Groups
Groups
Sign in
Groups
Groups
بزمِ قلم
Conversations
About
Send feedback
Help
وفا کے راستے لمبے بہت ہیں
0 views
Skip to first unread message
مهتا ب قدر
unread,
Sep 13, 2011, 8:21:11 AM
9/13/11
Reply to author
Sign in to reply to author
Forward
Sign in to forward
Delete
You do not have permission to delete messages in this group
Copy link
Report message
Show original message
Either email addresses are anonymous for this group or you need the view member email addresses permission to view the original message
to Mahtab Qadr
وفا کے راستے لمبے بہت ہیں
بھٹک جانے کے اندیشے بہت ہیں
زوال آمادہ قوموں کے ہیںیہ لوگ
عمل کم ،گفتگو کرتے بہت ہیں
بہت اونچی بناتے ہیں عمارت
یہاں کے لوگ کیا چھوٹے بہت ہیں
اِنہی میں گُم ہیں شہزادے ہمارے
دریچے خواب نے کھولے بہت ہیں
حقیقت منہ چُھپاتی پھر رہی ہے
یقیں کم،وہم کے چرچے بہت ہیں
عدو کے سامنے ثابت قدم ہوں
مگرپیچھے بھی تو اپنے بہت ہیں
وہی رازق ،وہی خلّا قِ اکبر
توپھر یہ خوف کیوں بچّے بہت ہیں
انا کے پیڑکتنے کھوکھلے ہیں!
بظاہر خوشنما لگتے بہت ہیں
سلیقہ کم ہے اُس میں گفتگو کا
سخن مہتاب کے تیکھے بہت ہیں
مہتاب قدر
Co-Editor Deedahwar
Webmaster
www.urdugulban.com
http://urdugulban.com/forum
میں جہاں بھی رہوں سفر میں ہوں
میرا اصلی وطن مدینہ ہے
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages