صاحب کا مضمو ن  بھی اچھا ہے ۔
    اللہ آپ کو سلامت رکھے ،آمین ۔حنیف سید 09310520720آ گرہ ۔ انڈ یا۔

 
On Wednesday, 4 February 2015 6:28 AM, 'Sarwar Raz' via بزمِ قلم <BAZMe...@googlegroups.com> wrote:

 
عزیز مکرم: تسلیمات !کینیڈا میں مقیم شاعرولی عالم شاہین کی غزلیہ شاعری پر ایک مضمون پیش خدمت ہے۔ ادھر کئی شعرا پر مضامین لکھنے کا موقع ملا ہے۔ شاہین صاحب اسی لڑی کی ایک کڑی ہیں۔ مضمون ان کی کتابوں کے بغور مطالعہ کے بعد بے لاگ طور پر لکھا گیا ہے۔ اس میں کسی سیاست یا گروہ بندی کا شائبہ بھی نہیں ہے۔ امید ہے مضمون پسند آئے گا۔ اگر رائے سے مجھ کو آگاہ کردیں تو عنایت ہو گی۔ شکریہ۔
سرور عالم راز "سرور"
--
http://urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-December-2014.pdf
www.urduaudio.com
http://hudafoundation.org/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
Sarwar Raz <sarw...@yahoo.com>: Feb 04 05:06AM

مکرمی حنیف صاحب: سلام مسنونخط کے لئے ممنون ہوں۔ آپ کی کتاب کی ایک جلد اگر مجھ کو مل جائے تو لکھنے میں کوئی مضائقہ نہ ہوگا۔ میں امریکہ میں مقیم ہوں۔ آپ سوچ کر بتائیں۔ شکرییہ
سرور راز

 
On Tuesday, February 3, 2015 10:48 PM, 'Hanif Syed' via بزمِ قلم <BAZMe...@googlegroups.com> wrote:

 
محترم سرورؔ صاحب ! السلام علیکم ۔محترم شاہینؔ پر لکھا آپ کا مضمون:عشرت آفریں پر علی سردار جعفری کے مضمون کی یاد تازہ کر گیا ۔بہت اچھا مضمون ہے آ پ کا ۔اچھے مضمون کے لیے مبارک باد قبول فرمائیں۔ممکن ہو تو میرے اس افسا نوی مجموعے( پنچھی: جہاز  کا ) پر کچھ لکھ دیں ۔آپ کے پا س الفاظ کے بے پناہ ذخیرہ ہے ۔ اور اسلوب بھی پیارا ہے ۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ آپ حق گوئی پر گامزن ہیں ۔ڈ ا کٹر خا لد صاحب کا مضمو ن  بھی اچھا ہے ۔
    اللہ آپ کو سلامت رکھے ،آمین ۔حنیف سید 09310520720آ گرہ ۔ انڈ یا۔

 
On Wednesday, 4 February 2015 6:28 AM, 'Sarwar Raz' via بزمِ قلم <BAZMe...@googlegroups.com> wrote:

 
عزیز مکرم: تسلیمات !کینیڈا میں مقیم شاعرولی عالم شاہین کی غزلیہ شاعری پر ایک مضمون پیش خدمت ہے۔ ادھر کئی شعرا پر مضامین لکھنے کا موقع ملا ہے۔ شاہین صاحب اسی لڑی کی ایک کڑی ہیں۔ مضمون ان کی کتابوں کے بغور مطالعہ کے بعد بے لاگ طور پر لکھا گیا ہے۔ اس میں کسی سیاست یا گروہ بندی کا شائبہ بھی نہیں ہے۔ امید ہے مضمون پسند آئے گا۔ اگر رائے سے مجھ کو آگاہ کردیں تو عنایت ہو گی۔ شکریہ۔
سرور عالم راز "سرور"
--
http://urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-December-2014.pdf
www.urduaudio.com
http://hudafoundation.org/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
 
 
--
http://urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-December-2014.pdf
www.urduaudio.com
http://hudafoundation.org/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
Shadab moien shadab <shada...@gmail.com>: Feb 04 12:16PM +0530

AZAD GHAZAL: Ek Haiyati Tajreba
 
Sarwar Raz Saheb
Adab
Shaheen Saheb ki shayri par apney mazmoon mein apne unki Azda Ghazal par
tabsara kartey huwe likha he ki "Azad Ghazal" ka naam aaj se pahley sunney
mein nahi aaya.... Aisa nahi hai, dar asl ye ek haiyati tajriba tha.. aur
uski ijad ka dawa Mazhar Imam kartey they.. aur unka israr isey sinf ke
taur par qubool kiyey janey ka tha... kafi din tak ye bahas chalti rahi...
aur bil-akhir hle nazar ne isey sinf ke taur par qubool karney ye kahtey
huwe inkar kar diya ke ghazal ke naam par koi tod-phod naqabile bardasht
hai... Azad Ghazal tajribey ke taur par 100 se zayaed logon ne kahi hai..
ab bhi kuch log taba azmai kar hi letey hain.. azad ghazal par mahnam shair
Bombay ne ek zakheem number bhi nikala tha.. M.Phil ke maqaey bhi likhey
gai... Azad Ghazal mein misrey chotey badey karney ki gujaish hai..lekin
bahar wohi rani chahiye.....
 
SHADAB MOIEN SHADAB
--------------------------------------------
 
2015-02-04 6:23 GMT+05:30 'Sarwar Raz' via بزمِ قلم <
Hanif Syed <hanif...@yahoo.com>: Feb 04 10:10AM

ا لسلا م علیکم
میں نے اپنا مجموعہ آپ کے ای میل پر ارسال کر دیا ہے  جہاں تہاں پر نظر ڈال لیں ۔کچھ لگے تو ارسال کردوں گا ۔ پتہ لکھ دیں۔ میں بہت مشکور ہوں گا ۔کبھی آگرہ تشریف لائیں ۔ تو مسرت ہو گی ۔
آپ سب سلامت رہیں۔ آمین ۔حنیف سید

 
On Wednesday, 4 February 2015 10:36 AM, 'Sarwar Raz' via بزمِ قلم <BAZMe...@googlegroups.com> wrote:

 
مکرمی حنیف صاحب: سلام مسنونخط کے لئے ممنون ہوں۔ آپ کی کتاب کی ایک جلد اگر مجھ کو مل جائے تو لکھنے میں کوئی مضائقہ نہ ہوگا۔ میں امریکہ میں مقیم ہوں۔ آپ سوچ کر بتائیں۔ شکرییہ
سرور راز

 
On Tuesday, February 3, 2015 10:48 PM, 'Hanif Syed' via بزمِ قلم <BAZMe...@googlegroups.com> wrote:

