Account Options

  1. Sign in
The old Google Groups will be going away soon, but your browser is incompatible with the new version.
Google Groups Home
« Groups Home
چندر بھان خیال کی منظوم سیرت’’ لولاک‘‘ کے ہندی ایڈیشن کا اجرا
There are currently too many topics in this group that display first. To make this topic appear first, remove this option from another topic.
There was an error processing your request. Please try again.
flag
  2 messages - Collapse all  -  Translate all to Translated (View all originals)
The group you are posting to is a Usenet group. Messages posted to this group will make your email address visible to anyone on the Internet.
Your reply message has not been sent.
Your post will appear after it is approved by moderators
 
From:
To:
Cc:
Followup To:
Add Cc | Add Followup-to | Edit Subject
Subject:
Validation:
For verification purposes please type the characters you see in the picture below or the numbers you hear by clicking the accessibility icon. Listen and type the numbers you hear
 
Musa Raza  
View profile   Translate to Translated (View Original)
 More options May 21 2012, 1:09 am
From: Musa Raza <raza...@yahoo.co.in>
Date: Mon, 21 May 2012 13:09:36 +0800 (SGT)
Local: Mon, May 21 2012 1:09 am
Subject: چندر بھان خیال کی منظوم سیرت’’ لولاک‘‘ کے ہندی ایڈیشن کا اجرا

چندر بھان خیال کی منظوم سیرت’’ لولاک‘‘ کے ہندی ایڈیشن کا اجرا
لولاک کے مطالعہ سے اسلام اور جہاد کا صحیح مطلب معلوم ہوا: وشوناتھ تیواری
لولاک میں چندر بھان خیال سنگلاخ وادیوں سے بڑی سبک روی سے گزر گئے ہیں: مولانا عبید اللہ اعظمی

نئی دہلی ۔ ساہتیہ اکادمی میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں اکادمی کے نائب صدر وشو ناتھ پرساد تیواری اور سابق ممبر پارلیمنٹ مولانا عبیداللہ خاں اعظمی نے ملک کے معروف شاعر اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے سابق وائس چیئرمین چندر بھان خیال کی منظوم سیرت ’’لولاک‘‘ کے ہندی ایڈیشن کی رسم اجرا انجام دی۔
اس موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں وشو ناتھ پرساد تیواری نے کہا کہ انھوں نے لولاک کا پورا مطالعہ کیا ہے اور یہ بات بے جھجک کہہ سکتے ہیں کہ اس کتاب سے اسلام اور جہاد کا صحیح مفہوم معلوم ہوا ہے۔ اس کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوا کہ جیسے یہ ہمارے زمانے کی باتیں ہیں اور آج ہم جن حالات سے دوچار ہیں انہی جیسے حالات کا ذکر اس کتاب میں بھی ہے۔ ساہتیہ اکادمی کے نائب صدر نے مزید کہا کہ یہ کتاب صرف محمد ﷺ کی سیرت نگاری ہی نہیں ہے بلکہ اس میں زبردست شاعری بھی پڑھنے کو ملتی ہے۔ پہلے بند سے ہی شاعری اپنا مزا دینے لگتی ہے۔ اس کتاب میں جو بحریں استعمال کی گئی ہیں
 وہ بھی بہت انوکھی ہیں اور ایک بند سے دوسرے بند تک پہنچنے میں ان بحروں نے بڑا دلچسپ سماں باندھ دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ادب اور مذہب کا آپس میں بڑا گہرا ربط ہے۔ آزادی اور مساوات فرانسیسی انقلاب نے نہیں دیے ہیں بلکہ مذاہب نے دیے ہیں۔ پوری دنیا میں انسان کو تعلیم یافتہ بنانے میں مذاہب نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔انھوں نے لولاک جیسی منظوم سیرت نگاری پر چندر بھان خیال کو اور اسے ہندی میں شائع کرنے پر سوراج پرکاشن کو مبارکباد دی۔

’لولاک‘ کا ہندی ترجمہ ساہتیہ اکادمی کے اہم کارکن محمد موسیٰ انصاری (عرف محمد موسیٰ رضا) نے بڑی خوبصورتی سے کیا ہے اور اس کے ہندی ایڈیشن کی اشاعت سوراج پرکاشن نے کی ہے۔