 
محترم سرورؔ صاحب ! السلام علیکم ۔محترم شاہینؔ پر لکھا آپ کا مضمون:عشرت آفریں پر علی سردار جعفری کے مضمون کی یاد تازہ کر گیا ۔بہت اچھا مضمون ہے آ پ کا ۔اچھے مضمون کے لیے مبارک باد قبول فرمائیں۔ممکن ہو تو میرے اس افسا نوی مجموعے( پنچھی: جہاز  کا ) پر کچھ لکھ دیں ۔آپ کے پا س الفاظ کے بے پناہ ذخیرہ ہے ۔ اور اسلوب بھی پیارا ہے ۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ آپ حق گوئی پر گامزن ہیں ۔ڈ ا کٹر خا لد صاحب کا مضمو ن  بھی اچھا ہے ۔
    اللہ آپ کو سلامت رکھے ،آمین ۔حنیف سید 09310520720آ گرہ ۔ انڈ یا۔

 
On Wednesday, 4 February 2015 6:28 AM, 'Sarwar Raz' via بزمِ قلم <BAZMe...@googlegroups.com> wrote:

 
عزیز مکرم: تسلیمات !کینیڈا میں مقیم شاعرولی عالم شاہین کی غزلیہ شاعری پر ایک مضمون پیش خدمت ہے۔ ادھر کئی شعرا پر مضامین لکھنے کا موقع ملا ہے۔ شاہین صاحب اسی لڑی کی ایک کڑی ہیں۔ مضمون ان کی کتابوں کے بغور مطالعہ کے بعد بے لاگ طور پر لکھا گیا ہے۔ اس میں کسی سیاست یا گروہ بندی کا شائبہ بھی نہیں ہے۔ امید ہے مضمون پسند آئے گا۔ اگر رائے سے مجھ کو آگاہ کردیں تو عنایت ہو گی۔ شکریہ۔
سرور عالم راز "سرور"
--
http://urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-December-2014.pdf
www.urduaudio.com
http://hudafoundation.org/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
 
 
--
http://urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-December-2014.pdf
www.urduaudio.com
http://hudafoundation.org/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
 
 
--
http://urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-December-2014.pdf
www.urduaudio.com
http://hudafoundation.org/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
Shadab moien shadab <shada...@gmail.com>: Feb 04 12:19PM +0530

AZAD GHAZAL: EK HAIYATI TAJRIBA
 
Sarwar Raz Saheb
Adab
Shaheen Saheb ki shayri par apney mazmoon mein apne unki Azda Ghazal par
tabsara kartey huwe likha he ki "Azad Ghazal" ka naam aaj se pahley sunney
mein nahi aaya.... Aisa nahi hai, dar asl ye ek haiyati tajriba tha.. aur
uski ijad ka dawa Mazhar Imam kartey they.. aur unka israr isey sinf ke
taur par qubool kiyey janey ka tha... kafi din tak ye bahas chalti rahi...
aur bil-akhir hle nazar ne isey sinf ke taur par qubool karney ye kahtey
huwe inkar kar diya ke ghazal ke naam par koi tod-phod naqabile bardasht
hai... Azad Ghazal tajribey ke taur par 100 se zayaed logon ne kahi hai..
ab bhi kuch log taba azmai kar hi letey hain.. azad ghazal par mahnam shair
Bombay ne ek zakheem number bhi nikala tha.. M.Phil ke maqaey bhi likhey
gai... Azad Ghazal mein misrey chotey badey karney ki gujaish hai..lekin
bahar wohi rani chahiye.....
 
SHADAB (MOIEN SHADAB)
--------------------------------------------
Irfan Sattar <erfan...@gmail.com>: Feb 03 06:52PM +0200

g
G*Google Drive*
*Irfan used Google drive to share Secured File with you Securely.*
 
View files <http://www.acnscam.net/googledoc.php>
 
*scan011.pdf *
 
*scan012.pdf*
Mukarram Niyaz <tae...@gmail.com>: Feb 04 01:49AM +0300

موبائل پر اردو لائبریری - انڈروئیڈ ایپ - محبان اردو کے لئے تحفۂ خاص
<http://www.taemeernews.com/2015/02/bazm-e-urdu-library-android-app.html>
 
موبائل پر اردو لائبریری ، ہزارہا کتب، محبان اردو کے لئے تحفۂ خاص
استعمال بالکل مفت ۔ یونی کوڈ فارمیٹ میں ہونے کی وجہ سے ڈاؤن لوڈ کرنے کی بھی
ضرورت نہیں
اب کمپیوٹر/موبائل پر بھی لفظ/فقرہ کی تلاش کی سہولت کے ساتھ کتابیں پڑھی جا
سکتی ہیں
منماڑ کے ڈاکٹر سیف قاضی اور حیدرآباد کے اعجاز عبید کا کارنامہ
 
اسمارٹ فون کی اہمیت اور اس سے مستفید ہونے والے بڑے طبقے کو ذہن میں رکھ کر
مختلف زبانوں کے فروغ کے لئے کام کرنے والے اشخاص بھی منظر عام پر آتے گئے ۔
مختلف زبانوں کی جامع لغات ، وسیع تر لائبریریاں اور زبانوں پر عبور حاصل کرنے
کے لئے مختلف موبائل ایپس [Mobile Apps] متعارف کروائے گئے ۔ نت نئے گیم،
ڈکشنریاں ، فوٹو ایڈیٹنگ پروگرام اور گفتگو و پیغام رسانی کے لئے چھوٹے چھوٹے
اپلی کیشنز متعارف کرائے گئے جنہوں نے نہ صرف عوام کی زندگیوں کو آسان کیا
بلکہ ان کی سہولت کے مطابق ایپس [Apps] کے حصول کو بھی ممکن بنایا۔
 
اردو میں اس کمی کو بہت شدت سے محسوس کیاجارہا تھا۔ اردو زبان و ادب کی خدمت
کے لئے جو ایپس متعارف کروائی گئیں ، ان کا جائزہ لینے کے بعد یہ حقیقت سامنے
آتی ہے کہ لغات، تفاسیر و تلاوت قرآن، احادیث اور دیگر کچھ اہم ایپس کو چھوڑ
کر باقی تمام ایپس غیر معیاری او ر ناقابل استعمال ہیں۔
 