مہمان خصوصی، سابق رکن پارلیمنٹ مولانا عبید اللہ خاں اعظمی نے سیرت رسول پر جامع تقریر کی اور اس حوالے سے چندر بھان خیال کی لولاک کے ہندی ایڈیشن کی اشاعت پر ان کو مبارکباد پیش کی۔ انھو ں نے حضور اکرم ﷺ کی دنیا میں تشریف آوری او راس کے بعد کے حالات پر بھرپور روشنی ڈالی اور کہا کہ تاریخ انسانیت پر سب سے برا وقت چھٹی صدی عیسوی میں پڑا تھا۔ اس وقت اللہ کے رسول نے دنیا کو امن وانسانیت کا پاٹھ پڑھایا۔ انھوں نے جو کچھ کہا اسے کر کے دکھا دیا۔ یہ انسان کی زندگی کے عمل کا سب سے اونچا مقام ہے کہ وہ جو کہے اس کو کر کے دکھائے۔ دنیا میں انسان کہیں کا بھی
 ہو، کسی بھی مذہب کا ہو، کسی بھی نسل کا ہو یا کسی بھی ملک کا ہو، اس کی افضلیت اور اچھائی بحیثیت انسان اللہ سے ڈرنا، عدل وانصاف قائم کرنا، لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور مساوات قائم کرنا ہے۔ مولانا عبید اللہ خاں نے مزید کہا کہ اللہ کے رسول نے ۱۲ فروری ۶۱۰ عیسوی کو بحیثیت پیغمبر اپنی زبان کھولی۔ انھوں نے پہلا پیغام علم اور تعلیم کا دیا۔ وہ ایک امی تھے لیکن آج جو شخص اس امی کو پڑھ لے وہ عالم بن جاتا ہے۔ جو ان کی سیرت نگاری کر دے وہ لولاک ہو جاتی ہے۔ چھٹی صدی عیسوی میں دنیا جہان کی انفرادی خرابیاں اجتماعی قوت کے ساتھ انسانیت کی پشت پر کوڑے
 برسا رہی تھیں۔ ظلم کے ساتھ احساس ظلم مٹ گیا تھا۔ گناہ کرنے پر کوئی شرمندہ نہیں ہوتا تھا۔ ظلم کرنے پر لوگوں کو فخر محسوس ہوتا تھا۔ ایسے حالات میں پیغمبر اسلام کی آمد ہوئی۔ آپ کے آنے سے قبل انسانیت کھلی ہوئی گمراہی میں تھی۔ لیکن آپ نے دنیائے انسانیت کو نیا سبق پڑھایا۔ بدووں کو عالم بنایا، بد معاشوں کو انسان بنایا اور درندوں کو انسانیت کا ہمدرد بنا دیا۔ آپ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ تاریخ میں محفوظ ہو گیا ہے اور دنیا کا ایسا کوئی دوسرا انسان نہیں ہے جس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ تاریخ میں محفوظ ہو گیا ہو۔ چندر بھان خیال نے لولاک لکھ کر یہ
 ثابت کیا ہے کہ انھیں علم وعمل کی دولت حاصل ہو گئی ہے۔

ساہتیہ اکادمی کے سکریٹری اے کرشنا مورتی نے لولاک کے ہندی ایڈیشن کی اشاعت پر چندر بھان خیال اور محمد موسیٰ انصاری کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ انھیں اس کتاب کو دیکھ کر متعدد مصنفوں اور شاعروں کی کتابیں یاد آگئیں۔ اس کتاب کے موضوع نے انہیں بہت متاثر کیا ہے۔

دہلی اردو اکادمی کے وائس چیئرمین اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے سربراہ پروفیسر اختر الواسع نے بھی ادب اور مذہب کے باہمی رشتے پر روشنی ڈالی اور کہا کہ بڑی بڑی تخلیقات خواہ وہ مسلمانوں کی ہوں یا غیر مسلموں کی، ان میں مذہب کہاں شروع ہوتا ہے اور کہاں ختم ہوتا ہے پتہ ہی نہیں چلتا۔ چندر بھان خیال کی منظوم سیرت لولاک کی بھی یہی خوبی ہے۔ یہ پہلے ہندو نہیں ہیں جنھو ں نے نعت رسول کہی ہے۔ ایسے لوگوں کی تعداد بہت ہے۔ لیکن خیال کی منظوم سیرت کو ایک اہم مقام حاصل ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ جب تک ایسے ’’کافر‘‘ موجود ہیں ہم
 مومنوں کو شرم آنی چاہیے۔ چندر بھان خیال کی یہ کوشش لائق تحسین ہے۔ اس کا گجراتی میں بھی ترجمہ ہو گیا ہے او رامید ہے کہ وہ جلد ہی منظر عام پر آئے گا۔