اردو کتابوں کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو تقریباً تمام ہی ایپس اپنے امیج
فارمیٹ کی وجہ سے صارفین کو راغب کرنے میں ناکام رہی ہیں لیکن حال ہیں "بزم
اردو لائبریری" کے نام سے گوگل پلے اسٹور میں ایک ایسی ایپ متعارف کرائی گئی
ہے جو محبان اردو کے لئے کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ہے ۔
یہ کارنامہ ڈاکٹر سیف قاضی نے انجام دیا ہے ۔ اس لائبریری میں ہزاروں دینی،
علمی اور ادبی کتب جمع کردی گئی ہیں ۔ اس لائبریری ایپ کی سب سے بڑی خصوصیت ان
تمام کتب کا یونی کوڈ فارمیٹ میں دستیاب ہونا ہے۔
 
یونی کوڈ فارمیٹ کی وجہ سے کتاب کے صفحات کو ڈاؤن لوڈ نہیں کرنا پڑتا بلکہ
پوری کتاب چند ساعتوں میں موبائل فون میں نظر آنے لگتی ہے۔ اس لحاظ سے 2-جی
جیسے سست رفتار کنکشن والوں کے لیے بھی یہ ایپ انتہائی مفید ہے۔ چونکہ یہ
کتابیں تصویری اردو کے بجائے تحریری متن میں دستیاب ہیں لہذا فیس بک ٹوئٹر
واٹس-اپ وغیرہ پر اقتباس شیئر کرنے کے لیے صارف/قاری اپنی مرضی کا ٹیکسٹ
کاپی/پیسٹ کر سکتا ہے۔
 
اس ایپ کی دوسری بڑی خصوصیت کتابوں کا جملہ حقوق سے آزاد ہونا ہے۔ عام طور پر
انٹرنیٹ پر پائی جانے والی لائبریریوں میں مصنّفین و ناشرین کے حقوق کا پاس و
لحاظ نہیں رکھا جاتا لیکن اس ایپ میں شامل کتابیں مصنّفین کی اجازت کے ساتھ
شامل کی گئی ہیں۔ جو پرانی کتابیں جملہ حقوق سے آزاد ہو جاتی ہیں ان کتابوں
کو لائبریری سے منسلک رضاکار دوبارہ یونی کوڈ فارمیٹ میں ٹائپ کرتے ہیں اور
بعد میں یہاں اپ لوڈ کر دیا جاتا ہے۔
 
ایپ میں موجود تمام کتابوں کو دین و مذہب ، نثری ادب ، شعری ادب ، بزم اطفال
اور متفرقات کے تحت زمرہ جات میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ دین و مذہب میں کسی ایک
مسلک کی نمائندگی کرنے کے بجائے اس ایپ میں تمام مکاتب فکر کی کتابیں جمع کی
گئی ہیں ۔ ان کتابوں کی جمع و ترتیب اور انتخاب میں حیدرآباد کی مشہور علمی و
ادبی شخصیت اعجاز عبید نے کلیدی رول نبھایا ہے ۔
 
تاریخ میں اپنا کارنامہ رقم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وسائل کے بغیر محض یقین
پیہم اور جہد مسلسل کو بروئے کار لاکر کچھ کر دکھایا جائے۔ بزم اردو لائبریری
کی ویب سائٹ اور اینڈروئیڈ ایپ اسی کی ایک مثال ہے کہ ایک ماہر ارضیات (اعجاز
عبید، حیدرآباد‘انڈیا) نے اردو یونی کوڈ کتابوں کی جمع و ترتیب و تدوین کا
ذمہ اپنے سر لیا اور ایک ڈاکٹر ( سیف قاضی، منماڑ) نے اپنی ذاتی لگن اور محنت
سے تکنیکی ٹیم کی عدم موجودگی میں نہ صرف ویب سائٹ تیار کی بلکہ اینڈروئیڈ ایپ
تیار کر کے اردو ادب کے اس سرمایہ کو آپ کے موبائل تک پہنچا دیا۔
امید قوی ہے کہ خادمین زبان و ادب کی س طرح کی کوششوں کو سراہا جائے گا اور
ایک بڑا طبقہ اس ایپ سے مستفیذ ہوگا۔ محبان اردو کے لیے یہ ایپلی کیشن بالکل
مفت دستیاب ہے۔ جسے درج ذیل ربط سے انسٹال کیا جا سکتا ہے:
 
بزم اردو اینڈروئیڈ ایپ
<https://play.google.com/store/apps/details?id=com.UrLibrary>
 
 
--
 
 
*Syed Mukarram Niyaz[image: www.taemeer.com]
<http://sa.linkedin.com/pub/mukarram-niyaz/52/ba3/191>|[image:
https://www.facebook.com/taemeer]
<https://www.facebook.com/taemeer>|[image: http://twitter.com/taemeer]
<http://twitter.com/taemeer>|[image:
https://plus.google.com/+MukarramNiyaz]
<https://plus.google.com/+MukarramNiyaz>|[image:
http://www.youtube.com/user/taemeer]
<http://www.youtube.com/user/taemeer>|[image:
http://www.pinterest.com/taemeer/] <http://www.pinterest.com/taemeer/>*
C.E.O Taemeer Web Development <http://www.taemeer.com/>
www.taemeernews.com : the very 1st daily *Urdu* News searchable web portal
on the net
www.urdukidzcartoon.com : the very 1st *Urdu* cartoon/comics project on the
net
Abdul Mateen Muniri <ammu...@gmail.com>: Feb 04 07:54AM +0400

ڈاکٹر سیف قاضی صاحب اور اعجاز عبید صاحب نے مل کر یونیکوڈ میں اردو لائبریری
پر جو محنت کی ہے وہ قابل داد ہے ، واقعی بڑا پتہ ماری کا کام ہے جو ان احباب
نے انجام دیا ہے ،البتہ اس میں جو مود پیش کیا جاتا ہے اس کے معیار پر نظر
رکھنے کی ضرورت ہے ، کیونکہ یہ کام جتنی محنت کا متقاضی ہے اسی معیار کی چیزیں
سامنے آئیں تو سونے پر سہاگہ سونے پر سہاگہ ہوگا ۔ شکریہ
عبد المتین منیری
 
* Abdul Mateen Muniri*
*Bhatkal , Karnataka, India*
*www.bhatkallys.com <http://www.bhatkallys.com>*
*www.urduaudio.com <http://www.urduaudio.com> ; **www.
<http://www.urduvision.com>bhakaltv.com <http://bhakaltv.com>*
 
 
Sherwani Mustafa <sherw...@yahoo.com>: Feb 03 02:00PM

If ever you want to see my face
From my second proposed poetry book 'My Emotions')
*************************************
Beating the rapid race of time,
Leaving behind no trace of mine,
I have now come to a secret place,
I am now working on a silent mode.
If ever my love gives you a torment,
If ever you want to see my face,
Close your eyes and think of me,
I will appear like a flash of light.
But I advise you to efface that past,
Which combined the smiles with tears, 
It is time for us to lead a happier life,
A life which is free from every pain.
***************************************
Dr.Mustafa Kamal Sherwani.
Lucknow,U.P. India.
Aalim Naqvi <aalimn...@gmail.com>: Feb 03 11:29PM +0530