ڈاکٹر مولا بخش نے کہا کہ ہندوستان میں قومی یک جہتی کی ایک شاندار روایت رہی ہے۔ پہلے جب کوئی ہندو کتاب لکھتا تھا تو اس کا آغاز بسم اللہ سے ہوتا تھا اور بہت سے مسلمانوں کی کتابوں کی شروعات شری گنیشائے نمہ سے ہوتی تھی۔ یہ ہندوستانی روایت ہے اور چندر بھان خیال اس روایت کے امین کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ انھوں نے رسول اللہ کو ہندوستانی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ ا س حساب سے ان کا رشتہ میر انیس سے جا کر مل جاتا ہے۔ اس کتاب میں ہندوستانی تشبیہیں اور علامتیں استعمال ہوئی ہیں اور اس کتاب میں شاعری بھی بہت غضب کی دیکھنے کو ملتی ہے۔
ساہتیہ اکادمی میں پروگرام آفیسر ڈاکٹر مشتاق صدف نے متعدد احادیث کے حوالے سے اللہ کے رسول کی سیرت کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی اور خیال کی کتاب لولاک کے بارے میں اظہار خیال کیا۔ انھوں نے کہا کہ چندر بھان خیال نے بارہ برسو ں میں اس کتاب کو مکمل کیا اور اس تعلق سے انھوں نے رسول اللہ کی سیرت کا بہت گہرا مطالعہ کیا تب جا کر یہ کتاب منظر عام پر آسکی ہے۔
ہندی کے شاعر اور ادیب جانکی پرشاد شرما نے انتہائی معلوماتی تقریر میں ہندوستانی تہذیب وثقافت پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ چندر بھان خیال کی یہ کتاب اسی ہندوستانی ثقافت کی ایک اعلی مثال ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں اس کتاب کے مطالعہ سے دو کتابوں کی بے ساختہ یاد آگئی۔ ایک مولانا حالی کی مسدس حالی اور دوسری جے شنکر پرساد کی کاماینی۔ انھوں نے مزید کہا کہ چندر بھان خیال نعت لکھنے والے پہلے ہندو شاعر نہیں ...

read more »


 
You must Sign in before you can post messages.
To post a message you must first join this group.
Please update your nickname on the subscription settings page before posting.
You do not have the permission required to post.
Discussion subject changed to "{11552} چندر بھان خیال کی منظوم سیرت’’ لولاک‘‘ کے ہندی ایڈیشن کا اجرا" by baig ehsas
baig ehsas  
View profile   Translate to Translated (View Original)
 More options May 28 2012, 6:21 am
From: baig ehsas <baig_eh...@yahoo.co.in>
Date: Mon, 28 May 2012 18:21:39 +0800 (SGT)
Local: Mon, May 28 2012 6:21 am
Subject: Re: {11552} چندر بھان خیال کی منظوم سیرت’’ لولاک‘‘ کے ہندی ایڈیشن کا اجرا

ASAK, received photos and reporting.  Thank u. مخلص        
 ڈاکٹر بیگ احساس

________________________________
 From: Musa Raza <raza...@yahoo.co.in>
To: Adabdotcom <adabdotcom@googlegroups.com>
Cc: bazmeqalam@googlegroups.com
Sent: Monday, 21 May 2012 10:39 AM
Subject: {11552} چندر بھان خیال کی منظوم سیرت’’ لولاک‘‘ کے ہندی ایڈیشن کا اجرا

چندر بھان خیال کی منظوم سیرت’’ لولاک‘‘ کے ہندی ایڈیشن کا اجرا
لولاک کے مطالعہ سے اسلام اور جہاد کا صحیح مطلب معلوم ہوا: وشوناتھ تیواری
لولاک میں چندر بھان خیال سنگلاخ وادیوں سے بڑی سبک روی سے گزر گئے ہیں: مولانا عبید اللہ اعظمی