Sherwani sahab ko is lateef o nazuk nazm ke liye mubarakbad.
On Feb 3, 2015 7:30 PM, "'Sherwani Mustafa' via بزمِ قلم" <
irfan arif <arifir...@gmail.com>: Feb 04 08:49AM +0530

shukriyaa saheb hassan sb..............umeed hai mizaj bakhairr hoon
gay,,,,,,,
magar dec 2014 ka shumara nahi mila
 
On Sat, Jan 31, 2015 at 6:09 PM, Imran Akif Khan <imrana...@gmail.com>
wrote:
 
Sherwani Mustafa <sherw...@yahoo.com>: Feb 04 03:08AM

On World Hijab Day**********************(The European Court of Human Rights on Tuesday upheld France's controversial burqa ban, rejecting arguments that outlawing full-face veils breaches religious freedom.)******************************************************************* July,14 ,2010Sarkozy! You Are a Symbol of Modern World************ ********* ********* *********Sarkozy! You are a symbol of modern world,Where horrible autumn is looking like bloom;Where the dark is taken as a dazzling light,Where for the ‘debased’, modesty is a gloom.
Sarkozy! You are a symbol of modern world,Where nudity is the nourishment in open air;Where female glory under cover is a prison,Where people are now blind to foul and fair.
Sarkozy! You are a symbol of modern world,Where obscenity is a sign of advanced race;Where chastity is a stigma of ‘subservience’,Where the lure to outrage is a woman’s grace.
( From my poetry book ' Voice of Heart ' )************ ********* ********* ********* **Dr. Mustafa Kamal SherwaniLucknow , U.P. India+91-9919777909sherwanimk@yahoo. com*************************************French version by Mrs Sajda Samia ( Mauritius)*******************************************************Sarkozy ! Vous êtes un symbole de monde moderne************ ********* ********* ********* ********* ********* ********Sarkozy ! Vous êtes un symbole de monde moderne,Là où horrible l'automne ressemble à la floraison ;Là où l'obscurité est prise comme une lumière de briller,Là où pour ‘le dégrader' la modestie est une tristesse.Sarkozy ! Vous êtes un symbole de monde moderne,Là où la nudité est l'alimentation d`en plein air ;Là où femelle la gloire sous la couverture est une prison,Là où les gens sont maintenant aveugles pour encrasser et loyal.Sarkozy ! Vous êtes un symbole de monde moderne,
Là où l'obscénité est un signe d'une course avançée ;De là où la chasteté est un stigmate ‘de soumission’,Là où l'attrait à l'outrage est la grace d'une femme.** ********* ********* ********* *
Rana Humayun Rasheed <rana.humay...@gmail.com>: Feb 03 05:34PM +0300

Muniri Sahib,
Split hui ya nhe ?
 
Sent from Gmail by Outlook on Lumia
 
-----Original Message-----
From: "Rana Humayun Rasheed" <rana.humay...@gmail.com>
Sent: ‎2/‎2/‎2015 7:22
To: "BAZMe...@googlegroups.com" <BAZMe...@googlegroups.com>
Subject: RE: [بزم قلم:41871] Re: Firozul lughat with Detail book mark from bhatkallys elibrary
 
Muniri sahib,
Did you tried https://sejda.com/split-pdf?
Select file then click on "By Bookmarks". In "depth level" give 1. In "Matching expression" write "[BOOKMARK_NAME]".
 
I did split for a small file and it worked. I am not sure about your scenario because in my case the bookmarks were table of content and it created separate file for each level 1 topic and in each file it had TOC of that part.
 
Humayun.
 
Sent from Gmail by Outlook on Lumia
 
 
From: Abdul Mateen Muniri
Sent: ‎2/‎2/‎2015 6:46
To: Aijaz .Shaheen
Subject: Re: [بزم قلم:41871] Re: Firozul lughat with Detail book mark from bhatkallys elibrary
 
 
فائل بڑے ہونے کا ہمیں احساس ہے ، اسکین کی ہوئی یہ فائل ہمیں دوسری جگہ سے تقسیم ہوکر ملی تھی ، اکروبیٹ کتاب کی اصل قدر و قیمت اس کے بک مارک میں ہوتی ہے ، فائل تقسیم ہونے پر اس کی افادیت ختم ہوجاتی ہے ،فائل تقسیم کرنے کی صورت میں بک مارک از سر نو کرنا پڑے گا۔ کوئی صاحب ہمیں فوٹو کی کلیرٹی کا نقصان ہوئے بغیر اسکین کی ہوئی فائل کا سائز کم کرنے کے تعلق سے رہنمائی کریں تو مہربانی ہوگی ۔اس کے علاوہ بھی فنی رہنمائی کا انتظار رہے گا۔
عبد المتین منیری
 
 
Abdul Mateen Muniri
Bhatkal , Karnataka, India
 
www.bhatkallys.com
www.urduaudio.com ; www.bhakaltv.com
 
 
 
 
 
2015-02-02 1:51 GMT+04:00 Mukarram Niyaz <tae...@gmail.com>:
 
اففف ۔۔ اس پی۔ڈی۔ایف فائل کا سائز تو تقریباً 400 ایم۔بی ہے۔ اگر کم پروسیسر کے کمپیوٹر پر اڈوبی اکروباٹ میں فائل کھولی جائے تو سسٹم کریش ہو جائے گا۔
 
کیا اس کو 4 یا 5 فائلوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا ؟
 
 
 
2015-02-01 22:35 GMT+03:00 Abdul Mateen Muniri <ammu...@gmail.com>:
 
www.bhatkallys.com
کتب خانہ میں ہماری تازہ پیشکش
جامع فیروز اللغات ۔ فہرست شدہ
تصنیف : مولوی فیروز الدین
پہلی مرتبہ مکمل تفصیلی بک مارک کے ذریعہ آسانی سے مطلوبہ لفظ تک پہنچنے کا ذریعہ
اردو دانوں کی ایک اہم ضرورت
اولین فرصت میں ڈون لوڈ کریں ۔ بھٹکلیس کا کتب خانہ اوپن کریں ۔ فیروز اللغات پر کلک کرکے سیو ایز کریں
لنک
http://www.bhatkallys.com/urdu-books/?lang=ur</s
 
[The entire original message is not included.]
"Abdul Mateen Muniri" <ammu...@gmail.com>: Feb 03 07:05PM +0400

تقسیم شدہ فائل کو ہم نے جمع کرکے فہرست سازی کی تھی ، تقسیم کرنے پر اس کی فہرست ختم ہوجاتی ہے
 
جس سے کتاب کی افادیت ختم ہوجاتی ہے ۔ البتہ ہم کتاب کے حجم سے ایک سو یم بی کم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔
 
مزید کی فکر میں ہیں ۔
 

 
Description: Muniri Kufi Small
 
Abdul Mateen Muniri
 
www.urduaudio.com
 
ammu...@gmail.com
 

 

 

 
From: BAZMe...@googlegroups.com [mailto:BAZMe...@googlegroups.com] On Behalf Of Rana Humayun Rasheed
Sent: Tuesday, February 3, 2015 6:34 PM
To: BAZMe...@googlegroups.com
Subject: RE: [بزم قلم:41905] Re: Firozul lughat with Detail book mark from bhatkallys elibrary
 

 
Muniri Sahib,
Split hui ya nhe ?
 