نئی دہلی ۔ ساہتیہ اکادمی میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں اکادمی کے نائب صدر وشو ناتھ پرساد تیواری اور سابق ممبر پارلیمنٹ مولانا عبیداللہ خاں اعظمی نے ملک کے معروف شاعر اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے سابق وائس چیئرمین چندر بھان خیال کی منظوم سیرت ’’لولاک‘‘ کے ہندی ایڈیشن کی رسم اجرا انجام دی۔
اس موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں وشو ناتھ پرساد تیواری نے کہا کہ انھوں نے لولاک کا پورا مطالعہ کیا ہے اور یہ بات بے جھجک کہہ سکتے ہیں کہ اس کتاب سے
 اسلام اور جہاد کا صحیح مفہوم معلوم ہوا ہے۔ اس کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوا کہ جیسے یہ ہمارے زمانے کی باتیں ہیں اور آج ہم جن حالات سے دوچار ہیں انہی جیسے حالات کا ذکر اس کتاب میں بھی ہے۔ ساہتیہ اکادمی کے نائب صدر نے مزید کہا کہ یہ کتاب صرف محمد ﷺکی سیرت نگاری ہی نہیں ہے بلکہ اس میں زبردست شاعری بھی پڑھنے کو ملتی ہے۔ پہلے بند سے ہی شاعری اپنا مزا دینے لگتی ہے۔ اس کتاب میں جو بحریں استعمال کی گئی ہیں وہ بھی بہت انوکھی ہیں اور ایک بند سے دوسرے بند تک پہنچنے میں ان بحروں نے بڑا دلچسپ سماں باندھ دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ادب اور مذہب کا آپس میں بڑا
 گہرا ربط ہے۔ آزادی اور مساوات فرانسیسی انقلاب نے نہیں دیے ہیں بلکہ مذاہب نے دیے ہیں۔ پوری دنیا میں انسان کو تعلیم یافتہ بنانے میں مذاہب نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔انھوں نے لولاک جیسی منظوم سیرت نگاری پر چندر بھان خیال کو اور اسے ہندی میں شائع کرنے پر سوراج پرکاشن کو مبارکباد دی۔

’لولاک‘ کا ہندی ترجمہ ساہتیہ اکادمی کے اہم کارکن محمد موسیٰ انصاری (عرف محمد موسیٰ رضا) نے بڑی خوبصورتی سے کیا ہے اور اس کے ہندی ایڈیشن کی اشاعت سوراج پرکاشن نے کی ہے۔

مہمان خصوصی، سابق رکن پارلیمنٹ مولانا عبید اللہ خاں اعظمی نے سیرت رسول پر جامع تقریر کی اور اس حوالے سے چندر بھان خیال کی لولاک کے ہندی ایڈیشن کی اشاعت پر ان کو مبارکباد پیش کی۔ انھو ں نے حضور اکرم ﷺکی دنیا میں تشریف آوری او راس کے بعد کے حالات پر بھرپور روشنی ڈالیاور کہا کہ تاریخ انسانیت پر سب سے برا وقت چھٹی صدی عیسوی میں پڑا تھا۔ اس وقت اللہ کے رسول نے دنیا کو امن وانسانیت کا پاٹھ پڑھایا۔ انھوں نے جو کچھ کہا اسے کر کے دکھا دیا۔ یہ انسان کی زندگی کے عمل کا سب سے اونچا مقام ہے کہ وہ جو کہے اس کو کر کے دکھائے۔ دنیا میں انسان کہیں کا بھی
 ہو، کسی بھی مذہب کا ہو، کسی بھی نسل کا ہو یا کسی بھی ملک کا ہو، اس کی افضلیت اور اچھائی بحیثیت انسان اللہ سے ڈرنا، عدل وانصاف قائم کرنا، لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور مساوات قائم کرنا ہے۔ مولانا عبید اللہ خاں نے مزید کہا کہ اللہ کے رسول نے ۱۲ فروری ۶۱۰ عیسوی کو بحیثیت پیغمبر اپنی زبان کھولی۔ انھوں نے پہلا پیغام علم اور تعلیم کا دیا۔ وہ ایک امی تھے لیکن آج جو شخص اس امی کو پڑھ لے وہ عالم بن جاتا ہے۔ جو ان کی سیرت نگاری کر دے وہ لولاک ہو جاتی ہے۔ چھٹی صدی عیسوی میں دنیا جہان کی انفرادی خرابیاں اجتماعی قوت کے ساتھ انسانیت کی پشت پر کوڑے
 برسا رہی تھیں۔ ظلم کے ساتھ احساس ظلم مٹ گیا تھا۔ گناہ کرنے پر کوئی شرمندہ نہیں ہوتا تھا۔ ظلم کرنے پر لوگوں کو فخر محسوس ہوتا تھا۔ ایسے حالات میں پیغمبر اسلام کی آمد ہوئی۔ آپ کے آنے سے قبل انسانیت کھلی ہوئی گمراہی میں تھی۔ لیکن آپ نے دنیائے انسانیت کو نیا سبق پڑھایا۔ بدووں کو عالم بنایا، بد معاشوں کو انسان بنایا اور درندوں کو انسانیت کا ہمدرد بنا دیا۔ آپ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ تاریخ میں محفوظ ہو گیا ہے اور دنیا کا ایسا کوئی دوسرا انسان نہیں ہے جس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ تاریخ میں محفوظ ہو گیا ہو۔ چندر بھان خیال نے لولاک لکھ کر یہ
 ثابت کیا ہے کہ انھیں علم وعمل کی دولت حاصل ہو گئی ہے۔

ساہتیہ اکادمی کے سکریٹری اے کرشنا مورتی نے لولاک کے ہندی ایڈیشن کی اشاعت پر چندر بھان خیال اور محمد موسیٰ انصاری کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ انھیں اس کتاب کو دیکھ کر متعدد مصنفوں اور شاعروں کی کتابیں یاد آگئیں۔ اس کتاب کے موضوع نے انہیں بہت متاثر کیا ہے۔  

دہلی اردو اکادمی کے وائس چیئرمین اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے سربراہ پروفیسر اختر الواسع نے بھی ادب اور مذہب کے باہمی رشتے پر روشنی ڈالی اور کہا کہ بڑی بڑی تخلیقات خواہ وہ مسلمانوں کی ہوں یا غیر مسلموں کی، ان میں مذہب کہاں شروع ہوتا ہے اور کہاں ختم ہوتا ہے پتہ ہی نہیں چلتا۔ چندر بھان خیال کی منظوم سیرت لولاک کی بھی یہی خوبی ہے۔ یہ پہلے ہندو نہیں ہیں جنھو ں نے نعت رسول کہی ہے۔ ایسے لوگوں کی تعداد بہت ہے۔ لیکن خیال کی منظوم سیرت کو
 ایک اہم مقام حاصل ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ جب تک ایسے ’’کافر‘‘ موجود ہیں ہم مومنوں کو شرم آنی چاہیے۔ چندر بھان خیال کی یہ کوشش لائق تحسین ہے۔ اس کا گجراتی میں بھی ترجمہ ہو گیا ہے او رامید ہے کہ وہ جلد ہی منظر عام پر آئے گا۔  

ڈاکٹر مولا بخش نے کہا کہ ہندوستان میں قومی یک جہتی کی ایک شاندار روایت رہی ہے۔ پہلے جب کوئی ہندو کتاب لکھتا تھا تو اس کا آغاز بسم اللہ سے ہوتا تھا اور بہت سے مسلمانوں کی کتابوں کی شروعات شری گنیشائے نمہ سے ہوتی تھی۔ یہ ہندوستانی روایت ہے اور چندر بھان خیال اس روایت کے امین کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ انھوں نے رسول اللہ کو ہندوستانی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ ا س حساب سے ان کا رشتہ میر انیس سے جا کر مل جاتا ہے۔ اس کتاب میں ہندوستانی تشبیہیں اور علامتیں
 استعمال ہوئی ہیں اور اس کتاب میں شاعری بھی بہت غضب کی دیکھنے کو ملتی ہے۔
ساہتیہ اکادمی میں پروگرام آفیسر ڈاکٹر مشتاق صدف نے متعدد احادیث کے حوالے سے اللہ کے رسول کی سیرت کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی اور خیال کی کتاب لولاک کے بارے میں اظہار خیال کیا۔ انھوں نے کہا کہ چندر بھان خیال نے بارہ برسو ں میں اس کتاب کو مکمل کیا اور اس تعلق سے انھوں نے رسول اللہ کی سیرت کا بہت گہرا مطالعہ کیا تب جا کر یہ کتاب منظر عام پر آسکی ہے۔
ہندی کے شاعر اور ادیب جانکی پرشاد شرما نے انتہائی معلوماتی تقریر میں ہندوستانی تہذیب وثقافت پر روشنی ڈالی اور
 بتایا کہ چندر بھان خیال کی یہ کتاب اسی ہندوستانی ثقافت کی ایک اعلی
...

read more »


 
You must Sign in before you can post messages.
To post a message you must first join this group.
Please update your nickname on the subscription settings page before posting.
You do not have the permission required to post.
End of messages
« Back to Discussions « Newer topic     Older topic »