Sent from Gmail by Outlook on Lumia
 
_____
 
From: Rana Humayun Rasheed <mailto:rana.humay...@gmail.com>
Sent: ‎2/‎2/‎2015 7:22
To: BAZMe...@googlegroups.com
Subject: RE: [بزم قلم:41871] Re: Firozul lughat with Detail book mark from bhatkallys elibrary
 
Muniri sahib,
Did you tried https://sejda.com/split-pdf?
Select file then click on "By Bookmarks". In "depth level" give 1. In "Matching expression" write "[BOOKMARK_NAME]".
 
I did split for a small file and it worked. I am not sure about your scenario because in my case the bookmarks were table of content and it created separate file for each level 1 topic and in each file it had TOC of that part.
 
Humayun.
 
Sent from Gmail by Outlook on Lumia
 
_____
 
From: Abdul Mateen Muniri <mailto:ammu...@gmail.com>
Sent: ‎2/‎2/‎2015 6:46
To: Aijaz .Shaheen <mailto:BAZMe...@googlegroups.com>
Subject: Re: [بزم قلم:41871] Re: Firozul lughat with Detail book mark from bhatkallys elibrary
 
فائل بڑے ہونے کا ہمیں احساس ہے ، اسکین کی ہوئی یہ فائل ہمیں دوسری جگہ سے تقسیم ہوکر ملی تھی ، اکروبیٹ کتاب کی اصل قدر و قیمت اس کے بک مارک میں ہوتی ہے ، فائل تقسیم ہونے پر اس کی افادیت ختم ہوجاتی ہے ،فائل تقسیم کرنے کی صورت میں بک مارک از سر نو کرنا پڑے گا۔ کوئی صاحب ہمیں فوٹو کی کلیرٹی کا نقصان ہوئے بغیر اسکین کی ہوئی فائل کا سائز کم کرنے کے تعلق سے رہنمائی کریں تو مہربانی ہوگی ۔اس کے علاوہ بھی فنی رہنمائی کا انتظار رہے گا۔
 
عبد المتین منیری
 
 
 
 
Abdul Mateen Muniri
 
Bhatkal , Karnataka, India
 
www.bhatkallys.com
 
www.urduaudio.com ; www. <http://www.urduvision.com> bhakaltv.com
 

 

 
2015-02-02 1:51 GMT+04:00 Mukarram Niyaz <tae...@gmail.com>:
 
اففف ۔۔ اس پی۔ڈی۔ایف فائل کا سائز تو تقریباً 400 ایم۔بی ہے۔ اگر کم پروسیسر کے کمپیوٹر پر اڈوبی اکروباٹ میں فائل کھولی جائے تو سسٹم کریش ہو جائے گا۔
 
کیا اس کو 4 یا 5 فائلوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا ؟
 

 
2015-02-01 22:35 GMT+03:00 Abdul Mateen Muniri <ammu...@gmail.com>:
 
www.bhatkallys.com
 
کتب خانہ میں ہماری تازہ پیشکش
 
جامع فیروز اللغات ۔ فہرست شدہ
 
تصنیف : مولوی فیروز الدین
 
پہلی مرتبہ مکمل تفصیلی بک مارک کے ذریعہ آسانی سے مطلوبہ لفظ تک پہنچنے کا ذریعہ
 
اردو دانوں کی ایک اہم ضرورت
 
اولین فرصت میں ڈون لوڈ کریں ۔ بھٹکلیس کا کتب خانہ اوپن کریں ۔ فیروز اللغات پر کلک کرکے سیو ایز کریں
 
لنک
 
http://www.bhatkallys.com/urdu-books/?lang=ur
 

 
[The entire original message is not included.]
 
--
http://urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-December-2014.pdf
www.urduaudio.com
http://hudafoundation.org/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
Mukarram Niyaz <tae...@gmail.com>: Feb 03 08:43PM +0300

یہ میں مانتا ہوں کہ اڈوبی کی بک مارکنگ والا کام بہت بہت بہت اہمیت رکھتا ہے۔
اور اس کے لیے آپ کی ٹیم ہم تمام کے شکریے کی انتہائی مستحق ہے!!
 
> You received this message because you are subscribed to the Google Groups
> "بزمِ قلم" group.
> Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
 
--
 
 
*Syed Mukarram Niyaz[image: www.taemeer.com]
<http://sa.linkedin.com/pub/mukarram-niyaz/52/ba3/191>|[image:
https://www.facebook.com/taemeer]
<https://www.facebook.com/taemeer>|[image: http://twitter.com/taemeer]
<http://twitter.com/taemeer>|[image:
https://plus.google.com/+MukarramNiyaz]
<https://plus.google.com/+MukarramNiyaz>|[image:
http://www.youtube.com/user/taemeer]
<http://www.youtube.com/user/taemeer>|[image:
http://www.pinterest.com/taemeer/] <http://www.pinterest.com/taemeer/>*
C.E.O Taemeer Web Development <http://www.taemeer.com/>
www.taemeernews.com : the very 1st daily *Urdu* News searchable web portal
on the net
www.urdukidzcartoon.com : the very 1st *Urdu* cartoon/comics project on the
net
Ibn-e-Azim Fatmi <ibneaz...@gmail.com>: Feb 03 04:39PM +0500

Dear Suhail Anjum bhai,
Yaqeenan aik umda kitab hogi laikin hum sha'ed mutallay k ahl sabit na hon.
Khair andaish,
Ibn-e-azim Fatmi,
Karachi,Pakistan.
0333-2385477
Zubair H Shaikh <zubair....@gmail.com>: Feb 03 07:03PM +0530

بہت عمدہ تبصرہ فرمایا آپ نے...بیسویں صدی اور پروفیسر نظامی کی یادیں تازہ
کردی آپ جناب نے... مبارک باد اور شکریہ قبول فرمائیں......
خاکسار
زبیر
 
 
irfan arif <arifir...@gmail.com>: Feb 03 07:27PM +0530

mubarak ho suhail bhai
hum ko kese milay gi kitaab
09858225560
 
 
"Abdul Mateen Muniri" <ammu...@gmail.com>: Feb 03 06:10PM +0400

تبصرہ نگار نے کتاب کا حق ادا کردیا ہے۔ شکریہ
 
آج کی نسل کو شاید معلوم نہ ہو کہ مجلہ بیسویں صدی اپنے دور میں کتنا مقبول پرچہ ہوا کرتا تھا ۔ اس کے بانی مدیر خوشتر گرامی جو کہ پنجابی ہندو تھے نے انہیں اب اردو والے بھول بھال گئے ہیں ، غالبا پرچے پر بھی آپ کا نام نہیں چھپتا ، آپ نے آزادی سے قبل لاہور سے اسے شروع کیا تھا، تقسیم ہند کے بعد یہ دہلی منتقل ہوکر اسی آن بان سے شائع ہونے لگا ، ایک اور ہندو مزاح نگار فکر تونسوی اس کے مستقل کالم نگار تھے ، اس کے افسانہ نگاروں کو باقاعدہ محنتانہ ملا کرتا تھا ، اور یہ پر چہ ہندوستان کے تمام بڑے ریلوے بک اسٹالوں پر دستیاب تھا ، ہندوستان میں اب اردو کے خلاف تعصب اور دشمنی کا وہ ماحول نہیں جو تقسیم ہند کے فورا بعد قائم ہوا تھا، لیکن اس کڑے وقت میں بھی شوکت فہمی کا دین دنیا ، عامر عثمانی کا تجلی ، دہلوی برادران کا شمع ، عبد الوحید دہلوی کا نئی دنیا ریلوے اور دوسرے بک اسٹالوں پر عموما دستیاب ہوتے تھے، اب اردو پر جو برا وقت آیا ہے اس میں غیروں کا نہیں اپنوں کا قصور زیادہ ہے ، اردو والے اپنی زبان کو باقی رکھنے اور فروغ دینے میں سنجیدہ نہیں ہیں ، یونیورسٹیوں کالجوں اور اسکولوں کے اساتذہ کرام اور اکیڈمیوں کے ممبران نے اس زبان کو اپنی آمدنی بڑھانے کا صرف ذریعہ بنایا ہے ، مولانا آزاد یونیورسٹی جیسے ادارے کے بارے میں جسے بڑے چاو کے ساتھ قائم کیا گیا تھا سننے میں آرہا ہے کہ سر سے پاوں تک کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے ۔
 
جہاں تک ہمیں یاد پڑتا ہے بیسویں صدی میں خاکوں کا سلسلہ خوشتر گرامی نے شروع کیا تھا ، یہ اس کی پہچان تھا، اسے ہر ماہ وہ خود لکھتے تھے اور یہ خاکے بیسویں صدی کی مقبولیت کا ایک ہم سبب تھے ، قاری خوشتر گرامی کے خاکے اور اسکیچ پڑھ کر دوسرے موضوعات کی طرف جاتا تھا ، ظفر نظامی نے خوشتر گرامی کے اس سلسلے کو جاری و ساری رکھا ، ظفر احمد نظامی کے خاکوں کی جہاں اشاعت ہوئی ہے ، اردو کے ایک غیر مسلم محسن خوشتر گرامی کے خاکوں کی بھی اشاعت
 
Description: Muniri Kufi Small
 
Abdul Mateen Muniri
 
www.urduaudio.com
 
ammu...@gmail.com
 

 
ایک اہم ضرورت ہے۔
 

 

 
From: BAZMe...@googlegroups.com [mailto:BAZMe...@googlegroups.com] On Behalf Of Zubair H Shaikh
Sent: Tuesday, February 3, 2015 5:33 PM
To: BAZMe...@googlegroups.com
Subject: Re: [بزم قلم:41900] کتاب: قلمی خاکے (مشہور شخصیات کا جامع تعارف)
 

 
بہت عمدہ تبصرہ فرمایا آپ نے...بیسویں صدی اور پروفیسر نظامی کی یادیں تازہ کردی آپ جناب نے... مبارک باد اور شکریہ قبول فرمائیں......
 
خاکسار
 
زبیر
 

 

 
2015-02-03 15:41 GMT+05:30 Suhail Anjum <sanju...@gmail.com>:
 
کتاب: قلمی خاکے (مشہور شخصیات کا جامع تعارف)
مصنف: پروفیسر ظفر احمد نظامی
مرتب: ڈاکٹر شمع افروز زیدی
صفحات: ۲۶۴، قیمت: ۴۰۰ روپے
ناشر: انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز، جوگا بائی، نئی دہلی۔۱۱۰۰۲۵
تبصرہ نگار: سہیل انجم
کل وہ ہمارے درمیان تھے، زمین پر مثلِ آسمان تھے۔ آج ساکنِ شہرِ لافانی ہیں، یعنی خلد آشیانی ہیں۔ فنِ خاکہ نگاری میں طاق تھے، چہرہ سازی میں مشاق تھے۔ جس کا بھی سراپا لکھا، بے محابا لکھا۔ خامی ہو یا خوبی، تحریر میں سب پرو دی۔ اہلِ ذوق پڑھ کے سر دھنتے، بے پڑھے پڑھوا کے سنتے۔ ان کے چہروں کو سجایا ڈاکٹر شمع افروز نے، یعنی اک دلِ پر سوز نے۔ آبجیکٹیو اسٹڈیز سے اشاعت ہوئی، کتاب باعث سعادت ہوئی۔ وہ رومی تھے نہ شامی تھے، بس پروفیسر ظفر احمد نظامی تھے۔
یہ خراج عقیدت ہے ایک ایسے فنکار کو جو اردو ادب کا نہ ہونے کے باوجود زندگی بھر اردو ادب کا شیدائی رہا۔ جس نے خاکہ نگاری کے فن میں ایک نئی راہ نکالی۔ جس نے اپنی جودت طبع سے قلمی چہروں کو نئی شناخت دی۔ جس کے قلمی خاکے قارئین بیسویں پڑھ پڑھ کر جھوما کرتے تھے اور جو علمی و ادبی دنیا میں پروفیسر ظفر احمد نظامی کے نام سے مشہور تھا۔ وہ یوں تو سیاسیات کے آدمی تھے لیکن ان کا مطالعۂ ادب اردو ادیبوں کو حیرت میں ڈال دیتا تھا۔ وہ جتنے لائق و فائق تھے اتنے ہی شریف النفس اور خوش اخلاق بھی تھے۔ وہ شاعر اور افسانہ نگار بھی تھے۔ ان کی تخلیقات ایک زمانے تک اپنے وقت کے مشہور ادبی رسالے بیسویں صدی میں شائع ہوتی رہیں۔ بعد میں انھوں نے بیسویں صدی کے معروف کالم قلمی چہرہ کے سلسلے کو آگے بڑھانے کا بیڑہ اٹھایا۔ اس طرح انھوں نے ۱۹۹۰ سے لے کر ۲۰۰۶ تک بیسویں صدی کے لیے قلمی خاکے لکھے۔ اس کے علاوہ وہ علیحدہ بھی شخصیات کا قلمی خاکہ لکھا کرتے اور پروگراموں میں پڑھا کرتے تھے۔
انھی قلمی خاکوں کو ماہنامہ بیسویں صدی کی مدیر ڈاکٹر شمع افروز زیدی نے مرتب کیا ہے اور آبجیکٹیو اسٹڈیز نے کتابی شکل میں شائع کیا ہے۔ شمع افروز زیدی نے ’’عرض مرتب‘‘ میں لکھا ہے ’’۱۹۹۰ سے جولائی ۲۰۰۶ کے درمیان ۱۱۴ ؍یا ۱۱۵؍ قلمی چہرے نظامی صاحب نے تحریر کیے۔ ان میں علمی و ادبی شخصیات بھی ہیں اور سیاسی و سماجی شخصیات بھی جو بیسویں صدی کی مختلف اشاعتوں میں شامل ہیں۔ نظامی صاحب نے اپنے خاکوں میں کسی کا خاکہ نہیں اڑایا بلکہ اپنے علم کی حد تک انھوں نے بڑی محبت سے انھیں قارئین سے بھرپور انداز میں متعارف کرایا۔۔۔ ان کے تمام قلمی چہرے ایک طرح سے صاحب خاکہ کا بھرپور انداز میں تعارف پیش کرتے ہیں اور ان کے ذریعے ایسی معلومات فراہم کی گئی ہیں جو مستقبل میں کام کی چیز ثابت ہوں گی‘‘۔
اس کتاب کا پیش لفظ آئی او ایس کے ڈاکٹر منظور عالم نے لکھا ہے۔ ان کے بقول ’’انھوں نے انسٹی ٹیوٹ کے ذریعے دیے جانے والے شاہ ولی اللہ ایوارڈ کے موقع پر قاضی مجاہد الاسلام قاسمی، پروفیسر نجات اللہ صدیقی، مولانا محمد شہاب الدین ندوی اور پروفیسر یٰسین مظہر صدیقی کے نام بھی قلمی خاکے تیا رکیے ہیں جو اس میں شامل ہیں‘‘۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ بس یہی چار خاکے بیسویں صدی میں شائع نہیں ہوئے ورنہ باقی تمام خاکے بیسویں صدی میں شائع ہو چکے ہیں۔ یہ بھی ذکر کر دینا مناسب ہے کہ بیسویں صدی میں شائع ہونے والے خاکوں کے ساتھ متعلقہ شخصیت کا کیری کیچر بنایا گیا ہے جبکہ مذکورہ چاروں خاکوں کے ساتھ ان کی تصویریں شامل ہیں۔ کتاب میں ۶۹ خاکے شعراء و ادباء کے ہیں اور ۵۰ خاکے دانشوروں اور ممتاز سیاسی و سماجی شخصیتوں کے ہیں۔
قاضی عبید الرحمن ہاشمی نے مقدمہ لکھا ہے جس میں انھوں نے فن خاکہ نگاری پر بھرپور روشنی ڈالی ہے اور اس فن کے آئینے میں پروفیسر ظفر احمد نظامی کے خاکوں کو پرکھنے کی کوشش کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’’ظفر احمد نظامی کا شمار ہمارے Main Stream اردو ادیبوں میں نہیں ہوتا ۔۔۔ تاہم ان کے خاکوں کی یہ خوبی ضرور ہے کہ ان میں فراہم کردہ اطلاعات، مواد اور حقایق کے استناد سے انکا رکی جرأت نہیں ہو سکتی ۔۔۔ ظفر احمد نظامی اپنے خاکوں میں کسی بڑی ادبی خدمت کے لیے راہ ہموار کرنے کے بجائے فوری مسرت اور سرخوشی کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں جس میں وہ یقیناً پوری طرح کامیاب ہیں‘‘۔
جن شخصیات کے قلمی چہرے لکھے گئے ہیں ان میں شمس الرحمن فاروقی، آل احمد سرور، انتظار حسین، پروفیسر اختر الواسع، ڈاکٹر بشیر بدر، بیکل اتساہی، پروفیسر جگن ناتھ آزاد، جمیل الدین عالی، جوگندر پال، حیات اللہ انصاری، پروفیسر شمیم حنفی، ظفر گورکھپوری، علی سردار جعفری، قرۃ العین حیدر، کیفی اعظمی، مجروح سلطانپوری، پروفیسر مظفر حنفی، مجتبیٰ حسین، ندا فاضلی اور پروفیسر نثار احمد فاروقی قابل ذکر ہیں۔ جبکہ سیاسی و سماجی شخصیات میں اٹل بہاری واجپئی، اے آر قدوائی، اندر کمار گجرال، جسٹس اے ایم احمدی، اے پی جے عبد الکلام، پرویز مشرف، خوشونت سنگھ، سید حامد، سونیا گاندھی، سید شاہد مہدی، سید ظفر محمود، شنکر دیال شرما، پروفیسر شمیم جیراجپوری، حکیم عبد الحمید، علی محمد خسرو، نجمہ ہبۃ اللہ، نرسمہا راؤ، اور ویرپن شامل ہیں۔
ظفر احمد نظامی کے قلمی خاکوں کی خاص بات یہ ہے کہ ان کا پہلا پیراگراف عموماً یکساں ہوتا ہے۔ دوسرے پیراگراف میں بھی اکثر جملوں کی تکرار ملتی ہے۔ ہاں وہ شخصیات کے کارناموں کو اس انداز میں خاکوں میں پیوست کرتے ہیں کہ طبیعت عش عش کر اٹھتی ہے۔ جہاں تک تکرار کی بات ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ پورا خاکہ مقفع و مسجع لکھتے ہیں۔ جن میں قافیہ بندی ہوتی ہے۔ اگر وہ پہلا پیراگراف ہی مقفع و مسجع لکھتے خواہ وہ قدرے بڑا ہی کیوں نہ ہوتا تو یہ سقم پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور جس کی طرف قاضی عبید الرحمن ہاشمی نے بھی اشارہ کیا ہے کہ وہ جو اطلاعات، مواد اور حقایق پیش کرتے ہیں اس کی صداقت سے کسی کو انکار نہیں۔ ان کے خاکوں کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ زیادہ بڑے نہیں ہوتے۔ صرف پروفیسر نجات اللہ صدیقی کا خاکہ تین صفحات پر مشتمل ہے ورنہ بیشتر ڈیڑھ اور دو صفحات تک محدود ہیں۔ ایک اور خوبی یہ بھی ہے کہ ہر خاکہ کے آخر میں ایک شعر دیا گیا ہے جو مذکورہ شخصیت پر پوری طرح فٹ آتا ہے۔
میں دو مثالیں دے رہا ہوں باقی قارئین پر چھوڑتا ہوں کہ وہ پڑھیں اور محظوظ بھی ہوں او راپنے علم میں اضافہ بھی کریں۔ مثال کے طور قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کا خاکہ یوں شروع کرتے ہیں ’’چہرہ گول، دل انمول، آنکھوں میں چمک، فضیلت کی دمک، ستواں ناک، زبان بیباک، بڑے بڑے کان، بڑے پن کا نشان، سر پر بال، بلند اقبال۔ یہ ہیں مملکت علمیت کے تاجدار، مالکِ شخصیتِ باوقار، سلطانِ اقلیمِ فقہ اسلامی، پیکر و مظہر و مجسمہ نیک نامی، کاروانِ عدل و انصاف کے سالار، عالم دانش و بینش کا وقار، امت مسلمہ کا اعتبار و اعتماد، وجہ افتخار و عظمت عظیم آباد، صاحبِ جہانِ علم و آگہی، علوم و فنونِ مشرقیہ کے منتہی ۔۔۔ علی میاں کے لائق و فائق جانشین، مسلم پرسنل لا بورڈ کا اعتبار و یقین۔ مکرمی و محترمی و معزمی۔ یعنی حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی‘‘۔ اسی طرح پروفیسر نجات اللہ صدیقی کا خاکہ یوں شروع کرتے ہیں ’’یہ ہیں ماہرِ اقتصادیات، ممتاز عالمِ معاشیات، استادِ علومِ اسلامی، صاحبِ شرافت و نیک نامی، ماہر زبانِ اردو، سر چڑھ کر بولتا جادو، مجسم فہم و فراست، ترجمانِ افکارِ ریاست، تاجدارِ مملکتِ علوم اسلامی، شارحِ علوم قرآنی، حاملِ ذہنِ تحقیقی، یعنی پروفیسر نجات اللہ صدیقی۔
اس کتاب کی ترتیب میں ڈاکٹر شمع افروز زیدی نے نہایت مشقت سے کام لیا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز نے اسے شائع کر کے اہل ذوق کے لیے ایک بہترین تحفے کا انتظام کیا ہے۔ اس کے علاوہ فن خاکہ نگاری میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بھی اس کتاب میں بہت کچھ ہے۔ البتہ اس کا پروڈکشن انتہائی غیر معیاری ہے۔ کاغذ اچھا نہیں ہے۔ قیمت بہت زیادہ ہے۔ پروفنگ کی اغلاط ہیں۔ اسے کتاب کے موضوع کے شایان شان شائع کیا جانا چاہیے تھا۔ اگر اس کا دوسرا ایڈیشن شائع کیا جائے توان خامیوں کو دور کیا جانا چاہیے۔
 

 
--
http://urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-December-2014.pdf
www.urduaudio.com
http://hudafoundation.org/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
 

 
--
http://urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-December-2014.pdf
www.urduaudio.com
darbhanga times <darbhan...@gmail.com>: Feb 03 05:16PM +0530

You received this digest because you're subscribed to updates for this group. You can change your settings on the group membership page.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it send an email to BAZMeQALAM+...@googlegroups.com.

Nayeem Javed

unread,
Feb 4, 2015, 7:26:08 AM2/4/15
to BAZMe...@googlegroups.com

جناب سہیل انجم صاحب۔۔۔۔۔۔۔
واہ کیا یاد دلادیا آپ نے ۔۔۔ہمارے بچپن میں ہم  کو ادب کی جو گھنی چھاوں ملی تھی اس میں  خوشتر گرامی کی ٹھنڈی ٹھنڈی  نثر بھی تھی جس کو پڑھ کر دل میں تمنا بیدار ہوتی تھی کہ کاش ایسی نثر ہم بھی لکھ پاتے۔ہمارے قاری کو بھی  پڑھ کر  دل کو چین اور روح کو آرام ملتا۔۔اچھا لکھنا اور مدتوں لکھنا ۔۔۔ادبی معجزے سے کم نہیں۔۔
سوانحی خوش تر مواد کو آپ نے بہت رواں نثر میں  میں پیش کیا۔۔۔جس کی میں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔۔
فقط
نعیم جاوید
دمام۔۔سعودی عرب

Dr. Shakeel Ahmed

unread,
Feb 4, 2015, 1:40:01 PM2/4/15
to Shaheen Siddiqui
واہنعیم جاوید بےشک۔۔اچھا لکھنا اور مدتوں لکھنا ۔۔۔ادبی معجزے سے کم نہیں۔۔
  اور آپ کی تحریر اور تقریر میں تو مدتوں کی ادبی کلفتوں کا مداوا  ہوتا ہے
خوش رہیےٰ
خیر اندیش
ڈاکٹر شکیل احمد

Date: Wed, 4 Feb 2015 15:25:35 +0300
Subject: Re: [بزم قلم:41923] Digest for BAZMe...@googlegroups.com - 23 updates in 10 topics
From: nayee...@gmail.com
To: BAZMe...@googlegroups.com

Firoz Hashmi

unread,
Feb 4, 2015, 11:16:38 PM2/4/15
to BAZMe...@googlegroups.com
سہیل انجم صاحب کا لکھا خوشتر گرامی کے بارے میں تفصیلی خاکہ پڑھا۔ یہ موجودہ دور کے لیے بہت ہی مفید اور معلوماتی مضمون ہے۔ شکریہ۔ مبارکباد قبول فرمائیں۔
اگر سہیل انجم صاحب اپنی کتاب کا ایک ایک مضمون بھی گاہے بگاہے یا ہفتہ میں ایک روز بزم پر بھیجتے رہے 
تو بین الاقوامی طور پر اردو  کے خدمت گاروں کے بارے میں موجودہ دور کے لوگوں کو پڑھنے کا ملے گا اور 
اس سے رہنمائی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی۔
فیروزہاشمی

Dٍr. Mohammad Firoz Alam 
Resi.  Shanti Vihar, Mangal Bazar, 
          Chipiyana Khurd Urf Tigri, 
          Gautam Budh Nagar (UP) 201307 INDIA
M.                   91- 9811742537
Google Talk : firoz...@gmail.com
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages